26 ربيع الأول 1439 | En | FrDeId | Ru | Tr
مفصل تلاش
عقائد خاندان اور معاشرہ مالی معاملات آداب و اخلاق جرائم اور فیصلے مسائل رسم و رواج نت نئے مسائل و احکام عبادات

سخت غصے کی حالت میں طلاق

.... / کی طرف سے پیش کردہ ۔ فتوی نمبر ٢٧٨٠ بابت سال ٢٠٠٥ء مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو مندرجہ ذیل سوال پر مشتمل ہے:

میں نے اپنی بیوی کو چھتیس سال کی مدت میں تین بار طلاق دے دی ہے، واضح رہے کہ میں شوگر کی بیماری میں مبتلا ہوں اور یہ بیماری اتنی سخت ہے کہ غصے کی حالت میں میں اپنے آپ میں نہیں رہ پاتا ہوں اور بے قابو ہو جاتا ہوں، اور میری بیوی مجھے غصہ دلاتی رہتی ہے اور میں اس کے ساتھ جھگڑا کرتا ہوں اور اس کو تین مرتبہ کہہ دیتا ہوں کہ '' تو مطلقہ ہے''. تو کیا میں اپنی بیوی کو پھر سے اپنے پاس لوٹا سکتا ہوں؟

جواب : فتویٰ کونسل

اگر واقعی حالت ایسی ہو جیسا کہ سوال میں مذکور ہے کہ سوال کرنے والے نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ یہ کہہ ديا کہ تو مطلقہ ہے، اور وہ ایسی بیماری کی حالت میں ہے کہ غصے کے وقت بے قابو ہو جاتا ہے اور اپنے آپ میں نہیں رہتا ہے اور طلاق کہنے کے وقت آپے سے باہر رہتا ہے ، اگر تینوں طلاق کے وقت اس کی یہی حالت تھی تو مذکورہ تینوں طلاقوں میں سے کوئی بھی طلاق واقع نہیں ہوئی.

لہذا سوال کرنے والے اور اس کی بیوی کے درمیان ازدواجی رشتہ اب بھی بر قرار اور جاری ہے .

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے
 

صفحہء اول دار الافتاء کے بارے میں استفتاء ویب سائٹ کا نقشہ آپ کی رائے اور تجویزیں ہم سے رابطہ کریں