مسجد کے سامنے سے کچرا اٹھانے کے لئے...

Egypt's Dar Al-Ifta

مسجد کے سامنے سے کچرا اٹھانے کے لئے عطیہ دینا

Question

 ہمارے گاؤں میں ایک بڑی مسجد ہے اس کے سامنے کوڑے کا ڈھیر اور گندا پانی کھڑا ہے جس سے مسجد میں مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ کیا مسلمونوں کیلئے جائز ہے کہ اس کوڑے کرکٹ کو اٹھانے کیلئے کچھ پیسے عطیہ کریں یا نہیں؟ سائل کو شرعی حکم مطلوب ہے؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ وعلى آله وصحبه و من والاه۔ وبعد: شرعاً یہ بات مسلم ہے کہ صفائی ایمان میں سے ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبحہ وسلم نے ارشاد فرمایا: '' وَالنَّظَافَةُ تَدْعُو إِلَى الْإِيمَانِ'' یعنی: صفائی ایمان کی دعوت دیتی ہے؛ اس لئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ گندگی اور اس سے اٹھنے والی بدبو کو ختم کرنے کیئے کوشش کرے، خصوصاً ان جگہوں سے جو مساجد کے قریب ہیں؛ کیونکہ مساجد زمین پر اللہ تعالی کے گھر ہیں؛ لہٰذا مساجد کے قریب سے کوڑے کرکٹ کو اٹھانے کیلئے مسلمانوں کا پیسے عطیہ کرنا جائز ہے اس میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، اس مد میں وہ جو مال خرچ کریں اللہ تعالی انہیں اس کی بہتر جزا دے؛ اللہ تعالى: کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴾ [البقرة: 274]، یعنی: جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں رات اور دن چھپا کر اور ظاہراً خرچ کرتے ہیں تو ان کے لیے اپنے رب کے ہاں ثواب ہے، انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اور اس لئے بھی کہ سڑک سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا صدقہ ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas