نماز میں عورت کا "جہرا " (اونچی آوا...

Egypt's Dar Al-Ifta

نماز میں عورت کا "جہرا " (اونچی آواز) میں قراءت کرنا

Question

 نماز میں عورت کے جہرا قراءت کرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

  الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد: فجر، مغرب اور عشاء کی نماز میں عورت اونچی آواز میں قراءت کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ ایسی جگہ میں ہو جہاں کوئی اجنبی مرد اس کی آواز نہ سن سکے، یا وہ عورتوں یا محرم مردوں کی موجودگی میں نماز پڑھ رہی ہو۔ پس اگر وہاں کوئی غیر مرد نہیں ہے یا عورتوں کی موجودگی یا محرم مردم کی موجودگی میں پڑھ رہی ہے تو ان نمازوں میں وہ جہرا قراءت کر سکتی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کی عورت کی بات ہے اس کے بارے میں ہمارے اصحاب فرماتے ہیں: اگر وہ اکیلی ہے یا عورتوں کی موجودگی یا محرم مردم کی موجودگی میں نماز پڑھ رہی ہے تو وہ جہرا قراءت کر سکتی ہے، چاہے وہ عورتوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کر رہی ہو یا اکیلی ادا کر رہی ہو؛ لیکن اگر وہ کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں نماز ادا کر رہی ہے تو آہستہ آواز میں قراءت کرے۔ مصنف، شیخ ابو حامد، بندنیجی اور امام ابو طیب رحمھم اللہ نے اسی بات کی تصریح کی ہے اور مَحاملي نے بھی "الْمَجْمُوعِ" و"َالتَّجْرِيدِ" اسے بیان کیا ہے اور ان کے علاوہ بہت سے علماء کا یہی قول ہے۔ ( )
والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas