طلاقِ رجعی کے بعد مطلقہ بیوی کا اپن...

Egypt's Dar Al-Ifta

طلاقِ رجعی کے بعد مطلقہ بیوی کا اپنے سابق شوہر کے ساتھ رہائش اختیار کرنا

Question

سائل نے اپنی بیوی کو پہلی طلاقِ رجعی دی، جس کی باقاعدہ سرکاری دستاویز 23 نومبر 1965ء کو مرتب کی گئی۔ طلاق کے باوجود بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہائش پذیر ہے، حالانکہ اس کے بھائی بھی ہیں اور ان کا گھر شوہر کے گھر کے قریب واقع ہے۔ سائل نے دریافت کیا ہے کہ شرعی اعتبار سے اس مطلقہ عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ شرعاً یہ بات منصوص ہے کہ عدت گزارنے والی عورت پر لازم ہے کہ وہ عدت کی مدت اسی گھر میں گزارے جس میں وہ جدائی واقع ہونے کے وقت رہائش پذیر تھی، خواہ اس کی عدت طلاقِ رجعی کی وجہ سے ہو یا طلاقِ بائن کی وجہ سے۔ اس عورت کے لیے کسی عذر کے بغیر اس گھر سے نکلنا جائز نہیں، اور شوہر کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اسے عدت کے گھر سے نکال دے؛ کیونکہ عدت کے گھر میں رہنا شرعی حق کی بنا پر لازم ہے۔

لہٰذا سائل کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی کو عدت کے گھر سے نکالے، یہاں تک کہ اس کی عدت شرعی طور پر پوری ہوجائے۔ اور عدت پوری ہونے کی صورتیں درج ذیل ہیں:

اگر عورت حیض والی ہو تو اسے تین مکمل حیض آجانے سے عدت پوری ہوگی۔

اگر وہ حاملہ ہو تو بچے کی ولادت سے عدت پوری ہوگی۔

اگر وہ سنِ یاس کو پہنچ چکی ہو تو تین ماہ گزرنے سے عدت پوری ہوگی۔

پس جب مذکورہ صورتوں میں سے کسی ایک کے ذریعے اس کی عدت پوری ہوجائے تو وہ عورت اپنے شوہر کے لیے اجنبیہ ہوجائے گی۔ اس کے بعد دونوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلفانہ اختلاط اور کسی ایک جگہ تنہائی میں جمع ہونا جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ طلاق واقع ہونے اور عدت پوری ہوجانے کے بعد ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوجاتا ہے۔ مذکورہ بالا تفصیل سے سوال کا جواب واضح ہوگیا۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas