آذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ...

Egypt's Dar Al-Ifta

آذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جہرا درود و سلام پڑھنا

Question

کیا آذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جہرا درود و سلام پڑھنا صحیح ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! آذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جہرا درود و سلام پڑھنا سنت ہے اور یہ احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے، حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا '' إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ؛ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ '' رواه مسلمٌ وأبو داود والترمذي والنسائي۔
یعنی: جب تم مؤذن کو سنو تو جس طرح وہ کہہ رہا ہے اسی طرح تم بھی کہو پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جس نے مجھ پر درود پڑھا اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے پھر میرے لئے وسیلے کی دعا کرو وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہونگا پس جس نے میرے لئے وسیلے کی دعا کی اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو گئی۔
کوئی ایسی نص وارد نہیں ہوئی جو جہر یا اسرار کو واجب کرتی ہو۔ اس امر میں وسعت ہے اور جب اللہ تعالی کسی عمل کو مطلقا مشروع قرار دیتا ہے اور اس کی کیفیت اور طریقہ کار میں ایک سے زیادہ احتمال ہوں تو اس عمل کو اپنے طلاق اور وسعت پر رکھا جائے گا اور اسے کسی ایک وجہ کو چھوڑ کر دوسری وجہ کے ساتھ اسے مقید کرنا جائز نہیں ہے مگر دلیل کے ساتھ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسی احادیث وارد ہوئی ہے جواذان کے بعد جہرا درود پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، امام طبرانی رحمہ اللہ نے ''الدعا ''میں حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اذان سنتے تو کہا کرتے تھے '' اللهم رَبَّ هذه الدعوةِ التامَّةِ والصلاةِ القائمةِ صَلِّ على محمدٍ وأعطِهِ سُؤلَهُ يوم القيامة '' جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوتے وہ بھی ان الفاظ کو سن لیا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ وہ لوگ بھی جب مؤذن کو سنیں تو اسی طرح کہیں آپ ﷺ نے فرمایا: '' مَنْ قَالَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ '' یعنی: جس نے ایسا کہا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔ بہرحال اس عمل میں وسعت ہے تو صحیح یہی ہے کہ لوگوں کو ان کی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے جو جتنا چاہے پڑھے لمبا بڑھے چھوٹا پڑھے جہرا پڑھے آہستہ آواز سے پڑھے، اس میں اعتبار مسلمان کے دل کا ہے۔ جن امور میں گنجائش دی گئی ہے کسی کیلئے موزوں نہیں ہے کہ دوسرے کا انکار کرے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


 

Share this:

Related Fatwas