ملازمت کے اختتام پر ملنے والی گریجو...

Egypt's Dar Al-Ifta

ملازمت کے اختتام پر ملنے والی گریجویٹی کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ

Question

ایک سائل پوچھ رہا ہے کہ ایک شخص نے ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے پر اپنے ادارے سے ملازمت کے اختتام پر ملنے والی رقم وصول کی، جس کی مالیت نصابِ زکوٰۃ سے زیادہ ہے۔ کیا اس رقم پر اسے وصول کرنے سے پہلے گزرنے والے سالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرنا ہوگی؟ اور اس رقم کی زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ ملازم کو گریجویٹی (Gratuity) کے نام سے جو رقم ملتی ہے، اس رقم کو وصول کرنے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی؛ کیونکہ اس سے پہلےاس مال کی مکمل ملکیت (ملکِ تام) حاصل نہیں ہوتی۔ اور اس رقم پر زکوٰۃ کے سال کا حساب اس پر قبضے کی تاریخ سے شروع ہوگا۔ اگر اس شخص کے پاس پہلے سے کوئی اور جمع شدہ مال نہ ہو تو رقم وصول کرنے کی تاریخ سے اس کے لیے زکوٰۃ کا نیا سال شروع ہوگا، بشرطیکہ زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط پائی جائیں۔

اور اگر اس کے پاس پہلے سے کوئی دوسرا جمع شدہ مال موجود ہو جس پر زکوٰۃ کا سال شروع ہو چکا ہو، تو وہ ملازمت کے اختتام پر ملنے والی رقم کو اپنے مجموعی جمع شدہ مال میں شامل کر لے اور سال مکمل ہونے پر تمام مال کی زکوٰۃ ادا کرے۔ زکوٰۃ کی شرح ڈھائی فیصد (2.5%) ہوگی، بشرطیکہ اس مجموعی مال میں زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط پوری ہوں۔

تفصیلات۔۔۔

ملازمت کے اختتام پر ملنے والی رقم کی تعریف اور اس کا حکم

گریجویٹی (Gratuity) وہ مالی رقم ہے جو ملازم کو اس وقت دی جاتی ہے جب وہ ملازمت کے معاہدے یا اس کے متعلقہ ضوابط میں درج شرائط کے مطابق اس کا مستحق ہو جائے۔ یہ رقم ملازم کی مدتِ ملازمت کے اعتراف اور سماجی تکافل کے فروغ کے لیے دی جاتی ہے، جس کی تائید شریعتِ اسلامی بھی کرتی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔‘‘ (المائدہ: 2)، نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟‘‘ (الرحمن: 60)

مصر کے قانونِ محنت نمبر (14) بابت 2025ء کی دفعہ نمبر (172) میں درج ہے: ’’ ملازم ساٹھ سال کی عمر کے بعد اپنی مدتِ ملازمت کے عوض گریجویٹی کا مستحق ہوگا۔ اس کی مقدار ملازمت کے پہلے پانچ سالوں میں سے ہر سال کے بدلے نصف ماہ کی اجرت اور اس کے بعد ہر سال کے بدلے ایک ماہ کی اجرت ہوگی، بشرطیکہ اس مدت کے حوالے سے اسے بڑھاپے، معذوری اور وفات کی انشورنس کے متعلق وہ حقوق حاصل نہ ہوں جن کی وضاحت مذکورہ سماجی بیمہ اور پنشن کے قانون میں کی گئی ہے۔

یہ انعامی رقم اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے کی ملازمت کے سالوں کے عوض بھی واجب ہوگی، اور اس کا اطلاق زیرِ تربیت ملازم اور عام ملازم، دونوں پر ہوگا، جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں۔ اس رقم کا حساب ملازم یا زیرِ تربیت ملازم کی حسبِ حال، آخری وصول کردہ اجرت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اور اگر ملازم کی وفات کی صورت میں اس رقم کا استحقاق پیدا ہو تو اسے مذکورہ سماجی بیمہ اور پنشن کے قانون کے احکام کے مطابق ادا کیا جائے گا۔‘‘

ملازمت کے اختتام پر ملنے والی رقم کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ

اگرچہ گریجویٹی (Gratuity) کا ذریعہ معلوم اور متعین ہوتا ہے، لیکن ملازم اسے اسی وقت وصول کرتا ہے جب قانون میں مقرر کردہ استحقاق کی شرائط پوری ہو جائیں۔ اس سے پہلے ملازم کے لیے اس رقم میں تصرف کرنا ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی اس مال کی ملکیت مکمل طور پر اس کے لیے ثابت ہوتی ہے۔ شرعاً یہ طے ہے کہ مال کی مکمل ملکیت حاصل ہونے کے بعد ہی اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔

