مقابر کے قیام کے شرعی ضوابط
Question
قبرستان بنانے کے شرعی ضوابط کیا ہیں؟ چونکہ ہم ایک قبرستان کے پروجیکٹ پر کام کا آغاز کرنے والے ہیں، اور اس کے مالکان کی حیثیت سے، لائسنسنگ اور عملی اقدامات شروع کرنے سے پہلے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قبرستان کے قیام اور اس کی تیاری کے وقت کن شرعی ضوابط کی رعایت ضروری ہے، تاکہ یہ منصوبہ اسلامی شریعت کے احکام، آدابِ تدفین اور جنازے کے شرعی قواعد کے مطابق ہو۔
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ شریعتِ مطہرہ نے انسان کو فضیلت اور عزت بخشی ہے، اسی لیے اس کے انتقال کے بعد اس کے لیے قبر مقرر کی ہے جو اسے اپنے اندر چھپا لیتی ہے اور اس کی حفاظت کرتی ہے، تاکہ انسان کی حرمت برقرار رہے اور اس کی امانت محفوظ رہے۔
اصل یہ ہے کہ تدفین کی جگہ قبر زمین میں گہری کھودی جائے۔ کم از کم اس کی گہرائی اتنی ہو کہ ایک انسان اپنا ہاتھ سر سے اوپر اٹھائے تو اس کے برابر ہو۔ نیز قبر کی لمبائی میت کے قد کے بقدر اور چوڑائی اس کی لمبائی کے نصف کے برابر ہو، بشرطیکہ قبر لحد یا شق کی صورت میں بنائی جا رہی ہو۔
اگر زمین ایسی نہ ہو کہ اس میں لحد یا شق بنانا ممکن ہو، تو فساقی (پختہ قبریں)، حجرے یا کمرے اور ان جیسی دیگر صورتوں میں تدفین کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ قبر میں شرعاً مطلوب مقاصد حاصل ہوتے ہوں، مثلاً یہ کہ قبر میت کے جسم کو چھپانے والی ہو، قبر نے ڈھانپ رکھا ہو اور اس کی بو کو زندہ لوگوں تک پہنچنے سے روک رہی ہو۔ قبر کا انجینئرنگ ڈیزائن ایسا ہو کہ میت کو اس کے دائیں پہلو پر لٹایا جا سکے، اس حال میں کہ اس کا چہرہ اور دایاں پہلو قبلہ رخ ہو۔ قبر مضبوطی سے بند کی گئی ہو، تاکہ میت کو چوری، قبر کشائی، درندوں یا اس جیسے دیگر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ قبر کے اندرونی حصے کی سطح ہموار اور برابر ہو۔ اور قبر کے باہر ایسی علامت لگانے میں کوئی حرج نہیں جس سے اس کی شناخت ہو سکے اور معلوم ہو جائے کہ یہ کس کی قبر ہے۔ یہ سب کچھ متعلقہ ضوابط اور قوانین کی رعایت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
تفصیل...۔
میتوں کی تدفین کا حکم
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عزت و فضیلت دیگر مخلوقات پر عطا فرمائی ہے، اس کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی وفات کے بعد اس کے لیے قبر مقرر فرمائی ہے، جو اسے اپنے اندر چھپا لے اور یہ ایسا ٹھکانہ بنے جس میں وہ محفوظ رہے، تاکہ اس کی حرمت برقرار رہے اور اس کی امانت محفوظ رہے، نیز اس کی بو نہ پھیلے، نہ درندے اور شکاری جانور اس کے جسم کو نوچ سکیں، نہ کوئی چور قبر کھود کر اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ کوئی ظالم اس کی بے حرمتی کر سکے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ - ترجمہ: "اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا، اسی میں ہم تمہیں واپس لوٹائیں گے، اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے﴾۔ [طٰہٰ: 55]۔ اور اللہ تعالی نے بطورِ احسان و نعمت فرمایا: ﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا﴾ ترجمہ: کیا ہم نے زمین کو سمیٹ لینے والی نہیں بنایا؟ زندوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی﴾۔ [المرسلات: 25-26]۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُۥ﴾ ترجمہ: "پھر اس نے اسے موت دی، پھر اسے قبر میں رکھوایا"۔ [عبس: 21]
مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ میت کو دفن کرنا اور اس کے جسم کو مٹی میں چھپانا فرضِ کفایہ ہے۔ چنانچہ جب بعض لوگ یا ان کے علاوہ کوئی اس فریضے کو ادا کر دے تو باقی لوگوں سے اس کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔([1])
مقابر قائم کرتے وقت شرعی ضوابط
اصل یہ ہے کہ تدفین کی جگہ قبر کو زمین میں گہرا کھودا جائے۔ اس کی کم از کم گہرائی اتنی ہو کہ ایک عام آدمی اپنا ہاتھ سر سے اوپر اٹھائے تو اس کے قد کے برابر ہو، یعنی تقریباً سوا دو میٹر (2.25 میٹر)۔
اسی طرح قبر کی تیاری اور ساخت میں یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ اس کی لمبائی میت کے قد کے مطابق ہو، اور اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے نصف کے برابر ہو۔ البتہ اگر چوڑائی اس سے زیادہ رکھی جائے تو یہ بہتر اور مستحسن ہے۔ ([2])
یہ اس صورت میں ہے جب تدفین کا طریقہ "شق" ہو۔ شق یہ ہے کہ زمین میں تدفین کی جگہ کو ایک عام آدمی کے اس قد کے برابر گہرا کھودا جائے جو اپنا ہاتھ سر سے اوپر اٹھائے، یعنی تقریباً سوا دو میٹر (2.25 میٹر)۔ پھر اس گڑھے کے نچلے حصے میں میت کو اس کی لمبائی کے مطابق رکھنے کے لیے مزید کھدائی کی جائے، تاکہ اسے اس کے دائیں پہلو پر اس طرح لٹایا جا سکے کہ اس کا سینہ قبلہ رخ ہو۔ پھر میت کو قبر میں ٹیک دے کر رکھا جائے اور اس کا ہاتھ اس کے پہلو کے ساتھ ہو۔ اس کے بعد شق کے اوپر کچی اینٹیں یا پتھر رکھ دیے جائیں، پھر قبر کھودنے والا باہر نکل آئے اور قبر پر مٹی ڈال دی جائے۔
اور اگر تدفین کا طریقہ "لحد" ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ زمین میں گہرا کھودے گئے گڑھے کے اندر کھڑا شخص قبر کی قبلہ والی جانب، زمین کی سطح سے تقریباً دو تہائی گہرائی پر، ایک طاق نما جگہ کھودے جو میت کو رکھنے کے لیے کافی ہو۔ اسے اتنا گہرا بنایا جائے کہ میت کو مذکورہ طریقے کے مطابق اس کے دائیں پہلو پر لٹایا جا سکے۔ پھر اس کھلے حصے کو کچی اینٹوں یا پتھروں سے بند کر دیا جائے، اس کے بعد قبر کھودنے والا باہر نکل آئے اور قبر پر مٹی ڈال دے۔واضح رہے کہ تدفین کے یہ دونوں طریقے، یعنی شق اور لحد، عموماً سخت اور مضبوط زمین میں ہی مناسب اور قابلِ عمل ہوتے ہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ "المجموع" (5/287) میں فرماتے ہیں: "علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ لحد اور شق، دونوں طریقوں سے دفن کرنا جائز ہے۔ البتہ اگر زمین سخت ہو اور اس کی مٹی نہ گرتی ہو تو لحد افضل ہے۔۔۔ اور اگر زمین نرم ہو اور اس کی مٹی گرنے کا اندیشہ ہو تو شق افضل ہے۔"
پس اگر زمین ایسی ہو کہ نہ لحد بن سکتی ہو اور نہ شق، تو کسی اور طریقے سے تدفین کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ قبر سے شرعاً مطلوب مقاصد حاصل ہو جائیں، جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ یعنی میت کے جسم کو چھپانا اور اسے اس بات سے محفوظ رکھنا کہ وہ کسی اذیت یا بے حرمتی کا شکار ہو۔اور یہی مفتیٰ بہ قول ہے۔اسی پر ایک طویل عرصے سے مصر میں عمل بھی جاری ہے، جہاں فقہاء نے "فساقی" میں تدفین کو جائز قرار دیا ہے۔ فساقی "فسقیہ" کی جمع جو ایک چھوٹا تعمیر شدہ حجرہ ہوتا ہے جو میت کو رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے، خواہ وہ زمین کے اندر ہو یا زمین کے اوپر۔ مصر میں زمین کی نمی، دریاؤں کی قربت اور زیرِ زمین پانی کی کثرت کے باعث مٹی نرم اور رطوبت والی ہوتی ہے، اس لیے وہاں اس طریقۂ تدفین کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ حکم اس بنیاد پر ہے کہ فقہاء نے نرم یا مرطوب زمینوں میں میتوں کی تدفین کے مسئلے کو مصلحت کے پہلو سے دیکھا ہے۔ انہوں نے اس بات کو پیشِ نظر رکھا کہ میت کو ضرر اور اذیت سے بچانے کے لیے جو تدابیر مفید ہوں، انہیں اختیار کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایسی مختلف صورتوں کو جائز قرار دیا جو قبر کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنانے میں مددگار ہوں۔ لہٰذا فقہاء نے تابوت میں دفن کرنے کو جائز کہا ہے، خواہ وہ پتھر، لکڑی یا لوہے کا بنا ہوا ہو۔ اسی طرح قبر میں مٹی کی جگہ سرکنڈے یا پختہ فرش (ٹائل وغیرہ) استعمال کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ نیز ایسے پتھر رکھنے کو بھی جائز قرار دیا ہے جو قبر کو مٹ جانے یا کھودے جانے سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح ضرورت کے وقت قبر کو زیادہ کشادہ کرنے، اس کی گہرائی بڑھانے یا اس کی تعمیر کو بلند کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اور اگرچہ فقہاء کے درمیان شق اور لحد میں افضلیت کے اعتبار سے اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن دونوں طریقوں کو انہوں نے جائز قرار دیا ہے۔([3])
قبر مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی بھی شکل میں ہو، اس کے لیے چند شرعی ضوابط، احکام اور آداب کی رعایت ضروری ہے، جن کی موجودگی میں وہ میت کی تدفین کے لیے مناسب قرار پاتی ہے۔ ان میں سے چند ضوابط یہ ہیں:
اولاً: قبر ایسی ہو کہ میت کے جسم کو اپنے اندر چھپا لے، اس کی حفاظت کرے، اسے ہر قسم کی بے حرمتی اور زیادتی سے محفوظ رکھے، اور اس کی بو کو باہر نکلنے سے روکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قبر کا بنیادی مقصد میت کے جسم کی حرمت و حفاظت کو برقرار رکھنا ہے، تاکہ وہ کسی قسم کی بے حرمتی کا شکار نہ ہو، اور نہ ہی اس کی بو پھیل کر زندہ لوگوں کے لیے اذیت اور ناگواری کا سبب بنے۔ لہٰذا ایسی قبر کا ہونا ضروری ہے جو ان مقاصد کو پورا کرے۔([4])
ثانیًا: قبروں کے علاقے کے نقشے اور انجینئرنگ ڈیزائن میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ قبر کا وہ پہلو جو میت کے چہرے کے سامنے ہو، قبلہ رخ ہو، تاکہ جب میت کو اس کے دائیں پہلو پر لٹایا جائے تو اس کا سینہ قبلہ کی طرف ہو۔ یاد رہے کہ ضرورت یا حاجت کے وقت شرعاً قبلہ کی سمت سے جو انحراف قابلِ قبول ہے، وہ قبلہ کے رخ سے دائیں جانب 45 درجے اور بائیں جانب 45 درجے تک ہے۔ چنانچہ اگر دفن شدہ میت کا رخ اس حد کے اندر قبلہ کی طرف ہو اور اس سے تجاوز نہ کرے تو وہ شرعاً قبلہ رُو شمار ہوگی اور اسے قبلہ سے منحرف نہیں کہا جائے گا۔
میت کو قبلہ رخ دفن کرنا وہ طریقہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک مسلمانوں کا مسلسل عمل جاری ہے۔([5])
ثالثًا: قبر مضبوط (محکم اور ٹھوس) طریقے سے بند ہونا چاہیے، تاکہ دفن کے بعد میت کو ہر قسم کی چوری، بے حرمتی اور زیادتی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ کیونکہ یہ عمل زندوں کے حق میں تو جرم ہے ہی، اور مردوں کے حق میں تو بطریقِ اولیٰ زیادہ سنگین جرم ہے۔
امام ابن الحاج رحمہ اللہ "المدخل" (3/270) میں فرماتے ہیں: چوری زندوں کے حق میں اگر گناہِ کبیرہ ہے تو مردوں کے حق میں اس کا کیا حال ہوگا؟!"
چوتھا: قبر کے اندرونی حصے کو ہموار، برابر اور صاف ستھرا رکھا جائے۔ اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا وہ ارشاد ہے جو غزوۂ اُحد کے دن فرمایا: "قبر کو کھودو، اسے وسیع کرو اور اچھے طریقے سے بناؤ۔"
اسے ائمہ ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، اور یہ الفاظ ابن ماجہ کے ہیں۔
پانچواں: قبر پر ایسی کوئی علامت لگانا جائز ہے جس سے وہ پہچانی جا سکے، جیسے تختی یا سنگِ مرمر وغیرہ، تاکہ قبر کی شناخت آسان ہو اور صاحبِ قبر معلوم ہو سکے اور اس تک رسائی ممکن رہے۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو مطلب بن عبد اللہ بن حنطب سے منقول ہے، حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کے واقعے میں کہ نبی کریم ﷺ نے چند پتھر اٹھا کر ان کے سرہانے رکھ دیے اور فرمایا: "تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے بھائی کی قبر کو پہچان سکیں، اور اپنے اہل میں سے جو فوت ہو ان کو اس کے قریب دفن کریں۔" اسے امام ابو داود اور بیہقی نے "السنن الصغریٰ" میں روایت کیا ہے، اور یہ الفاظ بیہقی کے ہیں۔([6])
یہ اس صورت میں ہے کہ جب حاکمِ وقت (ولی الامر) کسی مصلحت کی بنا پر قبرستان کی تعمیر کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیار کرنا لازم قرار نہ دے دے ، اور وہ طریقہ پہلے بیان کردہ شرعی ضوابطِ قبر کی رعایت کے ساتھ ہو، تو اس کی پیروی شرعاً لازم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ حاکمِ وقت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مباح امور کو ایسی قیود کے ساتھ مقید کر دے جو اس کی نظر میں عمومی مصلحت کو پورا کرتی ہوں۔ اس لیے کہ قاعدہ یہ ہے کہ حاکم کے تصرفات مصلحت کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں، یعنی وہ عوامی بھلائی کے تابع ہوتے ہیں۔([7])
شیخ علی الخفیف رحمہ اللہ اپنی کتاب "الملكية في الشريعة الإسلامية" (صفحہ 90، دار الفكر العربي) میں فرماتے ہیں:
"ولی الامر کو مباحات کے دائرے میں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان میں سے ایسے امور کو لوگوں پر لازم قرار دے دے جنہیں عمومی مصلحت کا تقاضا واجب بناتا ہو، تاکہ لوگوں سے نقصان کو دور کیا جا سکے اور ان کے لیے فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ اور وہ ان ہی مباح امور میں سے بعض کو لوگوں پر ممنوع بھی قرار دے سکتا ہے، جب عمومی مصلحت اس کی متقاضی ہو تاکہ نقصان کو روکا جا سکے۔ اور جب وہ ایسا کرے تو ان احکامات کی اطاعت، خواہ وہ وجوب کی صورت میں ہوں یا ممانعت کی صورت میں، ظاہری اور باطنی طور پر لازم ہو جاتی ہے۔"
خلاصہ
شریعتِ مطہرہ نے انسان کو فضیلت اور عزت بخشی ہے، اسی لیے اس کے انتقال کے بعد اس کے لیے قبر مقرر کی ہے جو اسے اپنے اندر چھپا لیتی ہے اور اس کی حفاظت کرتی ہے، تاکہ انسان کی حرمت برقرار رہے اور اس کی امانت محفوظ رہے۔
اصل یہ ہے کہ تدفین کی جگہ قبر زمین میں گہری کھودی جائے۔ کم از کم اس کی گہرائی اتنی ہو کہ ایک انسان اپنا ہاتھ سر سے اوپر اٹھائے تو اس کے برابر ہو۔ نیز قبر کی لمبائی میت کے قد کے بقدر اور چوڑائی اس کی لمبائی کے نصف کے برابر ہو، بشرطیکہ قبر لحد یا شق کی صورت میں بنائی جا رہی ہو۔
اگر زمین ایسی نہ ہو کہ اس میں لحد یا شق بنانا ممکن ہو، تو فساقی (پختہ قبریں)، حجرے یا کمرے اور ان جیسی دیگر صورتوں میں تدفین کرنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ قبر میں شرعاً مطلوب مقاصد حاصل ہوتے ہوں، مثلاً یہ کہ قبر میت کے جسم کو چھپانے والی ہو، قبر نے ڈھانپ رکھا ہو اور اس کی بو کو زندہ لوگوں تک پہنچنے سے روک رہی ہو۔ قبر کا انجینئرنگ ڈیزائن ایسا ہو کہ میت کو اس کے دائیں پہلو پر لٹایا جا سکے، اس حال میں کہ اس کا چہرہ اور دایاں پہلو قبلہ رخ ہو۔ قبر مضبوطی سے بند کی گئی ہو، تاکہ میت کو چوری، قبر کشائی، درندوں یا اس جیسے دیگر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ قبر کے اندرونی حصے کی سطح ہموار اور برابر ہو۔ اور قبر کے باہر ایسی علامت لگانے میں کوئی حرج نہیں جس سے اس کی شناخت ہو سکے اور معلوم ہو جائے کہ یہ کس کی قبر ہے۔ یہ سب کچھ متعلقہ ضوابط اور قوانین کی رعایت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
[1] لإمام ابن المنذر في "الإجماع" (ص: 44، ط. دار المسلم)
الإمام النووي في "المجموع" (5/ 282، ط. دار الفكر)
[2] العلامة شيخي زاده في "مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر" (1/ 186، ط. دار إحياء التراث العربي)
العلامة ابن عابدين في "رد المحتار" (2/ 234، ط. دار الفكر)
العلامة أبو عبد الله المواق في "التاج والإكليل" (3/ 38، ط. دار الكتب العلمية)
الإمام النووي في "المجموع" (5/ 287)
العلامة البُهُوتِيُّ في "شرح منتهى الإرادات" (1/ 372، ط. عالم الكتب)
[3] الإمام الزيلعي الحنفي في "تبيين الحقائق" (1/ 245، ط. الأميرية)
العلَّامة بدر الدين العيني الحنفي في "البناية" (3/ 248، ط. دار الكتب العلمية)
العلَّامة الطحطاوي الحنفي في "حاشيته على مراقي الفلاح" (ص: 619، ط. دار الكتب العلمية)
الإمام ابن الحاج المالكي في "المدخل" (3/ 264، ط. دار التراث)
الإمام النووي الشافعي في "المجموع" (5/ 287)
العلامة البهوتي الحنبلي في "شرح منتهى الإرادات" (2/ 134)
[4] العلامة ابن عابدين الحنفي في "رد المحتار" (2/ 234)
العلامة خليل المالكي في "المختصر" (ص: 52، ط. دار الحديث)
العلامة الرملي الشافعي في "نهاية المحتاج" (3/ 3، ط. دار الفكر)
العلامة البُهُوتِي الحنبلي في "شرح منتهى الإرادات" (1/ 372)
[5] الإمام ابن حزم في "المحلى" (3/ 404، ط. دار الفكر):
[6] الإمام بدر الدين العيني في "شرح سنن أبي داود" (6/ 157، ط. مكتبة الرشد)
"حاشيته على شرح المنهاج للجلال المحلي" (1/ 410، ط. دار الفكر)
[7] الإمام السيوطي في "الأشباه والنظائر" (ص: 121، ط. دار الكتب)
الإمام الماوردي في "الحاوي الكبير" (9/ 132، ط. دار الكتب العلمية)
الشيخ علي الخفيف في "المِلْكِيَّة في الشريعة الإسلامية" (ص: 90، ط. دار الفكر العربي)
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
