روزے دار کا بھول کر کھانا اور پینا

Egypt's Dar Al-Ifta

روزے دار کا بھول کر کھانا اور پینا

Question

روزے دار کا بھول کر کھانے اور پینے کا کیا حکم ہے، کیا اس سے روزے ٹوٹ جاتا ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! یہ بات شرعا مسلم ہے کہ روزے دار کا رمضان کے روزے اور نفلی روزے میں بھول کر کھانے اور پینے سے اس پر قضا اور کفارہ واجب نہیں ہوتا؛ کیونکہ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ تبارک وتعالی عنھما سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: '' إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ'' رواه ابن ماجه والطبراني والحاكم : یعنی اللہ تعالی نے میری امت کیلئے خطا، بھولے جانے اور جس چیز پر مجبور کر دیا جائے، کا گناہ معاف کر دیا ہے '' اور سیدنا أبو هريرة رضي الله تعالى عنه روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ '' رواه الجماعة، یعنی: جس نے روزے کی حالت میں بھوک کر کھا لیا یا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے، اسے تو اللہ تعالی نے کھلایا اور پلایا ہے''
یہ احادیث اس پات پر دلائلِ قطعیہ ہیں کہ روزہ دار اگر بھول کر کھا پی لے اس پر اپنا روزہ پورا کرنا ضروری ہے، اس پر قضا واجب نہیں ہوگی، اسی دن کا مکمل کیا ہوا روزہ صحیح ہوگا اور کافی ہوگا۔
والله سبحانه وتعالى اعلم۔


 

Share this:

Related Fatwas