حکمِ “بشعہ” پر عمل کرنا

Egypt's Dar Al-Ifta

حکمِ “بشعہ” پر عمل کرنا

Question

بطورِ ثبوت "بَشْعَہ (آزمائش بآتش کا قبائلی طریقہ)"کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد: الزامات کو ثابت کرنے یا مجرم کی شناخت کے لیے "بَشْعَہ (آزمائش بآتش کا قبائلی طریقہ)" کا استعمال شرعاً حرام ہے، کیونکہ یہ کہانت اور عرافہ (غیب دانی کے دعووں) کی ایک قسم ہے، اور شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں جس پر اس کا انحصار ہو یا جس کے تحت اسے شامل کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ اس میں انسانی جان کو اذیت دینا اور اس پر زیادتی کرنا بھی شامل ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جان پر زیادتی کو حرام قرار دیا ہے۔

رہا الزامات کو ثابت کرنا یا ان کی نفی کرنا، تو وہ اُن ہی طریقوں کے ساتھ محدود ہے جو شریعتِ مطہرہ نے اس کے لیے مقرر کیے ہیں، جیسے اقرار، شواہد یا ان کے مشابہ دیگر ذرائع،اور اس کا اختیار عدالتی اداروں کو حاصل ہے؛ کیونکہ ان کے پاس تحقیق اور ثبوت کے ایسے وسیع اختیارات ہوتے ہیں جو عام افراد کو حاصل نہیں ہوتے۔

تفصیل…

بشعہ کی مراد کا بیان

“بَشْعَہ” یا “بِشْعَہ” اُن رسوم میں سے ایک ہے جو بعض قبائلی معاشروں میں پیچیدہ معاملات میں، جہاں کوئی مادی ثبوت یا گواہ موجود نہ ہو، “براءت ثابت کرنے یا جھوٹ کو ظاہر کرنے” کے طریقے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ عمل ایک ایسے شخص کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے جسے “مُبشِّع” کہا جاتا ہے، جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے یہ طریقہ اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں ملا ہے، اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے اس میدان میں خاص حکمت اور تجربہ حاصل ہے۔ اس طریقہ کار میں وہ ایک دھاتی ٹکڑے کو آگ پر اتنا گرم کرتا ہے کہ وہ تپ کر سرخ ہو جاتا ہے، پھر ملزم شخص (جو اپنی براءت ثابت کرنا چاہتا ہے) سے، خواہ اس کی رضا سے یا زبردستی، کہا جاتا ہے کہ وہ اس تپتی ہوئی دھات کو اپنی زبان سے چاٹے، پھر فوراً اسے پانی کا ایک گھونٹ پلایا جاتا ہے، اس کے بعد “مُبشِّع یہ عمل کرانے والا” اس کی زبان کا معائنہ کرتا ہے تاکہ یہ فیصلہ کرے کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا۔ (ملاحظہ ہو: “عشائر الشام” از احمد وصفی زکریا، صفحہ 271، دار الفكر)

بشعہ کے ذریعے براءت ثابت کرنے یا جھوٹ ظاہر کرنے کا حکم

حقوق کو ثابت کرنے یا ان کی نفی کرنے، یا کسی پر الزام ثابت کرنے اور مجرم کی شناخت کرنے یا الزام کی نفی کرنے کا یہ طریقہ شریعتِ مطہرہ کی کسی اصل پر مبنی نہیں ہے، اور اس کی طرف رجوع کرنا یا اس پر عمل کرنا شرعاً حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقوق اپنے مستحقین کے لیے صرف اُن وسائلِ اثبات کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں جو شریعت نے مقرر کیے ہیں، اور جرائم بھی اپنے مرتکبین پر انہی معتبر وسائلِ اثبات کے ذریعے ثابت ہوتے ہیں، جیسے گواہیاں اور قسمیں، جن کا ذکر احادیثِ نبویہ میں آیا ہے، چنانچہ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قسم مدعا علیہ پر ہے، اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ دلیل (گواہی) مدعی پر ہے اور قسم انکار کرنے والے پر۔

