گرافکس اور متحرک کارٹونز کی تصویر ب...

Egypt's Dar Al-Ifta

گرافکس اور متحرک کارٹونز کی تصویر بنانے کا حکم

Question

 میں فنون کا طالب علم ہوں، اور گرافکس اور متحرک کارٹونز کی تصویر بنانے کا حکم جاننا چاہتا ہوں؛ کیونکہ میں اس مجال میں کام کرنا چاہتا ہوں، تو کیا گرافکس میں کمپیوٹر کا استعمال کرنے میں حرام کا شبہہ ہے؟ وجزاكم الله خيرًا.

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ و آلہ وصحبہ و من والاہ۔ وبعد: گرافکس بہترین فنون میں سے ایک ہے جو کہ راحتِ نفس اور تفریح کیلئے مؤثر ہے، اور یہ شرعا جائز ہے؛ گرافکس چاہے کمپیوٹر کے ساتھ ہو یا اس کے بغیر ہو، بشرطیکہ یہ گناہوں اور محرمات سے خالی ہو، اور گرافکس تصویر کشی شہوات کو ابھارنے کا سبب نہ ہو، اور اس صورت میں گرافکس جائز نہیں ہو گی جب اس کا موضوع ننگا جسم ہو یا جسم کا وہ حصہ ہو جسے ڈھانپنے کا شریعتِ مطہرہ، اخلاق طیبہ، استقامت، اور فطرتِ سلیمہ حکم دیتی ہیں۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas