حاملہ عورت کا دودھ پلانا اور دودھ پ...

Egypt's Dar Al-Ifta

حاملہ عورت کا دودھ پلانا اور دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا

Question

 کیا شریعتِ مطہرہ میں حاملہ عورت کا دودھ پلانے اور دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے سے ممانعت آئی ہے؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! عرب لوگ حاملہ عورت کا دودھ پلانا اور دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنے کو ناپسند کیا کرتے تھے اور اس سے بچا کرتے تھے؛ کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ اس سے دودھ خراب ہو جاتا ہے اور بیماری کا سبب بن جاتا ہے، جس سے بچے کا جسم خرابی پیدا ہو جاتی ہےاور جسم کمزور پڑ جاتا ہے؛ حضرت عکاشہ کی بہن حضرت جدامہ رضی اللہ تعالی عنھما سے مروی ہے کہ میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺ لوگوں کے پاس بیٹھے ہوۓ یہ فرما رہے تھے: '' لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ، فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ، فَإِذَا هُمْ يُغِيلونَ أَوْلَادَهُمْ، فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا '' رواه مسلم، یعنی میں دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ جماع کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن پھر میں نے روم اور فارس میں دیکھا کہ وہاں لوگ دودھ پلانے والی عورتوں سے جماع کرتے ہیں اور ان کے بچوں کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔''
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حاملہ عورت کا دودھ پلانا اور دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا نقصان دہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی عليه وآله وسلم اس سے منع فرما دیتے۔
اس بناء پر: فقہاءِ عظام کے نزدیک دودھ پلانے والے عورت کے ساتھ جماع کرنا شرعا جائز ہے، لیکن اگر جدید طب اپنے تجربات سے یہ بات ثابت کر دے کہ اس میں ضرر ہے تو پھر اس عمل سے منع کر دیا جاۓ گا اور حرام کر دیا جاۓ گا۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas