ماہِ شعبان کی فضیلت
Question
ماہِ شعبان المبارک کے کیا فضائل ہیں؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ ماہِ شعبان ان بابرکت مہینوں میں سے ہے جن کی فضیلت سے بعض لوگ غافل رہتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے خاص فضل اور شرف سے نوازا ہے، اس میں بلند پایہ فضیلتیں رکھی گئیں، اس کا مرتبہ بلند کیا گیا، اس کی شان و عظمت میں اضافہ فرمایا ہے، اور اسے نیکیوں اور قربِ الٰہی کے موسموں میں شامل کیا ہے، جیسے کثرتِ صیام اور تلاوتِ قرآن، اسی مہینے میں بندوں کے اعمال ربِّ کائنات کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، اور یہ ماہِ رمضان المبارک کی تیاری اور اس کے استقبال کا وقت بھی ہے، کیونکہ مسلمان اس میں عبادت اور ذکر کے ذریعے اپنے نفس کو ماہِ فضیلت کے لیے تیار کرتا ہے، مزید یہ کہ اس مہینے میں ایک بابرکت رات بھی شامل ہے، یعنی اس کی پندرھویں رات، جس کے بارے میں منقول ہے کہ اس میں گناہ معاف کیے جاتے ہیں، برائیاں مٹا دی جاتی ہیں، رحمتیں نازل ہوتی ہیں، دعائیں قبول کی جاتی ہیں، اور اس رات کو عبادات کے ساتھ زندہ رکھنا مستحب ہے۔ خلاصہ یہ کہ ماہِ شعبان رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے، اس کی فضیلتیں بہت عظیم ہیں اور اس میں کیے گئے اعمال نہایت قیمتی ہیں، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس کی قدر کرے اور مختلف نیکیوں اور زیادہ سے زیادہ عبادات کے ذریعے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
تفصیلات…
فضیلت والے اوقات میں اللہ کی عبادت اور اس کی رحمت کے حصول کے مواقع
اللہ عز وجل نے زمان و مکان کو پیدا فرمایا اور ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی، چنانچہ اوقات میں اطاعت کے خاص موسم مقرر فرمائے جن میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں، نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں اور گناہ و خطائیں معاف کی جاتی ہیں، یہ سب اپنے بندوں پر رحمت اور ان کو ان اوقات سے فائدہ اٹھانے اور زیادہ سے زیادہ نیکیوں کی ترغیب دینے کے لیے ہے، تاکہ لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کی رضا کے طالب بنیں، انہی میں بعض مہینوں کو فضیلت دی گئی جیسے رمضان کا مہینہ، بعض دنوں کو جیسے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن، اور بعض راتوں کو جیسے لیلۃ القدر، اور شرعی نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان بابرکت موسموں کی یاد دہانی کرانا اور ان سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلانا مستحب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور انہیں اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان رحمتوں کے مواقع کو پانے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: تمہارے رب عز وجل کی طرف سے تمہارے زمانے کے دنوں میں رحمت کی خاص عناتیں ہوتی ہیں، پس تم ان کے لیے اپنے آپ کو پیش کرو، ممکن ہے تم میں سے کسی کو ان میں سے کوئی رحمت نصیب ہو جائے اور وہ اس کے بعد کبھی بدبخت نہ ہو۔
ماہِ شعبان کی فضیلت اور دیگر مہینوں میں اس کا مقام
ان مہینوں میں سے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص فضل اور شرف سے نوازا ہے، ماہِ شعبان بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے نمایاں فضیلت کے ساتھ مخصوص فرمایا، اس کے مرتبے کو بلند کیا، اس کی شان و عظمت کو بڑھایا، اسے اللہ تعالی کی عبادت کے موسموں میں شامل کیا اور اسے ماہِ رمضان سے پہلے ایک عظیم تمہیدی مرحلہ قرار دیا، نیز صحیح نصوص اس کی متعدد خصوصیات اور فضیلتوں پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:
پہلی: یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں نے آپ ﷺ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان غافل رہتے ہیں، حالانکہ اسی مہینے میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔
امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے نخب الأفکار میں فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان «تُرفَعُ فِيهِ الأَعمَالُ» کا مطلب یہ ہے کہ اسی مہینے میں بنی آدم کے تمام اعمال، خواہ نیک ہوں یا بد، اطاعت کے ہوں یا معصیت کے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴾ [الدخان: 4] ترجمہ: "اسی میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے”۔ یعنی اس بابرکت رات میں، اور بعض علماء کے نزدیک اس سے مراد شعبان کی پندرھویں رات ہے، جس میں بندوں کے رزق، ان کی مدتِ حیات اور ان کے تمام امور کو ایک شعبان سے لے کر آنے والے اگلے شعبان تک تفصیل سے لکھ دیا جاتا ہے۔
دوسری: یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے، جیسا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی سابقہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے، نیز امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اتنے روزے رکھتے کہ ہم کہتے اب چھوڑیں گے ہی نہیں، اور کبھی اتنے اتنے دن نہیں رکھتے تھے کہ ہم کہتے اب روزے رکھیں گے ہی نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رمضان کے سوا کسی پورے مہینے کے روزے مکمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، اور نہ ہی میں نے آپ کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے دیکھا۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور اس کے الفاظ امام بخاری کے ہیں۔
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں فرمایا ہے کہ اس حدیث میں ماہِ شعبان میں روزے کی فضیلت پر دلیل موجود ہے۔
تیسری: فضیلت یہ ہے کہ اس مہینے میں نصفِ شعبان کی رات شامل ہے، جو ایک عظیم اور بابرکت رات ہے، اس کی فضیلت کے بارے میں متعدد شرعی نصوص وارد ہوئی ہیں، جن کے مجموعے سے اجمالی طور پر اس کی فضیلت اور بلند مرتبہ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر خصوصی نظرِ کرم فرماتا ہے اور سب کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے، اور یہ ایک عام مغفرت ہے جو دل کی صفائی اختیار کرنے، کینہ اور بغض کو چھوڑ دینے، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو حاصل کرنے اور دعا کی قبولیت کی طرف متوجہ ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمانِ محکم ﴿فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴾ کی تفسیر میں یہ بات منقول ہے کہ اس سے مراد شعبان کی پندرھویں رات ہے، اسی رات سال بھر کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے، زندوں کو مردوں سے جدا کیا جاتا ہے، اور حج کرنے والوں کے نام لکھ دیے جاتے ہیں، پھر نہ ان میں کسی کا اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی میں کمی کی جاتی ہے، اور یہ قول متعدد ائمۂ تفسیر سے منقول ہے، جن میں امام طبری، ابن ابی حاتم، قشیری، کرمانی، بغوی اور دیگر مفسرین شامل ہیں۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات اپنی تمام مخلوق پر خصوصی نظرِ کرم فرماتا ہے اور سب کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے مشرک اور دل میں کینہ رکھنے والے کے، اس حدیث کو ائمۂ حدیث ابن حبان، طبرانی نے المعجم الأوسط میں اور بیہقی نے شعب الإيمان میں روایت کیا ہے۔
اور امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات ہو تو اس کی رات میں قیام کرو اور اس کے دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات غروبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے رزق عطا کروں، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے عافیت عطا کروں، ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ایسا، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ انہیں کے ہیں، نیز فاکہی نے أخبار مكة میں اور بیہقی نے شعب الإيمان میں نقل کیا ہے۔
اس باب میں وارد احادیث کتبِ سنتِ مطہرہ میں بکثرت موجود ہیں، اگرچہ ان میں سے بعض کی اسناد پر کلام ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ احادیث ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے طرق کثیر اور راوی متعدد ہیں، لہٰذا ان سے استدلال کیا جا سکتا ہے، چنانچہ علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ نے تحفۃ الأحوذی میں لکھا ہے کہ باب: نصفِ شعبان کی رات کے بارے میں:۔۔۔ پس یہ احادیث اپنے مجموعے کے اعتبار سے ان لوگوں کے خلاف حجت ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نصفِ شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں۔
اور اس رات کی فضیلت اور اس کے دعا کی قبولیت کا موقع ہونے پر جو بات دلالت کرتی ہے، وہ وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام میں نقل فرمائی ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ کہا جاتا ہے: پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے، جمعہ کی رات، عید الاضحیٰ کی رات، عید الفطر کی رات، رجب کی پہلی رات اور شعبان کی پندرھویں رات۔
اسی پر سلف صالحین کا معمول رہا کہ وہ اس رات کی تعظیم کرتے، عبادت اور دعا میں خاص محنت کرتے تھے، کیونکہ اس کی عظیم فضیلت اور بلند مرتبہ کے بارے میں روایات وارد ہوئی ہیں۔
چنانچہ علامہ فاکہی نے أخبار مكة میں اہلِ مکہ کے نصفِ شعبان کی رات کے عمل اور اس میں ان کے اجتہاد کا ذکر کرتے ہوئے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اور حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے "لطائف المعارف" میں فرمایا ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات کے بارے میں: اہل شام کے تابعین، جیسے خالد بن معدان، مکحول، لقمان بن عامر وغیرہ، اس رات کی تعظیم کرتے اور عبادت میں اس رات محنت کیا کرتے تھے، اور ان سے لوگوں نے اس رات کی فضیلت اور تعظیم کا طریقہ اختیار کیا۔
چوتھی فضیلت: یہ ہے کہ شعبان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کرتے ہیں، اور اس میں عبادت کرنے کا اجر بہت زیادہ ہے۔ ماہِ شعبان کو اس وصف سے بیان کیا گیا ہے کہ بہت سے لوگ اس سے غافل رہتے ہیں، کیونکہ وہ اس سے پہلے والے رجب اور اس کے بعد آنے والے رمضان کی فضیلت حاصل کرنے میں مشغول رہتے ہیں، یوں شعبان دو عظیم مہینوں کے درمیان واقع ہو کر توجہ اور بھرپور استفادے کے اعتبار سے نظر انداز ہو جاتا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وصف کو بیان کرتے ہوئے اس مہینے میں کثرتِ صیام کی وجہ واضح فرمائی، چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان غافل رہتے ہیں۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے "إرشاد الساري" میں فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے روزے کی خصوصیت کو دیگر مہینوں سے ممتاز کرنے کی وجہ بیان فرمائی اور فرمایا: «إِنَّهُ شَهرٌ يَغفُلُ النَّاسُ عَنهُ بَينَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ»، یعنی چونکہ اس کے آگے اور پیچھے دو عظیم مہینے ہیں، ایک حرمت والا مہینہ اور ایک ماہِ رمضان، لوگ ان میں مشغول رہتے ہیں، اس لیے شعبان سے غافل رہ جاتے ہیں، اور بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رجب کے روزے شعبان کے روزوں سے افضل ہیں کیونکہ رجب حرمت والا مہینہ ہے، حالانکہ یہ خیال درست نہیں ہے۔
اہلِ علم کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ غفلت کے اوقات میں عبادت کرنا دیگر اوقات کی عبادت سے افضل اور زیادہ اجر والا ہوتا ہے، کیونکہ اس میں نفس کا مجاہدہ، اخلاصِ نیت اور ریا سے بچاؤ زیادہ پایا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں قیام اللیل کی فضیلت، فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی اہمیت، اور مغرب و عشاء کے درمیان عبادت کو زندہ رکھنے کا ذکر ملتا ہے، اس لیے کہ یہ وہ اوقات ہیں جن سے اکثر لوگ غافل رہتے ہیں۔
