اذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ عیلہ ...

Egypt's Dar Al-Ifta

اذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ عیلہ وآلہ وصحبہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کا حکم

Question

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام نشر کرنے کا شرعی حکم کیا ہے، اور اس کا متن یہ ہے: "وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم" جبکہ یہ پڑھتے وقت مؤذن کی آواز دھیمی ہو، آذان کی آواز سے مختلف اور تقریبا 30سیکنڈ کی خاموشی کے بعد ہو؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ امام مسلم، امام احمد، امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمھم اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: [إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ تَعَالَى، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ اللهَ لِي الْوَسِيلَةَ، حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ]
یعنی : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی

اس حدیث میں آنے والے اذان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے حکم کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے، آیا کہ یہ حکم مؤذن کو بھی شامل ہے، یعنی اس کو بھی درود بھیجنے کا حکم ہے ؟ یا صرف سامعین تک یہ حکم محدود ہے، مؤذن اس میں مؤذن شامل نہیں ہے، یعنی اس کیلیے حکم نہیں ہے کہ وہ بھی اذان کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے؟ پہلا قول شافعیہ کا ہے ، اور ان کا خیال ہے کہ مؤذن کے لیے اذان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردورد پڑھنا سنت ہے، اور یہ حکم عام ہونے کی وجہ سے ہر اذان کو شامل ہے، اور بعض نے اسی طرح کا قول حنبلیوں کی طرف بھی منسوب کیا ہے۔ اور وہ امام احمد کے اس قول سے اخذ کرتے ہیں: "موذن کے لیے مستحب ہے کہ وہ بھی اسی طرح آہستہ سے کہے "۔ ہمیں حنبلی کتب میں اس راےٴ کی صراحت نہیں ملی۔
حنفی کتب میں سے حاشیہ ابن عابدین میں ہے کہ اذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم پر درود سلام 781 ہجری میں عشاء کی اذان کے بعد شروع ہوا ، پھر جمعہ کے دن اور پھر باقی اوقات میں سوائے ‏مغرب کے شروع ہو گیا، اور یہ بدعتِ حسنہ ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ نے "حسن المحاضرة" میں امام سخاوی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ عمل 791 ہجری میں سلطان ناصر صلاح دین کے زمانے میں ان کے حکم پر شروع ہوا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہاءِ اسلام کا اذان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے میں اختلاف ہے، اور شافعی فقہاءِ کرام اس کو سنت سمجھتے ہیں، اور حنفی مذہب سے علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بدعتِ حسنہ ہے۔ جو لوگ اذان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا اضافہ جائز نہیں سمجھتے بلکہ اسی پر افتصار کرتے ہیں جو حدیث میں آیا ہے اور دلیل سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ عمل کسی نہ کسی صورت میں اس اضافے کے ساتھ جاری ہو گیا تو ہو سکتا ہے کہ لوگ اسے آذان کا حصہ سمجھنے لگیں۔
ہماری راےٴ یہ ہے کہ اگر اذان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہو، آذان اور درود وسلام کے درمیان توقف ہو اور اور درود وسلام پڑھتے وقت آواز بھی آذان کی آواز سے دھیمی ہو اور طرزِ آواز بھی اذان کی طرزِ آواز سے مختلف ہو تو درود وسلام پڑھنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
 

Share this:

Related Fatwas