ایک روزے میں دو نیتیں جمع کرنا

Egypt's Dar Al-Ifta

ایک روزے میں دو نیتیں جمع کرنا

Question

کیا میرے لیے ایک روزے میں دو نیتیں جمع کرنا جائز ہے جیسے "ذو الحج " کے دس روزے اور رمضان کے " قضا " روزے؟ 

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! مسلمان کے لئے جائز ہے کہ فرض روزے کے ساتھ نفل کی نیت کر لے اور اسے دونوں کا اجر ملے گا؛ امام الحافظ سیوطی رحمہ اللہ "تشریکِ نیت " پر بات کرتے ہوۓ فرماتے ہیں: جس نے یومِ عرفہ کو قضا، نذر یا کفارے کا روزہ رکھا، اور اسے کے ساتھ صومِ عرفہ کی بھی نیت کی، امام بارزی نے دونوں کے صحیح ہونے اور دونوں کے حصولِ اجر کا فتوی دیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے: اسی طرح اگر اس نے مطلقا فرض روزے کی نیت کی، تو بھی یہی حکم ہوگا، آپ نے اسے تحیۃ المسجد کے مسئلے سے ملایا ہے۔( )
شیخ الاسلام امام زکریا انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تحیۃ المسجد کا ثواب دو یا دو سے زیادہ رکعتیں ادا کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے اگرچہ یہ رکعتیں فرض کی ہوں یا کوئی اور نفل ہوں، چاہے اس نے اس کے ساتھ تحیۃ المسجد کی نیت کی تھی یا نہیں کی تھی، کیونکہ شیخین رحمھما اللہ نے حدیث پاک نقل کی ہے: '' إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ المَسْجِدَ، فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ '' یعنی: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں ادا کرنے سے پہلے نہ بیٹھے '' اور اس لئے کہ اس کا مقصد بیٹھنے سے پہلے نماز ادا کرنا ہے، اور وہ ادا ہوگئی ہے۔( )
اس سے علماءِ عظام نے استدلال کیا ہے کہ نفلی روزے کو فرض روزے کے تحت ادا کرنا جائز ہے لیکن اس کے برعکس جائز نہیں ہے، یعنی نفلی روزے کے تحت فرض روزے کی نیت کرنا جائز نہیں ہے۔
والله سبحانه وتعالى اعلم.

 

Share this:

Related Fatwas