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے التبصرة میں حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جان لو وہ اوقات جن سے لوگ غافل رہتے ہیں، بڑی قدر و منزلت رکھتے ہیں، کیونکہ لوگ ان اوقات میں اپنی عادات اور خواہشات میں مشغول ہوتے ہیں، پس جو شخص ان میں پابندی کے ساتھ عبادت کرے اور فضیلت کا طالب ہو، یہ اس کے خیر کے لیے حریص ہونے کی دلیل ہے، اسی لیے جماعت کے ساتھ فجر کی نماز کی فضیلت بیان کی گئی کیونکہ بہت سے لوگ اس وقت سے غافل رہتے ہیں، اور مغرب و عشاء کے درمیان کا وقت بھی فضیلت والا ہے، اسی طرح آدھی رات کا قیام اور سحری کا وقت بھی۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے لطائف المعارف میں حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان «يَغفُلُ النَّاسُ عَنهُ بَينَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ» میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات، مقامات یا اشخاص کی جو فضیلت مشہور ہوتی ہے، ممکن ہے اس کے علاوہ کوئی اور چیز اس سے زیادہ افضل ہو، یا اس میں کوئی خاص پہلو ہو جسے اکثر لوگ نہیں سمجھ پاتے، چنانچہ وہ مشہور فضیلت میں مشغول ہو کر اس فضیلت کو حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں جو ان کے نزدیک غیر مشہور ہے۔ اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کی غفلت کے اوقات کو عبادت سے آباد کرنا مستحب ہے اور یہ اللہ عزوجل کو محبوب ہے، جیسا کہ سلف کی ایک جماعت مغرب اور عشاء کے درمیان کے وقت کو نماز سے زندہ رکھنے کو پسند کرتی تھی اور کہتی تھی کہ یہ غفلت کی گھڑی ہے، اسی طرح آدھی رات میں قیام کی فضیلت بھی اس لیے ہے کہ اس وقت اکثر لوگ ذکر سے غافل ہوتے ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم استطاعت رکھتے ہو کہ اس گھڑی میں اللہ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ تو ضرور ہو جاؤ۔
پانچویں فضیلت: یہ ہے کہ شعبان ماہِ رمضان کے لیے روحانی تیاری کا مہینہ ہے۔ شعبان کو رمضان کیلئے مقدّمہ اور تمہید قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں نفس کو روزے اور اطاعت کی مشق کرائی جاتی ہے اور دل کو ماہِ مبارک کے استقبال کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سلف صالحین اس مہینے کی تعظیم کرتے اور عبادات اور تلاوتِ قرآن میں کثرت کرتے تھے، یہاں تک کہ بعض نے شعبان کو "ماہِ قرّاء" یعنی قارئین کا مہینہ بھی کہا، جیسا کہ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے "لطائف المعارف" میں نقل کیا ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا: کہا جاتا ہے کہ شعبان میں روزہ رکھنے کا مقصد رمضان کے روزے کی مشق کرنا ہے تاکہ رمضان میں روزہ رکھنے کے دوران مشقت یا سختی محسوس نہ ہو، بلکہ لوگ شعبان کے روزے سے روزے کی عادت ڈال لیں اور اس کی لذت اور حلاوت کا مزہ پائیں، اور رمضان کے روزے کو قوت اور توانائی کے ساتھ رکھ سکیں۔ چونکہ شعبان رمضان کیلئے مقدّمہ اور تمہید ہے، اس لیے اس میں بھی روزہ اور قرآن کی تلاوت کے احکام کی پیروی کی جاتی ہے تاکہ رمضان کے لیے تیاری ہو اور نفس اللہ کی اطاعت کی تربیت پائے۔
خلاصہ
اس بناء پر: ماہِ شعبان ایک بابرکت مہینہ ہے جس کی فضیلت سے بعض لوگ غافل رہتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے خاص فضل اور شرف سے نوازا، اسے نمایاں فضائل کے ساتھ ممتاز فرمایا، اس کا مرتبہ بلند کیا، مقام و عظمت عطا کی اور اسے اپنی عبادت کے موسموں میں شامل کیا، جیسے روزوں کی کثرت اور قرآن کی تلاوت۔ اسی مہینے میں اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔شعبان ماہِ رمضان کی تیاری اور استقبال کا موقع بھی ہے، کیونکہ مسلمان اس میں عبادت اور ذکر کے ذریعے اپنے نفس کو رمضان کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس مہینے میں ایک بابرکت رات بھی ہے، یعنی شعبان کی پندرھویں رات، جس میں گناہ معاف کیے جاتے ہیں، خطائیں مٹا دی جاتی ہیں، رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، اور اس رات کو عبادات کے ساتھ زندہ رکھنا مستحب ہے۔
مجموعی طور پر ماہِ شعبان رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے، اس کی فضیلتیں بہت عظیم ہیں اور اس کے اعمال نہایت قیمتی ہیں، اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس کی قدر کرے اور مختلف نیک اعمال اور زیادہ سے زیادہ عبادات کے ذریعے اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
