بینک میں جمع کی گئی رقم پر زکوٰۃ

Egypt's Dar Al-Ifta

بینک میں جمع کی گئی رقم پر زکوٰۃ

Question

سائل کہتا ہے: میرے پاس زمین کا ایک ٹکڑا تھا میں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت بینک میں رکھ دی۔ کیا مجھے اصل رقم اور منافع پر زکوٰۃ دینی ہوگی یا صرف منافع پر؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وعلى آلہ وصحبہ ومن والاہ وبعد؛ اگر رقم نصاب کو پہنچ جاتی ہے، اور وہ رقم صاحبِ مال کی ضروریات سے زائد ہو او اس پر ایک قمری سال بھی گزر چکا ہو، تو اس پر 2.5% کی شرح سے زکوۃ واجب ہو گی، اور ازہر شریف کی اسلامک ریسرچ اکیڈمی کے مطابق نصاب 595 گرام خالص چاندی یا 85 گرام خالص سونا، یہ مقدار چاہے رقم کی صورت میں ہو یا دھات کی صورت میں ہو۔
اگر بینک میں جمع زمین کی رقم شرعی نصاب کو پہنچ جاےٴ اور اس پر پورا قمری سال بھی گزر جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہو گی اور یہ زکاة اصل رقم کے ساتھ اس کے منافع کی بھی ادا کی جائے گی؛ کیونکہ منافع اصل کے تابع ہوتا ہے ۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
 

Share this:

Related Fatwas