غسل کے اسباب اور طریقۂ کار

Egypt's Dar Al-Ifta

غسل کے اسباب اور طریقۂ کار

Question

کس کس وجہ سے غسل واجب ہوتا ہے اور اس کا طریقۂ کار کیا ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد ! '' الغسل '' نیت کے ساتھ پورے جسم پر پاک پانی کے بہانے کو کہتے ہیں، جس کی حالت کو کسی چیز نے تبدیل نہ کیا ہو۔

غسل کے اسباب:
1- شہوت کے سے منی کا نکنا، سوتے ہوئے  یا جاگتے ہوئے ۔

2-  ختنوں کا آپس میں ملنا، اگرچہ انزال نہ ہو، مطلب یہ کہ مرد کے حشفے کا عورت کی فرج (شرمگاہ) میں داخل ہوجانا۔

3- موت؛ مسلمانوں پر واجب ہے ۔ میت کے والی اسے غسل دیں۔

4- حیض کے خون کا رک جانا؛ پس حیض کا خون جب بند ہوجائے تو اس عورت پر غسل کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

5- نفاس کے خون کا رک جانا؛ جب نفاس کا خون رک جائے توعورت پر غسل کرنا واجب ہے۔

6- ولادت؛ اگرچہ اس کے بعد نفاس کا خون نہ آئے جو غسل کو واجب کرتا ہے پھر بھی غسل واجب ہوگا۔

غسل اس طریقے سے ہوگا کہ حدثِ اکبر کو ختم کرنے کی نیت سے پورے جسم پر پانی بہانا جس کی حالت کسی شیئ کی ملاوٹ سے تبدیل نہ ہوئی ہو۔ اگر جسم پر نجاست لگی ہوئی ہے تو اس زائل کرنا ضروری ہے، غسل سے پہلے وضوء کرنا سنت ہے، اوراسی طرح یہ بھی سنت ہے جسم کے دائیں حصے سے شروع کرے اور پھر بائیں طرف پانی بہائے۔ اور اگر وضوء نہیں کیا اور دائیں طرف سے شروع نہیں کیا تو بھی غسل صحیح ہوجائے گا۔

والله سبحانه وتعالى اعلم۔

    

Share this:

Related Fatwas