غیر مسلموں کو ان کی عید کے مواقع پر...

Egypt's Dar Al-Ifta

غیر مسلموں کو ان کی عید کے مواقع پر مبارکباد دینا

Question

غیر مسلموں کو ان کی عیدوں پر مبارکباد دینے کا شرعاً کیا حکم ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ وعلى آلہ وصحبہ و من والاه۔ وبعد: مسلم ممالک میں رہنے والے غیرمسلم شہریوں کو ان کی عیدوں پر مبارکباد دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً وہ غیر مسلم شہری جن کی مسلمانوں کے ساتھ صلہ رحمی، قرابت، ہمسائیگی،رفاقت یا ان کے علاوہ کوئی اور انسانی رشتہ ہو؛ کیونکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ﴿وَإِذَا حُيِّيْتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّواْ بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ [النساء: 86] یعنی:'' جب تمہیں سلام کیا جاۓ تو جواباً تم بھی سلام کہو اس سے بہتر طریقے سے یا اسی طریقے سے'' اور اس میں ان کے کسی بھی ایسے عقیدہ کا اقرار نہیں ہوتا جو شریعتِ اسلام کے خلاف ہو، بلکہ یہ نیکی اور انصاف ہے جسے اللہ تعالی پسند فرماتا ہے؛ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا :﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ ]الممتحنة: 8[ یعنی: اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو دین کے معاملے تم سے نہیں لڑے، اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان کے ساتھ بھلائی کرو، اور ان سے انصاف کا معاملہ کرو بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے''۔ پس یہ آیتِ کریمہ باہمی رہن سہن کا اقرار کر رہی ہے، اوربتا رہی ہے کہ غیرمسلموں سے صلہ رحمی کرنا، ان سے نیکی کرنا، انہیں تحائف دینا اور ان سے تحائف قبول کرنا اور ان پر احسان کرنا یہ سب کچھ شرعاً مستحب ہے؛ امام قرطبی رحمہ اللہ نے "أحكام القرآن" (18/ 59، ط. دار الكتب المصرية): میں فرمایا ہے: اللہ تَعَالَى:کا فرمان ﴿أَنْ تَبَرُّوهُمْ﴾ کا معنی ہے: جو لوگ تم سے نہیں لڑے اللہ تعالی تمہیں ان کے ساتھ نیکی کرنے سے نہیں روکتا۔۔۔۔۔۔ اور ﴿وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ﴾ کا معنی ہے: تم انہیں صلہ رحمی کی وجہ سے اپنے مالوں میں سے ایک حصہ دو۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.


 

Share this:

Related Fatwas