پس شریعتِ مطہرہ نے الزامات کو ثابت کرنے کو اُن ہی طریقوں کے ساتھ وابستہ رکھا ہے جو اس نے اس کے لیے مقرر کیے ہیں، جیسے اقرار، گواہیاں یا ان جیسے دیگر ذرائع؛ اور اگر اس کے علاوہ کسی اور طریقے کو اختیار کیا جائے تو یہ ہلاکت، فساد کے پھیلاؤ اور حقوق کے ضیاع کا سبب بنے گا۔

قاضی عیاض بن موسی نے “إكمال المعلم” (5/555، دار الوفاء) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف توجہ دلائی جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر لوگوں کو صرف ان کے دعووں کی بنیاد پر ہی دے دیا جائے تو کچھ لوگ دوسروں کے خون اور مال کا دعویٰ بھی کر بیٹھیں گے”۔ اس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ اگر مدعی کی بات ہی کو معتبر مان لیا جائے تو خون اور مال سب کے لیے مباح ہو جائیں گے، اور کسی شخص کے لیے اپنے جان و مال کی حفاظت ممکن نہ رہے گی۔ البتہ مدعی اپنے مال کی حفاظت گواہیوں کے ذریعے کر سکتا ہے، اسی وجہ سے شریعت میں اسی اصول پر قائم کیا گیا ہے۔

اور اس لئے بھی کہ “بشعہ” کہانت اور عرافہ (غیب دانی) کی ایک قسم ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایک مخفی امر، یعنی انسان کے سچ یا جھوٹ کو، ایسے طریقے سے ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کا سبب نہیں بنایا۔ اس طرح “مُبشِّع” اپنے اس عمل کے ذریعے خود کو اس مقام پر فائز کرتا ہے جیسے وہ پوشیدہ امور سے واقف ہو، جو کہ ایک باطل دعویٰ ہے اور عقل کے بھی خلاف ہے۔ مزید یہ کہ اس کا استعمال ایک قسم کا عذاب دینا اور انسانی جان پر زیادتی کرنا ہے، جو شریعت میں حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز کا حکم دیا ہے جو انسان کی حفاظت کرے اور ہر اس چیز سے منع فرمایا ہے جو اسے نقصان پہنچائے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ ترجمہ: "اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔"

اور عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “لا ضرر ولا ضرار” ترجمہ:“کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً”۔

اسی طرح ہر قسم کی ایذا رسانی شریعت میں حرام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے عموم سے واضح ہوتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾ [الأحزاب: 58]، ترجمہ: "اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے اذیت دیتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔" [الأحزاب: 58] اس کا مطلب یہ ہے: “مومن کو اذیت دینے سے بچو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اس کے لیے غضبناک ہوتا ہے”، جیسا کہ امام محمد بن جریر الطبری کی تفسیر “جامع البیان” (20/324، مؤسسة الرسالة) میں قتادة بن دعامة سے نقل کیا گیا ہے۔

خلاصہ

مذکورہ تمام تفصیل کی روشنی میں اور سوال کی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے: الزامات کو ثابت کرنے یا مجرم کی شناخت کے لیے "بَشْعَہ (آزمائش بآتش کا قبائلی طریقہ)" کا استعمال شرعاً حرام ہے، کیونکہ یہ کہانت اور عرافہ (غیب دانی کے دعووں) کی ایک قسم ہے، اور شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں جس پر اس کا انحصار ہو یا جس کے تحت اسے شامل کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ اس میں انسانی جان کو اذیت دینا اور اس پر زیادتی کرنا بھی شامل ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جان پر زیادتی کو حرام قرار دیا ہے۔ رہا الزامات کو ثابت کرنا یا ان کی نفی کرنا، تو وہ اُن ہی طریقوں کے ساتھ محدود ہے جو شریعتِ مطہرہ نے اس کے لیے مقرر کیے ہیں، جیسے اقرار، شواہد یا ان کے مشابہ دیگر ذرائع،اور اس کا اختیار عدالتی اداروں کو حاصل ہے؛ کیونکہ ان کے پاس تحقیق اور ثبوت کے ایسے وسیع اختیارات ہوتے ہیں جو عام افراد کو حاصل نہیں ہوتے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas