نمازِ عشاء کے بعد دو رکعتیں باجماعت...

Egypt's Dar Al-Ifta

نمازِ عشاء کے بعد دو رکعتیں باجماعت ادا کرنا

Question

نمازِ عشاء کے بعد مسجد میں ہی دو رکعتیں باجماعت ادا کرنے کا کیا حکم ہے، جب اس کا مقصد لوگوں کو سنتِ قیام اللیل کی یاد دلانا اور گھروں میں اسے ادا کرنے کی ترغیب دلانا ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! یہ بات شرعا مسلم ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے اکیلے نماز ادا کرنے کی وجہ سے جس نماز میں جماعت کروانا سنت نہیں ہے اس کی جماعت کروانا بلا کراہت جائز ہے؛ کیونکہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنھا کے گھر نمازِ تہجد میں نبی اکرم ﷺ کی اقتدا کی تھی۔ متفق عليه۔

اسی طرح قیامِ اللیل میں جناب عبد اللہ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالی عنھما وغیرہ نے بھی آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی تھی، حالانکہ رمضان کے علاوہ میں ایسی نماز کی جماعت سنت نہیں ہے، لیکن جائز ہے،

اگر کوئی قوم کسی معین دن باجماعت تہجد کی نماز کیلئے جمع ہو جائے تو یہ جائز ہے اور جب تک وجوبی طور پر لوگوں کو جمع نہ کیا جائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر وجوبا جمع کیا جائے تو یہ فعل بدعتِ سیئہ کے دائرے داخل ہوجائے گا، کیونکہ اس میں ایسی چیز کو لازم کرنا پایا جا رہا ہے جسے شریعت مطہرہ نے واجب نہیں کیا ہے، اسی لیے جب نبی اکرم ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز ادا کی اور اور صحابہ کرام نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی اورآپ ﷺ نے اس عمل کا تکرار کیا لیکن چوتھی رات  آپ ﷺ ان کے پاس نہیں تشریف لائے ، جب فجر کا وقت ہوا تو آپ ﷺ تشریف لائے اور نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے حمد و ثناء کے بعد فرمایا:  '' أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجزُوا عَنْهَا '' تمہارا یہاں نماز کیلئے آنامجھ پر پوشیدا نہیں تھا لیکن مجھے ڈر تھا کہ کہیں تم پر یہ واجب نہ ہو جائے پھر تم اس سے عاجز آجاؤ۔متفق عليه من حديث عائشة رضي الله عنها۔

اور امام بخاری اور امام مسلم رحمھما اللہ نے عبد اللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کیا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنھما نے فرمایا:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاء كُلَّ سَبْتٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا" وكان عبد الله رضي الله عنه يفعله ۔ یعنی نبی اکرم ﷺ ہر ہفتے کے دن کبھی پیادہ اور کبھی سوار ہو کر مسجدِ قباء میں تشریف لایا کرتے تھے اور ابنِ عمر رضی اللہ تعالی عنھما بھی یہ فعل کیا کرتے تھے۔

امام حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کسی نیک کام کو کسی دن کے ساتھ خاص کر دینا اور اس پر دوام اختیار کرنا جائز ہے۔([1])

اس بناء پر مذکورہ سوال کے جواب میں ہم یہ کہیں گے: نماز عشاء کے بعد باجماعت دو رکعتیں ادا کرنا جائز امر ہے اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے، بشرطیکہ لوگوں کو اس پر پابند نہ کیا گیا ہو، اور اگر یہ کسی پر لازم کیا گیا ہو اور شریک نہ ہونے والے کو گناہگار سمجھا جائے تو یہ عمل بدعتِ سیئہ بن جائے گا؛ کیونکہ اس میں ایسے کام کو لازم کیا گیا ہے جسے اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ نے واجب نہیں کیا ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم۔

 

 


[1]"الفتح" (3/ 69) 

Share this:

Related Fatwas