ڈپازٹ رقم کی زکوۃ

Egypt's Dar Al-Ifta

ڈپازٹ رقم کی زکوۃ

Question

ت سال ٢٠٠٣ مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل سوال پرمشتمل ہے:

سائل کہتے ہیں: میں نے دو سال سے فیصل اسلامی بینک میں گیارہ ہزار مصری پونڈ ڈپازٹ رکھے تاکہ ہر تین ماہ پر اس رقم کا فائدہ نکالوں اور اپنے روز مرہ کے اخرجات میں صرف کرلوں کیونکہ میری آمدنی میری ضرورتوں سے کم ہے. اب سائل پوچھتا ہے: کیا مجھے بینک میں دو سال تک رکھی گئی رقم کی زکوۃ نکالنا لازمی ہے؟ اور وہ ہر سال کی کتنی رقم بنے گی؟.

Answer

زکوۃ فرض ہے اور اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے یہ ایک مسلمان کے مال پر اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ مال شرعی مقرر کردہ نصاب کو پہونچ جائے اور اس پر ایک سال گذر جائے اور وه قرضے سے بھی خالی ہو نیز زکوۃ نکالنے والے کی بنیادی ضرورتوں سے زائد ہو اور جن کا نفقہ زکوۃ نکالنے والے کے ذمہ ہو ان کی ضرورت سے بھی فاضل ہو. شرعی نصاب کی مقدار اکیس کرٹ کے پچاسی گرام سونے کی رائج قیمت کے برابر ہے اس کا حساب زکوۃ نکالنے کے وقت کے مطابق لگایا جائیگا.
اس بنا پر اور سوال کو مد نظر رکھتے ہوئے سائل پر مجموعی اصل پونجی کی زکوۃ نکالنا واجب ہے اور اس رقم سے جو فائدہ ملتا رہا اس پر زکوۃ نہیں ہے کیونکہ وہ ملتے ہی پہلی فرصت میں اپنی ضروریات زندگی میں صرف کرتا جاتا تها، اس لئے زکوۃ صرف ان دو سالوں کی نکالنی ہو گی جن کی زکوۃ ابھی نہیں نکالی گئی ہے تاکہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں بری الذمہ ہو. اور زکوۃ کی قیمت دسویں حصے کا چوتھائی حصہ ہے یعنی ڈھائی فیصد.

امید ہے کہ مذکورہ بالا بیان سے جواب حاصل کرلیا جائیگا.

باقى اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas