بطورِ قرض دیے گئے مال کی زکوٰۃ کا حکم
Question
کیا وہ مال جو میں نے لوگوں کو بطورِ قرض دیا ہوا ہے، اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اور اسے کب ادا کرنا واجب ہوگا؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ مال پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب اس میں وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط پائی جائیں، یعنی مکمل ملکیت حاصل ہو، نصاب کو پہنچا ہو جو کہ اکیس قیراط سونے کے پچاسی گرام کی قیمت کے برابر ہے، ایک مکمل قمری سال گزر چکا ہو، اور یہ مال زکوٰۃ دینے والے اور اس کے زیر کفالت افراد کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو، اور زکوٰۃ چوتھائی عشر یعنی ڈھائی فیصد کے حساب سے ادا کی جاتی ہے۔ قرض ہونا زکوٰۃ کے وجوب کو ساقط نہیں کرتا، بلکہ قرض دینے والے پر لازم ہے کہ وہ اس مال کی زکوٰۃ ادا کرے جو اس نے کسی کو بطورِ قرض دیا ہے، لیکن اس کی زکوٰۃ اس وقت ادا کرے گا جب وہ اسے واپس وصول کر لے، اور پھر صرف ایک سال کی زکوٰۃ دے گا چاہے وہ قرض کئی سال تک مقروض کے پاس رہا ہو، بشرطیکہ اس نے وصولی میں تاخیر زکوٰۃ سے بچنے کے ارادے سے خود نہ کی ہو۔ اور اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے ارادے کے برعکس اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا اور گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا اس پر واجب ہوگی۔
تفصیل۔۔۔
مال کی زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط
شرعاً یہ بات طے شدہ ہے کہ زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ [التوبة: 60]۔ ترجمہ: "صدقات (زکات) تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہےاور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا وحکمت واﻻ ہے۔"
اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا»۔ متفق علیہ۔
اور زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط یہ ہیں: مکمل ملکیت حاصل ہونا، نصاب کو پہنچنا جو کہ اکیس قیراط سونے کے پچاسی گرام یا اس کی قیمت کے برابر ہے، ایک مکمل قمری سال کا گزر جانا، اور اس مال کا زکوٰۃ دینے والے اور اس کے زیر کفالت افراد کی بنیادی ضروریات سے زائد ہونا۔
پس جب یہ شرائط کسی مال میں پائی جائیں اور وہ انسان کی ملکیت و قبضہ میں ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے، اور اسے چوتھائی عشر یعنی ڈھائی فیصد کے حساب سے ادا کیا جاتا ہے۔
بطورِ قرض دیے گئے مال کی زکوٰۃ کا حکم
اگر کسی مال میں زکوٰۃ کی تمام شرائط پائی جائیں لیکن اس کے مالک نے وہ مال کسی دوسرے شخص کو قرض دے رکھا ہو تو اس قرض کی دو حالتیں ہو سکتی ہیں:
پہلی حالت: جب قرض کی واپسی کی امید ہو، یعنی مقروض (قرض لینے والا) صاحبِ حیثیت ہو اور قرض کا اقرار بھی کرتا ہو، تو اس صورت میں احناف اور حنابلہ کی رائے یہ ہے کہ صاحبِ مال قرض وصول کرنے کے بعد اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا، جبکہ شافعیہ کے معتمد قول کے مطابق اگر قرض حال (فوری ادا ہونے والا) ہو تو اسی وقت اس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے، اور اگر مؤجل (مدت والا) ہو تو اسے وصول کرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔
علامہ قدوری حنفی نے التجرید میں فرمایا: ہمارے اصحاب کا کہنا ہے کہ جب کسی شخص کا ایسے آدمی پر قرض ہو جو اس کا اقرار بھی کرتا ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، لیکن اس کی ادائیگی اس وقت تک لازم نہیں ہوتی جب تک وہ اسے وصول نہ کر لے۔
اور علامہ تقی الدین حصنی شافعی نے اپنی کتاب "کفایة الأخیار" میں فرمایا: اگر قرض درہم، دینار یا مالِ تجارت کی صورت میں ہو تو اس میں زکوٰۃ کے وجوب کے بارے میں دو قول ہیں: قدیم قول یہ ہے کہ قرض میں کسی حال میں زکوٰۃ نہیں، کیونکہ اس میں تصرف کمزور ہوتا ہے، اس لیے وہ مالِ کتابت کے مشابہ ہے، جبکہ صحیح اور مشہور مذہب یہ ہے کہ اجمالاً اس میں زکوٰۃ واجب ہے، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر قرض کی وصولی ممکن نہ ہو، مثلاً مقروض تنگ دست ہو یا قرض سے انکار کرے اور اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ہو، یا وہ ٹال مٹول کرے یا غائب ہو، تو یہ مالِ مغصوب کے حکم میں ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا، اور اگر وصولی ممکن ہو، مثلاً مقروض مالدار ہو اور ادائیگی پر آمادہ ہو، یا انکار کرنے والا ہو مگر اس کے خلاف دلیل موجود ہو، تو اگر قرض حال (فوری ادا ہونے والا) ہو تو اس کی زکوٰۃ واجب ہے اور فوراً ادا کرنا لازم ہے، کیونکہ یہ حاضر مال کے حکم میں ہے، اور اگر مؤجل ہو تو وہ مالِ مغصوب کی طرح ہے، اور صحیح قول کے مطابق اس کی زکوٰۃ ادا کرنا اس وقت تک واجب نہیں جب تک اسے وصول نہ کر لیا جائے۔
اور علامہ مرداوی نے "الإنصاف" میں فرمایا: جس شخص کا کسی مالدار پر قرض ہو، خواہ وہ مہر ہو یا کچھ اور، تو وہ اسے وصول کرنے کے بعد اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا، یہی مذہب ہے اور اسی پر اصحابِ مذہب کا عمل ہے۔
دوسری حالت: جب قرض وصول ہونے کی امید نہ ہو۔
اگر قرض اس حالت میں ہو کہ اس کے وصول ہونے کی امید نہ ہو، یعنی مقروض تنگ دست ہو اور اس کے پاس وسعت نہ ہو، یا وہ ٹال مٹول کرنے والا ہو، تو اس صورت میں احناف، شافعیہ اور حنابلہ کے صحیح قول کے مطابق قرض دینے والا (صاحبِ مال) جب وہ اسے وصول کرے تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے گا۔ یہی قول امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ اور جلیل القدر صحابی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
امام علاء الدین سمرقندی نے "تحفة الفقهاء" میں فرمایا: اگر قرض لینے والا اس کا اقرار کرنے والا ہو لیکن وہ تنگ دست ہو، پھر کئی سال گزر جائیں اور بعد میں وہ صاحبِ وسعت ہو جائے اور قرض ادا کر دے تو ہمارے نزدیک قرض دینے والے پر لازم ہے کہ وہ گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے۔
اور علامہ ابن نقیب شافعی نے "عمدة السالك" میں فرمایا: اگر کسی کا مال غصب ہو جائے، یا چوری ہو جائے، یا ضائع ہو جائے، یا سمندر میں گر جائے، یا اس کا قرض کسی ٹال مٹول کرنے والے پر ہو، پھر بعد میں وہ اس پر قادر ہو جائے تو اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔
اور علامہ مرداوی نے "الإنصاف" میں فرمایا: “غیر مالدار مقروض، مؤجل قرض، منکر قرض، غصب شدہ مال، ضائع شدہ مال، اور گم شدہ مال کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ اسی طرح اگر قرض کسی ٹال مٹول کرنے والے پر ہو، یا وہ مال چوری ہو گیا ہو، یا وراثت میں ملا ہو مگر اس کا علم نہ ہو، یا یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے، تو بھی یہی حکم ہے۔ اور اس مسئلے کو متعدد کتب جیسے الفروع، الشرح، الرعايتین، الحاويين، المستوعب، المذهب الأحمد اور المحرر میں مطلق رکھا گیا ہے۔ ان دونوں روایتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب مال اُس قرض کے حکم میں ہیں جو مالدار شخص پر ہو، لہٰذا جب بھی یہ مال وصول ہو جائے تو اس کی زکوٰۃ واجب ہوگی، اور یہی مذہب کا صحیح قول ہے۔”
مالِکیہ کا قرض دیے گئے مال کی زکوٰۃ کا مذہب
مالکیہ کے نزدیک وہ قرض جو کسی کو دیا گیا ہو، خواہ اس کی وصولی کی امید ہو یا نہ ہو، اس کا مالک جب وہ اسے وصول کرے تو اس پر صرف ایک سال کی زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، بشرطیکہ اس نے وصولی میں تاخیر زکوٰۃ سے بچنے کے ارادے سے خود نہ کی ہو۔ اگر وہ جان بوجھ کر وصولی مؤخر کرے تاکہ زکوٰۃ سے بچ سکے تو پھر اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی، جیسا کہ ابن القاسم کا قول ہے۔
اور شیخ الدردیر نے "الشرح الكبير" میں فرمایا: “اس مال میں صرف ایک سال کی زکوٰۃ اس وقت واجب ہوگی جب زکوٰۃ سے بچنے کے لیے قرض کی وصولی میں جان بوجھ کر تاخیر نہ کی گئی ہو ، اور اگر اس نے عمداً تاخیر کی ہو تو ابن القاسم کے نزدیک وہ گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے گا۔”
اور فتویٰ کے لیے راجح قول وہی ہے جو مالکی فقہاء نے اختیار کیا ہے کہ قرض میں زکوٰۃ اس کے مالک پر اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ اسے وصول کرے، اور وہ صرف ایک سال کی زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کی بنیاد آسانی، لوگوں کے مصالح کی رعایت اور ان سے مشقت کے خاتمے پر ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ ﷺ ہمیشہ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے تھے۔
اسی طرح اس رائے پر عمل کرنے میں قرض دینے اور لوگوں کی مشکلات دور کرنے کی ترغیب بھی ہے، جبکہ قرض دینے والے کو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا پابند کرنا اس قدر مشقت اور تنگی پیدا کرتا ہے جس کی قرآنِ کریم نے امت سے نفی کی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾، ترجمہ: "اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی"۔ لہٰذا یہ قول کہ قرض کی زکوٰۃ صرف وصولی کے بعد ایک سال کے لیے واجب ہو، شریعت کے مقاصد کے زیادہ قریب اور آسانی و عدل کے اصول سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔
خلاصہ
اس بنا پر : مال پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب اس میں وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط پائی جائیں، یعنی مکمل ملکیت حاصل ہو، نصاب کو پہنچا ہو جو کہ اکیس قیراط سونے کے پچاسی گرام کی قیمت کے برابر ہے، ایک مکمل قمری سال گزر چکا ہو، اور یہ مال زکوٰۃ دینے والے اور اس کے زیر کفالت افراد کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو، اور زکوٰۃ چوتھائی عشر یعنی ڈھائی فیصد کے حساب سے ادا کی جاتی ہے۔ قرض ہونا زکوٰۃ کے وجوب کو ساقط نہیں کرتا، بلکہ قرض دینے والے پر لازم ہے کہ وہ اس مال کی زکوٰۃ ادا کرے جو اس نے کسی کو بطورِ قرض دیا ہے، لیکن اس کی زکوٰۃ اس وقت ادا کرے گا جب وہ اسے واپس وصول کر لے، اور پھر صرف ایک سال کی زکوٰۃ دے گا چاہے وہ قرض کئی سال تک مقروض کے پاس رہا ہو، بشرطیکہ اس نے وصولی میں تاخیر زکوٰۃ سے بچنے کے ارادے سے خود نہ کی ہو۔ اور اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے ارادے کے برعکس اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا اور گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا اس پر واجب ہوگی۔
والله سبحانه وتعالى
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
