حکومت کی طرف سے لاگو کیے جانے والے ...

Egypt's Dar Al-Ifta

حکومت کی طرف سے لاگو کیے جانے والے ٹیکس

Question

حکومت کی طرف سے نافذ کیے جانے والے ان ٹیکسز کا کیا حکم ہے جو اس نےہمارے کاروبار، پیداوار، زمین اور رہائشی گھروں پر لگاۓ ہیں جنہیں ہم نے خود اپنے پیسوں سے بنایا ہے، حکومت کا اس میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ وعلى آلہ وصحبہ و من والاہ۔ وبعد: فقہ میں یہ بات مسلم ہے کہ ٹیکس وہ طے شدہ مال ہوتا ہے جو حکومت شہریوں کے مال پر بغیر کسی مخصوص نفع دیے لاگو کرتی ہے، پس یہ ٹیکس ملکیت، کاروبار اور آمدنی پر ان خدمات اور ذمہ داریوں کے بدلے نافذ کیے جاتے ہیں جو حکومت تمام شہریوں کیلئے ادا کرتی ہے، اور یہ قوانین اور حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
ریاست اپنے تخمینے اور وصولی کے مطابق مناسب ٹیکس عائد کرسکتی ہے، اور یہ اس لئے ہے تاکہ سرکاری اخراجات اور ریاستوں کی ضروریات پوری کی جاسکیں، کیونکہ ریاستیں ہی مفاداتِ عامہ کو پورا کرتی ہے جس کے لئے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے اور ان اخراجات کے لئے مستحکم وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، خصوصاً اس زمانۂ حاضر میں جس میں ریاست کے کاموں میں اضافہ اور توسیع ہو چکی ہے۔
اور ریاست کے عام بجٹ میں سرکاری محصولات اور سرکاری اخراجات کو جمع کیا جاتا ہے، پس اگر اخراجات محصولات سے بڑھ جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی بجٹ میں خسارہ ہے اس لئے متعدد طریقوں سے اس کی تلافی کرنی پڑتی ہے، ان میں ایک طریقہ ٹیکس کا طریقہ ہے۔
اس بناء پر ہم کہیں گے: ٹیکس میں اصل یہ ہے یہ حکومت کا حق ہے اور حکومت کو تمہارا ادا کرنا اس معاہدۂ شہریت کے اثرات میں سے ایک اثر ہے جو ریاست اور شہری کے درمیان ہوتا ہے، تو اس کے ادا کرنے سے کنارہ کشی کرنا یا کم کرانے کیلئے رشوت دینا جائز نہیں ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
 

Share this:

Related Fatwas