دودھ پلانے والی کا روزہ چھوڑنا

Egypt's Dar Al-Ifta

دودھ پلانے والی کا روزہ چھوڑنا

Question

دودھ پلانے والی عورت کیلئے رمضان کا روزہ چھوڑنے کا کیا حکم ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! دودھ پلانے والی عورت اگر روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتی تو اس کیلئے روزہ چھوڑنا جائز ہے، جب اس کو اپنی جان یا اپنی اور بچے دونوں کی جان کا خطرہ ہو تو روزہ چھوڑنے کی صورت میں اس پر صرف قضا واجب ہو گی فدیہ نہیں، لیکن اگر صرف بچے کی جان کا خطرہ ہو تو اس پر قضا اور فدیہ دونوں واجب ہوں گے اور فدیہ ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو دینا ہے اور اس کھانے کی مقدار ملک کی غالب غذا جیسے گندم یا چاول سے ایک '' صاع '' ہے، یہ احناف کا مذہب ہے، ایک صاع گندم 2.500 کیلو گرام اور ایک صاع مصری چاول 2.750 کیلو گرام بنتے ہیں۔
جس کیلئے یہ مقدار دینا مشکل ہو تو ملک کی غالب خوراک سے ایک مد جو چوتھائی صاع کے برابر ہے یعنی 700 گرام چاول ایک دن کے حساب سے بھی دے سکتا ہے، اس میں شافعی مذہب کی تقلید ہو گی۔

فدیہ کی قیمت ادا کرنے کا حکم:
اناج یا اس کی قیمت فقیر کو دینا جائز ہے، اور یہ روزوں کے کفارے میں ایک دن روزہ چھوڑنے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی مقدار ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas