مردوں کے لیے استطاعتِ حج کی شرائط

Egypt's Dar Al-Ifta

مردوں کے لیے استطاعتِ حج کی شرائط

Question

مردوں کے لیے حج کی استطاعت کی کیا شرائط ہیں؟ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ حج صرف اسی پر فرض ہے جو استطاعت رکھتا ہو، لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ ان شرائط کو واضح فرمائیں جن کے پائے جانے سے آدمی اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے لیے صاحبِ استطاعت شمار ہوتا ہے۔

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ انسان کے صاحبِ استطاعت ہونے اور اس پر حج کے فرض ہونے کے لیے یہ شرائط لازم ہیں کہ اس کے پاس حج کے اخراجات (جانے، قیام اور واپسی) موجود ہوں، اور یہ اخراجات اس کی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے زائد ہوں، نیز وہ جسمانی طور پر صحت مند ہو اور مناسکِ حج ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اس کے ذمے کوئی واجب حق باقی نہ ہو، جیسے زکوٰۃ، کفارہ، نذر یا دیگر شرعی واجب اخراجات، اور اسے متعلقہ حکام کی طرف سے مقررہ ضوابط کے مطابق حج ادا کرنے کی اجازت بھی حاصل ہو۔

تفصیل…

مردوں کے لیے حج کی استطاعت کی شرائط میں فقہائے احناف کا مسلک

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے صرف اسی پر حج فرض کیا ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ ترجمہ: "اور اللہ کے لیے  لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔"[آل عمران: 97]، یعنی حج شرعاً اسی شخص پر واجب ہے جو اسے ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔

علامہ ابو السعود عمادی نے اپنی تفسیر میں فرمایا: ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ حالتِ جر میں ہے اس بنا پر کہ یہ "الناس" سے بدل ہے، اور یہ بدل بعض من الکل ہے جو اس کے عموم کو خاص کر رہا ہے؛ یہاں اصل میں  مُبدَل منہ کی طرف جو ضمیر راجع ہے، وہ محذوف ہے لہٰذا اصل میں یوں ہے: "ان میں سے جو استطاعت رکھتا ہو"، اور بعض نے کہا کہ یہ بدلِ کل ہے، اس اعتبار سے کہ "الناس" سے مراد ہی وہ بعض لوگ ہیں جو استطاعت رکھتے ہیں، اس صورت میں ضمیر کی حاجت نہیں رہتی۔

فقہاء نے استطاعت کی شرائط اور اس کے ضوابط کی تفصیل بیان کی ہے؛ چنانچہ احناف کا موقف یہ ہے کہ استطاعت کی شرائط یہ ہیں کہ انسان کے پاس زاد و راحلہ ہو، یعنی اس کے پاس جانے اور واپس آنے کے اخراجات کی قدرت ہو، اور آج کے زمانے میں اس سے مراد سفر کے اخراجات ہیں جیسے ہوائی جہاز کا ٹکٹ، ویزا وغیرہ، اور یہ سب اس کے رہائش کے مکان اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو، جیسے گھر کے ضروری سامان وغیرہ، نیز یہ اس کے اہل و عیال کے خرچ سے بھی زائد ہو، اور راستہ پرامن ہو، کیونکہ اس کے بغیر استطاعت ثابت نہیں ہوتی، اور آج کے دور میں یہ بات متعلقہ حکام کی طرف سے مقرر کردہ ضوابط اور طریقۂ کار پر عمل کرنے سے حاصل ہو جاتی ہے۔

علامہ بدر الدین عینی حنفی نے "البنایہ شرح الہدایہ" میں فرمایا کہ: حج کی استطاعت جس چیز سے حاصل ہوتی ہے، صاحبِ ہدایہ نے فرمایا ہے کہ زاد و راحلہ پر قدرت ہونا ضروری ہے، پھر زاد و راحلہ کی تفسیر یہ کی کہ اتنی مقدار ہو جس سے محمل کے ایک حصے کو کرائے پر لیا جا سکے، اور "محمل" سے مراد وہ سواری ہے جس کے دو پہلو ہوتے ہیں اور سوار کے لیے ایک پہلو کافی ہوتا ہے، یا رأسِ زاملہ کے برابر ہو، اور "زاملہ" اس اونٹ کو کہتے ہیں جس پر مسافر اپنا سامان اور کھانا لادتا ہے۔ نیز اتنی مقدار میں خرچ ہونا بھی ضروری ہے کہ آدمی جانے اور واپس آنے کے سفر کے لیے درمیانی درجے کے مطابق (نہ اسراف ہو نہ بخل) خرچ کر سکے، یعنی مکہ جانے اور اپنے وطن واپس آنے تک، اس حال میں کہ وہ سواری پر ہو۔

اور یہ بھی شرط ہے کہ یہ زاد و راحلہ اس کے رہائشی مکان سے زائد ہو جس میں وہ رہتا ہے، اور ان چیزوں سے بھی زائد ہو جو اس کی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں، جیسے خادم، گھر کا سامان (مثلاً بستر، قالین، برتن اور دیگر ضروری اشیاء) اور اس کے اپنے پہننے کے کپڑے، کیونکہ یہ سب بنیادی ضرورتوں میں شامل ہیں، اور جو چیز بنیادی ضرورت میں مشغول ہو وہ گویا موجود ہی نہیں سمجھی جاتی۔ نیز یہ بھی شرط ہے کہ یہ اس کے اہل و عیال کے خرچ سے زائد ہو، اور راستے کا پرامن ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر استطاعت ثابت نہیں ہوتی۔

مردوں کے لیے حج کی استطاعت کی شرائط میں فقہائے شافعیہ کا مسلک

شافعیہ نے بھی اس مسئلے میں احناف سے اتفاق کیا ہے، اور اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ آدمی کا جسمانی طور پر صحت مند ہونا اور مناسکِ حج ادا کرنے کی قدرت رکھنا بھی شرط ہے؛ لہٰذا اگر کوئی شخص بیمار ہو اور اسے ایسی مشقت لاحق ہو جو عام طور پر برداشت کے قابل نہ ہو تو اس پر حج لازم نہیں ہوتا۔

علامہ عمرانی شافعی نے "البیان فی مذہب الإمام الشافعی" میں فرمایا کہ صاحبِ استطاعت دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو اپنے بدن کے اعتبار سے استطاعت رکھتا ہو، اور دوسرا وہ جو کسی دوسرے کے ذریعے استطاعت رکھتا ہو۔ جہاں تک بدنی استطاعت رکھنے والے کا تعلق ہے تو اس کے لیے چند شرائط ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جسمانی طور پر صحیح و سالم ہو، اور ایک شرط یہ بھی ہے کہ یہ تمام شرائط ایسے وقت میں جمع ہوں کہ اس کے پاس حج تک پہنچنے کے لیے کافی وقت باقی ہو۔ پس اگر کوئی شخص بیمار ہو اور اسے سواری یا سفر میں کوئی غیر معمولی مشقت پیش آئے تو اس پر حج لازم نہیں ہوگا؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: "جسے کوئی ظاہری ضرورت، یا روک دینے والی بیماری، یا ظالم حکمران حج سے نہ روکے، پھر بھی وہ حج نہ کرے اور مر جائے تو وہ چاہے یہودی مرے یا نصرانی۔"

مردوں کے لیے حج کی استطاعت کی شرائط میں فقہائے حنابلہ کا مسلک

حنابلہ نے بھی اس مسئلے میں احناف کے موقف سے اتفاق کیا ہے، اور اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ انسان کا ذمّہ ہر قسم کے واجبات سے خالی ہونا چاہیے، جیسے زکوٰۃ، کفارہ، نذر یا دیگر شرعی واجب اخراجات۔

امام بہوتی حنبلی نے "الروض المربع" میں فرمایا کہ "قادر" سے مراد وہ شخص ہے جو سواری پر سوار ہونے کی قدرت رکھتا ہو اور اس کے پاس زاد و راحلہ موجود ہو، اور وہ اس کے حال کے مطابق مناسب بھی ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ کے متعلق مروی ہے کہ آ پ ﷺ سے اس آیت میں "سبیل"کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "سبیل سے مراد زاد و راحلہ ہے۔"  پھر یہ بھی شرط ہے کہ یہ سب کچھ واجبات کی ادائیگی کے بعد ہو، جیسے قرض، زکوٰۃ، کفارات اور نذریں، اور اس کے بعد اس کے اور اس کے اہل و عیال کے شرعی اخراجات پورے کیے جا چکے ہوں، نیز اس کی بنیادی ضروریات جیسے کتابیں، رہائش، خادم وغیرہ بھی پوری ہوں ۔

مردوں کے لیے حج کی استطاعت کی شرائط میں فقہائے مالکیہ کا مسلک

مالکیہ کے نزدیک استطاعت کی شرائط یہ ہیں کہ انسان بغیر غیر معمولی مشقت کے مکہ مکرمہ تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہو، اس کی جان اور مال محفوظ ہوں، اور وہ فرائضِ دینیہ ادا کرنے پر قادر ہو۔ انہوں نے استطاعت میں اس بات کو شرط قرار نہیں دیا کہ مکہ میں قیام کے دوران اس کے پاس خرچ موجود ہو؛ یعنی ان کے نزدیک اصل اعتبار صرف وہاں تک پہنچنے کی قدرت اور  مذہب میں ظاہر قول کے مطابق واپس آنے کی قدرت کا ہے ۔

امام حطاب مالکی نے "مواہب الجلیل فی شرح مختصر خلیل" میں فرمایا کہ علماء نے واضح کیا ہے کہ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ انسان بغیر مشقت کے بیت اللہ تک پہنچ سکے، اپنی جان اور مال کے بارے میں مطمئن ہو، اور فرائض کی ادائیگی پر قادر ہو۔

علامہ مواّق مالکی نے "التاج والإکلیل لمختصر خلیل" میں فرمایا کہ لَخمی وغیرہ نے صراحت کی ہے کہ استطاعت میں اصل اعتبار صرف اس چیز کا ہے جو آدمی کو (مکہ تک) پہنچا دے، الا یہ کہ اسے یقین ہو کہ اگر وہ وہاں ٹھہر گیا تو ضائع ہو جائے گا اور اپنی جان کے بارے میں خطرہ محسوس کرے گا، تو ایسی صورت میں وہ اس مقدار کا اعتبار کرے گا جو اسے وہاں تک پہنچائے اور پھر کسی قریبی جگہ تک واپس لا سکے جہاں وہ گزارہ کر سکتا ہو۔۔۔ اور ابن المعلیٰ نے بعض متاخرین سے نقل کیا ہے کہ جانے اور واپس آنے دونوں کی قدرت کا اعتبار کیا جائے، اور یہی ظاہر قول ہے۔

اور اس مقام پر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر کسی شخص کو متعلقہ حکام کی طرف سے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا جائے کسی انتظامی وجہ سے، یا وہ سرے سے ویزا حاصل ہی نہ کر سکے، تو ایسی صورت میں وہ صاحبِ استطاعت شمار نہیں ہوگا، چاہے اس کے پاس تمام ضروری اخراجات موجود ہوں اور وہ مذکورہ تمام شرائط بھی پوری ہوں۔

خلاصہ

مذکورہ تفصیل اور فقہاء کے اقوال کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان کے صاحبِ استطاعت ہونے اور اس پر حج کے فرض ہونے کے لیے یہ شرائط لازم ہیں کہ اس کے پاس حج کے اخراجات (جانے، قیام اور واپسی) موجود ہوں، اور یہ اخراجات اس کی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے زائد ہوں، نیز وہ جسمانی طور پر صحت مند ہو اور مناسکِ حج ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اس کے ذمے کوئی واجب حق باقی نہ ہو، جیسے زکوٰۃ، کفارہ، نذر یا دیگر شرعی واجب اخراجات، اور اسے متعلقہ حکام کی طرف سے مقررہ ضوابط کے مطابق حج ادا کرنے کی اجازت بھی حاصل ہو۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas