پلاٹ اور رہائشی فلیٹ کو قسطوں پر کا...

Egypt's Dar Al-Ifta

پلاٹ اور رہائشی فلیٹ کو قسطوں پر کاروبار کرنا

Question

میں ہاؤسنگ سوسائیٹی میں کام کرتا ہوں، زمیں خریدتا ہوں اور پھر عمارت بناتا ہوں تاکہ اس پر فلیٹ بنا کر فروخت کروں اور انہیں مندرجہ ذیل دو طریقوں پر فروخت کرتا ہوں:
1- نقد ، جس میں عقد کے ساتھ ہی ادائیگی ہو جاتی ہے ۔
2- تقریبا 50 فیصد تک نقد اور باقی خریدار کی آسانی کے مطابق ایک سے تین سال تک کی قسطوں پر ادائیگی ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ قسطوں والے طریقے میں پہلے طریقے سے قیمت زیادہ ہوگی۔ تو کیا دوسرے طریقے سے کاروبار کرنا جائز ہے؟
مجھ سے ایک سرمایہ کار اور فنانس کمپنی یہ فلیٹ خریدتی ہے اور مجھے نقد ادائیگی بھی کر دیتی ہے، پھر کمپنی یہ فلیٹ زیادہ قیمت کے ساتھ دو یا تین سال کی قسطوں پر فروخت کر دیتی ہے۔ تو کیا ان فلیٹس کے کاروبار کا نفع شرعا حلال ہے؟
 

Answer

فضيلة الأستاذ الدكتور علي جمعة محمد

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد:

شرعا یہ بات ثابت ہے کہ نقد ادائیگی اور مقررہ مدت تک

"ثمن مؤجل " کے ساتھ کاروبار کرنا جائز ہے۔ اور مدتِ معینہ کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کرنا بھی شرعا جائز ہے ، جمہور علماء کی یہی مذہب ہے۔ کیونکہ یہ مرابحہ کے قبیل سے ہے اور مرابحہ بیع کی جائز اقسام میں سے ہے جس میں مدت کے بدلے قیمت میں اضافہ جائز ہے، کیونکہ مدت اگرچہ حقیقت میں مال نہیں ہے لیکن یہ مرابحہ کے باب میں سے ہے اور اس میں مدت کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے لیکن جب قیمت کی زیادتی کے بدلے میں مدت معین ہو۔ کیونکہ اس پر فریقین راضی ہوجاتے ہیں اور کوئی شرعی مانع بھی موجود نہیں ہے، اور لوگوں کو اس کی ضرورت بھی ہے۔ جو کمپنی اس آدمی سے رہائشی فلیٹس خریدتی ہے اور پھر انہیں مقررہ مدت کیلئے قسطوں پر فروخت کرتی ہے ، اس کا یہ کارو بار جائز ہے، کیونکہ کمپنی کو ان گھروں کی مکمل طور پر ملکیت حاصل ہوجاتی ہے، پھر وہ معین نفع کے حساب سے ان فلیٹس مقررہ مدت کی قسطوں پر فروخت کرتی ہے۔ یہ معاملہ جائز تجارت میں شمار ہوتا ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم

    

Share this:

Related Fatwas