قرآن شریف اور اسمائے باری تعالی پر ...

Egypt's Dar Al-Ifta

قرآن شریف اور اسمائے باری تعالی پر مشتمل اوراق کو راستوں پر یا کوڑے دانوں میں ڈالنا

Question

توی نمبر ٢٢٤ بابت سال ٢٠٠٨ء مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل سوال پر مشتمل ہے:

سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں عام طور پر درخواستیں بسم اللہ سے شروع کی جاتی ہيں اور کبھی ان ميں قرآنی آیات بھی بطور دلیل پیش کی جاتیں ہیں، ان میں اللہ تعالی کا نام اور اسمائے حسنی بھی لکھے ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد یہ درخواستیں یا اخباروں کے اوراق، کوڑے دانوں میں پھینکے جاتے ہیں یا راستوں پر ڈال دئے جاتے ہیں اور لوگ ان کو اپنے پیروں تلے روندتے ہیں، اس طرح سے قرانی آیات اور اسمائے الٰہی کی توہین ہوتی ہے، تو اس امر کا کیا حکم ہے؟

Answer

دین اسلام کی معروف ضروریات و بدیہیات میں سے ہے کہ اللہ تعالی کے اسمائے مبارکہ کی اہانت نا جائز امر ہے اسی طرح الله تعالى کا کلام جوعزت والی کتاب میں مرقوم ہے کی توہین بھی نا جائز ہے، اسی طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک کی توہین بھی حرام ہے، اور اگر ان افعال میں سے کسی بھی فعل کو اہانت اور ذلت کے قصد سے کیا جائے تو اس عمل کا مرتکب مرتد اور اسلام سے خارج ہے، اور جس کی غرض یہ نہ ہو مگر صرف دنیائے فانی کو دائمی آخرت پر ترجیح دیتے ہوئے غفلت و سستی سے کام ليتا ہو تو ایسا شخص بڑے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے،اگر اسے اس حکم کا علم ہو اور اس فعل کا ارادہ کیا ہو اور محض اپنے اختیار سے کیا ہو غلطی یا بھول یا زبردستی سے نہ کيا ہو.

واضح رہے کاغذات، ڈبے ، تھیلیوں، پیکنگ، اور سرکاری و غیر سرکاری درخواستوں وغیرہ وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کے نام اور قرآنی آیات لکھنے کا رواج عام ہو گیا ہے ، اور اس سے عام لوگ بڑے حرج میں پڑتے ہیں، کیونکہ ہر شخص پر اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ایسے عمل سے بچنا لازمى ہے ، اور وقت کی تنگی اور انسان کے بس سے باہر ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اس کا پابند کرنا طاقت سے بڑھ کر بوجھ کے زیر بار کرنے کے مترادف ہے اور پابند نہ کرنے کی صورت میں تلخ نتیجہ پیش نظر ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ مقدس اوراق لوگوں کے پیروں تلے روندے جائیں گے اور ان کی اہانت ہوگی، اور عموم بلوی اور تکلیف ما لا یطاق کے نام پر ان مقدسات کی اسی طرح توہین ہوتی رہے گی.

لہذا اس سلسلے میں ہر طرح کی کاوشوں کی ضرورت ہے تاکہ ہر شخص اس گناہ کی شامت سے محفوظ رہ سکے، سرکاری اور غیر سرکاری درخواستوں ، پیکنگ، ڈبوں، اور عام استعمال کے کاغذات پر ان مقدس اسماء اور آیات مبارکہ کے لکھنے سے پرہیز کیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو اس سے اجتناب ضروری ہے اور اس میں کاہلی برتنا حرام ہے۔ .

اس بارے میں سب سے پہلے ہم ان اسمائے کریمہ کی کتابت و طباعت کرنے والے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں اور ان كى تجارت کرنے والوں سے گزارش کرتے ہیں، نیز حکمران حضرات سے یہ التماس کرتے ہیں کہ وہ ان اوراق کو جمع کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دیں جو ان کاغذوں کو جلا دیں یا دوبارہ صناعت میں استعمال کر کے اہانت سے محفوظ رکھیں، اور ہم استطاعت رکھنے والے شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس برائی سے بچنے کے لئے کاغذات اور پلاسٹک وغیرہ کے کارخانے بنائیں اور ان کاغذوں کو از سر نو صناعت کے لئے استعمال کئے جانے کا بند و بست کریں، اور آخر میں ہم عام شہریوں سے بھی التماس کرتے ہيں کہ جن کاغذات اور چیزوں پر یہ اسمائے مبارکہ یا آیات مقدسہ لکھے ہوتے ہیں ان کی حفاظت کریں اور جہاں تک ہو سکے غفلت و لا پرواہی سے گریز کریں، بلکہ ان کو اچھی طرح سے ٹکڑے کر دیں یا جلا ڈالیں، چونکہ اللہ تعالی كا ارشاد ہے: (وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ(- اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلائی ہے - [سورہ حج : ٣٠]، نیز اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ( وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ) - اور جو اللہ کى نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے - [سورہ حج: 32].

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas