اس شخص کا حکم جس نے تیمم کر کے نماز...

Egypt's Dar Al-Ifta

اس شخص کا حکم جس نے تیمم کر کے نماز ادا کی پھر وقت ختم ہونے سے پہلے پانی مل گیا

Question

اگر کسی شخص نے حضر (یعنی مقیم حالت) میں پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کر کے نماز ادا کر لی، پھر نماز پڑھنے کے بعد  نوقت ختم ہونے سے پہلے پانی مل جائے تو کیا اس پر نماز کا اعادہ لازم ہوگا یا نہیں؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ مقیم شخص کے لیے اس وقت تیمم کرنا شرعاً جائز ہے کہ جب اسے یقین ہو جائے کہ اسے وضو یا غسل کے لیے پانی ایسی مسافت پر بھی میسر نہیں جو بغیر مشقت اور حرج کے قابلِ حصول ہو۔ پس اگر وہ تیمم کر کے نماز ادا کر لے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسے پانی مل جائے تو اس کا تیمم باطل نہیں ہوتا، اور اس کی نماز کافی ہو جاتی ہے، اگرچہ ابھی نماز کا وقت باقی ہو، جیسا کہ جمہور فقہاء یعنی احناف، مالکیہ اور حنابلہ کا موقف ہے۔

تفصیل...

جمہور علماء—حنفیہ، مالکیہ، اکثر شافعیہ اور حنابلہ—اس بات کے قائل ہیں کہ مقیم مسلمان کے لیے پانی نہ ملنے یا منقطع ہونے کی صورت میں تیمم کرنا مشروع ہے، بشرطیکہ اسے یہ یقین ہو جائے کہ وہ طہارت کے لیے پانی اس فاصلے پر نہیں پا سکتا جہاں تک پہنچنا بغیر کسی مشقت یا حرج کے ممکن ہو۔ اس فاصلے کی تعیین میں فقہاء کے درمیان اگرچہ اختلاف ہے، لیکن یہ اختلاف دراصل خود فاصلے کی مقدار کے بارے میں نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ضابطہ مقرر کرنا ہے جس کے ذریعے مشقت کو دور کیا جائے اور اس حرج کو ختم کیا جائے جو مکلف کو اس مقررہ مسافت سے آگے پانی تلاش کرنے میں پیش آتا ہے۔ اور یہ حکم اس صورت کے ساتھ خاص نہیں کہ پانی حقیقتاً موجود نہ ہو، بلکہ اس میں وہ صورتیں بھی شامل ہیں جن میں پانی حکماً موجود نہ ہو، مثلاً یہ کہ موجود پانی طہارت کے لیے کافی نہ ہو، یا انسان کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے پانی استعمال کرنے پر قادر نہ ہو؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا﴾ [النساء: 43]۔ ترجمہ: “اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آئے یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو، پس اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو، بے شک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔” (النساء: 43)

اور آیتِ کریمہ میں سفر کا ذکر بطورِ خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ غالب حالت ہے، یعنی عام طور پر پانی کی عدم دستیابی سفر میں پیش آتی ہے،  اس لیے مثال کے طور پر سفر کا ذکر ہوا ہے، ورنہ حکم حضر کو بھی شامل ہے؛ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں: فخر الدین الزیلعی کی “تبیین الحقائق” (1/37)، اکمل الدین البابرتی کی “العناية شرح الهداية” (1/122)، ابن رشد کی “المقدمات الممهدات” (1/112–118)، امام الحرمین الجوینی کی “نهاية المطلب” (1/186)، عمرانی کی “البيان” (1/286)، اور ابن قدامہ کی “المغني” (1/172)۔

اس شخص کا حکم جس نے تیمم کر کے نماز ادا کی پھر وقت ختم ہونے سے پہلے پانی مل گیا

اگر تیمم کرنے والے شخص کو نماز ادا کرنے کے بعد پانی مل جائے تو اس کی ادا کردہ نماز کافی ہے، اور اس پر نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے اس وقت وہی عمل کیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، یعنی پانی نہ ہونے کی حالت میں تیمم کے ساتھ نماز ادا کرنا۔ اس طرح نماز شرعی طریقے کے مطابق مکمل ہو گئی، اور نمازی ذمہ داری سے بری ہو گیا، اور اس سے فرض ساقط ہو گیا۔ یہی جمہور فقہاء یعنی احناف، مالکیہ اور حنابلہ کا موقف ہے۔([1])

اس کی دلیل ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ دو آدمی سفر پر نکلے، نماز کا وقت آگیا اور ان کے پاس پانی نہ تھا، تو دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ پھر وقت کے اندر انہیں پانی مل گیا، چنانچہ ایک نے دوبارہ وضو کر کے نماز دہرائی، جبکہ دوسرے نے نہ دہرائی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ بیان کیا، تو آپ ﷺ نے جس نے نماز نہیں دہرائی اسے فرمایا: “تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہاری نماز کافی ہو گئی”، اور جس نے وضو کر کے نماز دہرائی اسے فرمایا: “تمہارے لیے دوہرا اجر ہے”۔ اسے ابو داود، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے اسے امام بخاری و امام مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، جبکہ نسائی کے الفاظ میں ہے: “اور دوسرے سے فرمایا: تمہارے لیے ایک اور حصے کا اجر ہے”۔

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تیمم کرنے والے شخص کے لیے نماز دہرانا واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر نماز دہرانا لازم ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صحابی کو ضرور دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیتے جس نے پانی ملنے کے بعد بھی نماز نہیں دہرائی تھی، بلکہ آپ ﷺ نے اسے یہ بتایا کہ اس کی نماز کافی اور درست ہے۔

فقہاءِ شافعیہ اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص حضر (مقیم حالت) میں تیمم کر کے نماز پڑھ لے، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسے پانی مل جائے تو وہ اپنی نماز دوبارہ پڑھے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضر میں پانی کا نہ ملنا ایک نادر پیش آنے والا اور غیر مستقل عذر ہے، اس لیے اس عذر کی وجہ سے نماز کی اعادہ کی ذمہ داری ساقط نہیں ہوتی۔([2])

خلاصہ

اس سے معلوم ہوا کہ مقیم شخص کے لیے اس وقت تیمم کرنا شرعاً جائز ہے کہ جب اسے یقین ہو جائے کہ اسے وضو یا غسل کے لیے پانی ایسی مسافت پر بھی میسر نہیں جو بغیر مشقت اور حرج کے قابلِ حصول ہو۔ پس اگر وہ تیمم کر کے نماز ادا کر لے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسے پانی مل جائے تو اس کا تیمم باطل نہیں ہوتا، اور اس کی نماز کافی ہو جاتی ہے، اگرچہ ابھی نماز کا وقت باقی ہو، جیسا کہ جمہور فقہاء یعنی احناف، مالکیہ اور حنابلہ کا موقف ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

 


[1]  "الرسالة" از امام ابن أبي زيد القيرواني مالکی (صفحہ 22، دار الفكر)، "الثمر الداني" از علامہ آبی مالکی (صفحہ 80، المكتبة الثقافية)، اور "الشرح الكبير" از امام شمس الدین ابن قدامہ حنبلی (جلد 1، صفحہ 276، دار الكتاب العربي)۔

[2]  “المہذب” از امام ابو اسحاق الشیرازی  (1/74، دار الكتب العلمية)

Share this:

Related Fatwas