مسح الوجه باليدين بعد الدعاء في الص...

Egypt's Dar Al-Ifta

مسح الوجه باليدين بعد الدعاء في الصلاة وغيرها 3

Question

دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

عربی زبان میں " مسح " کسی چیز پر نرمی سے ہاتھ پھیرنے کو کہتے ہیں۔([1])

جیسے کہتے ہیں کہ اس نے اس نے پانی یا تیل کے ساتھ مسح کیا یعنی اس کے ساتھ ہاتھ پیرا۔

دعا تقرب کا عظیم ذریعہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالی کی طرف حقیقی توجہ ظاہر ہوتی ہے اس میں انسان اپنے محتاجی اور کمزوری کا اعلان کرتا ہے اور ہر شیئ پر اللہ تعالی کی قدرت اور اس کی طاقت کا اعتراف کرتا ہے۔ دعا کو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عبادت کا نام دیا ہے۔ امام ابو داود ، نسائی ابن حبان اور امام حاکم نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: " دعا عبادت ہی ہے " اور پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:" اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بیشک جو لوگ میری عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے ذلیل و خوار ہو کر " ([2])

اللہ تعالی نے دعا مانگنے کا حکم فرمایا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: " اور مانگتے رہو اللہ تعالی سے اس کے فضل (و کرم) کو([3])" اور فرمایا: " تو عبادت کرو اللہ تعالی کی خالص کرتے ہوے اس کیلئے دین کو اگرچہ ناپسند کریں کفار "([4]) اور فرمایا:" اور دعا کرو اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مانگو اس سے ڈرتے ہوے اور امید کرتے ہوے " ([5])

نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالی سے دعا نہ مانگنے پر تنبیہ فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا " جو شخص اللہ تعالی سے نہیں مانگتا اللہ تعالی اس سے ناراض ہو جاتا ہے " ([6])

جب بندہ اللہ تعالی سے عاجزی انکساری اور اصرار کے ساتھ کوئی چیز مانگتے ہوئے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اللہ اس کی حاجت پوری کئے بغیر اسے نہیں لوٹا تا ۔ اللہ تعالی اس شخص کو برکت دیتا ہے جو اپنی حاجت کے حصول کے لئے بہت دعا مانگتا ہے چاہے اللہ تعالی وہ چیز اسے عطا کرے یا وہ عطا نہ کرے امام حاکم نے حدیث مبارکہ نقل کی ہے کہ حضرت  ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم سے روایت کیا ہے کہ کوئی مسلمان بھی اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے اور اس کی دعا میں گناہ اور قطع رحمی نہ ہو تو اللہ تعالی اس کی دعا کے بدلے تین میں سے ایک چیز ضرورعطا فرماتا ہے یا اسی وقت اس کی وہ دعا قبول ہو جاتی ہے یا اسے آخرت کیلئے رکھ لیتا ہے یا پھر اس کے بدلے اس کے اتنے گناہ معاف کر دیتا ہے"

دعا کے بعد چہرے پر پھیرنا مستحب ہے ۔ اس پر ائمہ کرام اور فقہاء عظام نے نصوص قائم کیں ہیں کسی امام کا یہ قول ہے کہ جب اللہ تعالی ہاتھوں کو خالی نہیں لوٹاتا تو گویا پھران ہاتھوں پر رحمت ہوتی ہے تو مناسب یہ ہے کہ اس رحمت کو چہرے پر پھیرا جائے کیونکہ چہرہ انسان کا سب سے اشرف عضو ہے اور تعظیم کا زیادہ حق دار ہے۔ ([7])

آحناف کی کتب کے " باب صفۃ الصلاۃ " میں ذکر کیا ہے کہ مسنون دعائیں اور ورد ہر انسان کیلئے مستحب ہیں اور پھر اسے اللہ تعالی کے قول " سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين و الحمد لله رب العالمين " پر ختم کرےکیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد ہے: جو یہ چاہتا ہے کہ قیامت کے دن پورا اجر پائے تو اسے چاہیے کہ جب مجلس سے اٹھے تو یہ کہے :" سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين و الحمد لله رب العالمين " اور آخر میں اپنے ہاتھ چہرے پر پھیر لے کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما نے کہا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:" جب دعا مانگو تو اپنے ہاتھوں کے باطنی حصے سے مانگا کرو اور ہاتھوں کے باہر والے حصے کے ساتھ نہ مانگا کرو جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیر لیا کرو " ([8])

امام نفراوی فرماتے ہیں:  دعا کے بعد ہاتھ چہرے پر پھیرنا مستحب ہے رسول اکرم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے([9])

امام نووی شافعی فرماتے ہیں: دعا کے جملہ آداب میں سے کچھ یہ ہیں کہ بہترین جگہ، بہترین وقت اور بہترین احوال میں قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھا کر مانگی جائے اور دعا کے بعد ہاتھ چہرے پر پھیرے جائیں اور آواز بھی دھیمی ہو، نہ زیادہ بلند ہو اور نہ ہی بہت زیادہ پست ہو۔([10])

امام نووی نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ چہرے پر ہاتھ پھیرنا مستحب ہے جیسا کہ شیخ الاسلام زکریا انصاری نے زکر کیا ہے۔([11])

امام بہوتی فرماتے ہیں: پھر ہاتھ اپنے چہرے ر پھیرے یعنی دعاۓ قنوت کے بعد بھی اور نماز کے علاوہ بھی جب دعا کرے۔([12])

اس کی دلیل یہ ہے کہ امام حاکم اور امام ترمذی نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے آپ فرماتے ہیں: رسول اکرم جب دعا کیلئے دست دراز ہوتے تھے تو ہاتھ چہرے پر پھیرے بغیر نہیں ہٹاتے تھے۔

امام ابن حجر فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔([13])

اور امام صنعانی فرماتے ہیں اس حدیث میں دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنے کی دلیل ہے۔([14])

اس مسئلہ میں اس حدیث سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے جسے امام ابو داود، امام ابن ماجہ، امام حاکم اور امام بیہقی نے الکبری میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: " اللہ تعالی سے اپنے ہاتھوں کے باطنی حصے سے مانگا کرو ظاہری حصے سے نہ مانگا کرو پھر جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیر لیا کرو "

امام سیوطی نے شیخ الاسلام ابو فضل امام ابن حجر سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔([15])

امام ابو داود نے سنن میں اور امام احمد نے مسند میں یزید بن سعید بن ثمامہ سے  رویت کیا ہے کہ نبی اکرمجب دعا کرتے تو ہاتھ بلند کر لیا کرتے تھے اور دعا کے بعد اپنے ہاتھ چہرہ اقدس پر پھیر لیا کرتے تھے۔

امام بخاری نے ابراہیم بن منذر سے روایت کیا انہیں محمد بن فلیح نے بتایا ہے کہ میرے والد گرمی نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے ابو نعیم سے روایت کیا ہے آپ فرما تے ہیں کہ: " میں ابن عمر اور ابن زبیر کو دعا کرتے (اور) چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوے دیکھا ہے۔([16])

امام سیوطی نے امام حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ  فریابی کہتے ہیں کہ اسحاق بن راہویہ نے ہمیں بتایا ہے کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں خبر دی ہے کہ میں ابو کعب کو ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور جب دعا سے فارغ ہوئے تو ہاتھ اپنے چہرے پر پھیر لیے۔

میں نے پوچھا کہ آپ نے کسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟

فرمایا: حسن ابن ابو حسن کو۔([17])

چہرے پر ہاتھ پھیرنے کا جو معاملہ ہے تو یہ شافعیہ کے نزدیک دعاۓ قنوت کے بعد چہرے پر ہاتھ جانے چاہئیں۔ قاضی ابو طیب، شیخ ابو محمد جوینی، ابن صباغ، متولی اور صاحب البیان امام عمرانی کا یہی قول ہے۔([18])

مذکورہ دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنا جائز عمل ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ دعا کے آداب اور اس کے مستحبات میں سے ہے جنہیں علماء عظام نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔

وللہ تعالی اعلم بالصواب۔
 


[1] معجم المقییس امام فارس
[2] سورۃ  غافر 60
[3] سورۃ النساء 32
[4] صورۃ غافر 41
[5] سورۃ الاعراف 55-56
[6] مستدرک امام حاکم

[7] سبل السلام امام صنعانی 2/709 ط۔ دارالحدیث

[8] حاشیہ شرنبلالی علی درر الحکام1 /80 ط دار احیاء التراث العربی

[9] الفواکہ الدوانی  امام نفراوی 2/335 ط دار الفکر
[10] المجموع 4/487 ط دار الفکر
[11] التحقیق

[12] شرح المنتھی الارادات 1/241ط دار الکتب العلمیۃ

[13] بلوغ المرام ص 464 ط۔ دار الفلق الریاض

[14] سبل السلام 2/709 ط۔ دارالحدیث

[15] فض الدعا ص74 ط۔ مکتبۃ المنار اردن

[16] الادب المفرد 1/214
[17] فض الدعا ص101
[18] المجموع امام نووی  3/500-501
Share this:

Related Fatwas