علامہ حصکفی حنفی رحمہ اللہ نے «الدر المختار» (ص 126، طبع دار الكتب العلمية) میں زکوٰۃ کے واجب ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’(اور زکوٰۃ کے وجوب کا سبب) یعنی اس کے فرض ہونے کا سبب، ایسے نصاب کی ملکیت ہے جس پر ایک سال گزر چکا ہو، اور ملکیت کا مکمل (ملکِ تام) ہونا بھی شرط ہے۔‘‘

علامہ خرشی مالکی نے شرح مختصر خلیل (2/179، مطبوعہ دار الفکر) میں لکھا ہے: ’’نقدی اور دیگر اموال میں زکوٰۃ کی شرط یہ ہے کہ مال کی ملکیت مکمل ہو۔‘‘

علامہ خطیب شربینی شافعی نے الإقناع (1/212، مطبوعہ دار الفکر) میں زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’اور تیسری شرط مکمل ملکیت ہے؛ لہٰذا جس مال کی ملکیت مکمل نہ ہو، اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔‘‘

علامہ بہوتی حنبلی نے کشاف القناع (2/170، مطبوعہ عالم الکتب) میں لکھا ہے: ’’مجموعی طور پر زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط مکمل ملکیت (ملکِ تام) ہے، جیسا کہ الفروع میں بیان کیا گیا ہے؛ کیونکہ نامکمل ملکیت مکمل نعمت نہیں ہوتی، جبکہ زکوٰۃ تو کامل نعمت کے شکرانے کے طور پر واجب ہوتی ہے۔ مکمل ملکیت سے مراد یہ ہے کہ مال اس شخص کے قبضے میں ہو، اس پر کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو، وہ اپنی مرضی کے مطابق اس میں تصرف کر سکتا ہو اور اس کے منافع بھی اسی کو حاصل ہوں۔‘‘

اور مال پر زکوٰۃ اس وقت تک واجب نہیں ہوتی جب تک وہ شرعی نصاب کو نہ پہنچ جائے، جس کی مالیت 21 قیراط کے 85 گرام سونے کی قیمت کے برابر ہوتی ہے۔ نیز (شرط یہ ہے کہ) یہ مال اصلی ضرورتوں سے زائد ہو، قرض سے پاک ہو، اور اس پر ایک قمری سال گزر چکا ہو۔"

اگر ملازمت کے اختتام پر ملنے والی رقم وصول کرنے والے شخص کے پاس کوئی دوسرا مال نہ ہو جس میں زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط پائی جاتی ہوں، تو رقم وصول کرنے کے بعد، جب اس میں زکوٰۃ کی شرائط پوری ہو جائیں، اس کے لیے زکوٰۃ کا نیا سال شروع ہوگا۔

اور اگر اس کے پاس پہلے سے کوئی دوسرا جمع شدہ مال موجود ہو جس پر زکوٰۃ کا سال شروع ہو چکا ہو، تو اس صورت میں سال کے دوران حاصل ہونے والے نئے مال کو پہلے مال کے زکوٰۃ کے سال کے ساتھ ملانے کے بارے میں فقہاء کے ہاں دو اقوال ہیں۔

پہلا قول: یہ حنفی فقہاء کا موقف ہے کہ دونوں مالوں کو ایک ساتھ شمار کیا جائے اور پہلے مال کا سال مکمل ہونے پر دونوں کی زکوٰۃ ادا کی جائے، خواہ نیا حاصل ہونے والا مال پہلے مال سے پیدا نہ ہوا ہو اور نہ ہی اس کے سبب حاصل ہوا ہو۔

امام کاسانی نے بدائع الصنائع (2/13-14، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ) میں سال کے دوران حاصل ہونے والے مال کی زکوٰۃ کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’اور اگرچہ وہ اصل مال سے پیدا نہ ہوا ہو اور نہ ہی اس کے سبب حاصل ہوا ہو، تو بھی ہمارے نزدیک اسے اصل مال کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا۔‘‘

دوسرا قول: شافعی اور حنبلی فقہاء کے نزدیک اگر دوسرا مال پہلے مال سے حاصل ہونے والا نفع یا اس کی افزائش ہو، تو اسے پہلے مال کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا اور اصل مال کا سال مکمل ہونے پر مجموعی مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ لیکن اگر نیا مال کسی مستقل سبب سے حاصل ہوا ہو تو اسے پہلے مال کے زکوٰۃ کے سال میں شامل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے وصول کرنے کی تاریخ سے اس کے لیے نیا سال شروع ہوگا۔

امام نووی شافعی نے المجموع (5/365، مطبوعہ المنيرية) میں لکھا ہے: ’’ہمارے اصحاب رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ سال کے دوران خریداری، ہبہ، وقف یا اس جیسے کسی ذریعے سے حاصل ہونے والا مال، جو پہلے مال سے پیدا نہ ہوا ہو، پہلے سے موجود مال کے ساتھ زکوٰۃ کے مالی سال میں شامل نہیں کیا جائے گا، اس میں کوئی اختلاف نہیں؛ البتہ تکمیلِ نصاب میں اسے پہلے مال کے ساتھ شامل کیا جائے گا، یہی مذہب میں معروف موقف ہے۔ مصنف اور جمہور نے اسی کو قطعی طور پر اختیار کیا ہے۔ اس بارے میں ایک قول یہ بھی ہے جسے ہمارے اصحاب نے ابن سریج سے نقل کیا ہے کہ اسے تکمیلِ نصاب میں بھی شامل نہیں کیا جائے گا، جس طرح اسے سال کے اعتبار سے بھی شامل نہیں کیا جاتا۔ لیکن پہلا قول ہی صحیح ہے۔‘‘

امام ابن قدامہ حنبلی نے المغنی (2/468، مطبوعہ مکتبۃ القاہرہ) میں سال کے دوران حاصل ہونے والے مال کی اقسام بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’تیسری قسم یہ ہے کہ کسی شخص کو اسی جنس کا مال حاصل ہو جس کا نصاب پہلے سے اس کے پاس موجود ہو اور اس پر زکوٰۃ کا سال کسی مستقل سبب سے شروع ہو چکا ہو۔ مثلاً کسی شخص کے پاس چالیس بکریاں ہوں جن پر سال کا کچھ حصہ گزر چکا ہو، پھر وہ مزید سو بکریاں خرید لے یا اسے ہبہ میں مل جائیں، تو اس نئے مال پر زکوٰۃ اس وقت تک واجب نہیں ہوگی جب تک اس پر بھی ایک سال نہ گزر جائے۔‘‘

دونوں مالوں کو ایک ساتھ شمار کرنا اور پہلے مال کا سال مکمل ہونے پر ان دونوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ہی فتویٰ کے لیے مختار قول ہے، کیونکہ اس میں لوگوں کے لیے زیادہ آسانی ہے۔ اگر ہر نئے حاصل ہونے والے مال کے لیے الگ سال مقرر کیا جائے تو زکوٰۃ کی ادائیگی کے اوقات متعدد ہو جائیں گے، جس سے مکلف کو دشواری اور مشقت پیش آئے گی، اور شریعتِ اسلامی میں تنگی اور مشقت کو دور کرنے کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘ (الحج: 78)

یہی بات فقہ کے قواعدِ کبریٰ میں بھی بیان کی گئی ہے۔ امام سیوطی نے الأشباه والنظائر (ص: 76، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ) میں لکھا ہے: ’’مشقت آسانی کا سبب بنتی ہے۔‘‘

خلاصہ

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں، سوال میں بیان کردہ صورتِ حال کا حکم یہ ہے کہ ملازم کو گریجویٹی (Gratuity) کے نام سے جو رقم ملتی ہے، اس رقم کو وصول کرنے سے پہلے زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی؛ کیونکہ اس سے پہلے اس مال کی مکمل ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔ اور اس رقم پر زکوٰۃ کے سال کا حساب اس پر قبضے کی تاریخ سے شروع ہوگا۔ اگر اس شخص کے پاس پہلے سے کوئی اور جمع شدہ مال نہ ہو تو رقم وصول کرنے کی تاریخ سے اس کے لیے زکوٰۃ کا نیا سال شروع ہوگا، بشرطیکہ زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط پائی جائیں۔

اور اگر اس کے پاس پہلے سے کوئی دوسرا جمع شدہ مال موجود ہو جس پر زکوٰۃ کا سال شروع ہو چکا ہو، تو وہ ملازمت کے اختتام پر ملنے والی رقم کو اپنے مجموعی جمع شدہ مال میں شامل کر لے اور سال مکمل ہونے پر تمام مال کی زکوٰۃ ادا کرے۔ زکوٰۃ کی شرح ڈھائی فیصد (2.5%) ہوگی، بشرطیکہ اس مجموعی مال میں زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط پوری ہوں۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas