فرض نماز کے لئے طواف توڑ دینا

Egypt's Dar Al-Ifta

فرض نماز کے لئے طواف توڑ دینا

Question

اگر طواف کے دوران نماز کی جماعت کھڑی ہو جاے تو کیا طواف توڑنا جائز ہے یا پہلے طواف مکمل کروں پھر نماز پڑھوں؟ اگر نماز کیلئے طواف توڑنا جائز ہے تو کیا جہاں سے توڑا تھا اسی جگہ سے شروع کروں یا "طواف " کے اس "چکر" کا اعادہ کروں؟ 

Answer

              الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی رسول اللہ و آلہ وصحبہ و من والاہ۔۔۔ وبعد: بیت اللہ کے گرد گھومنے کو شرعا طواف کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: " بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں پس جو حج کرے اس گھر کا یا عمرہ کرے تو کچھ حرج نہیں اسے کہ چکر لگائے،  ان دونوں کے درمیان اور جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو اللہ تعالی بڑا قدر دان خوب جاننے والا ہے " ([1])

طواف کبھی واجب ہوتا ہے جیسے طواف افاضہ اور کبھی سنت ہوتا ہے جیسے طواف قدوم۔ اور طواف میں بھی نمازکی طرح " موالاۃ " یعنی عمل کا پے در پے ہونا شرط ہے۔ اسے عذر کے بغیر توڑنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ حضور نبی رحمت پے در پے طواف کیا کرتے تھے اسے توڑتے نہیں تھے اور آپ نے فرمایا: " مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو"([2]) اسی طرح آپ نے فرمایا: " بیت اللہ کا طواف نماز ہے " ([3]) وہ عذر جن کی وجہ سے طواف توڑنا جائز ہے نماز بھی ان میں ایک ہے اس لئے کہ طواف بھی اگرچہ واجب ہے لیکن نماز اس سے زیادہ تاکید کے ساتھ واجب ہے اور جب دو واجب جمع ہو جائیں تو زیادہ تاکید والے کو مقدم کیا جاے گا۔

امام زرکشی واجبات کے ایک دوسرے پر مؤکد ہونے کے مسئلہ میں فرماتے ہیں: قاضی کے بقول یہ کہنا جائز ہے کہ کچھ واجبات دوسرے واجبات سے زیادہ مؤکد ہوتے ہیں جیسے کچھ سنتیں دوسری سنتوں سے زیادہ مؤکد ہوتی ہیں لیکن معتزلہ اس مسئلہ میں ان سے اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک وجوب ذاتی صفت کی طرف منصرف ہوتا ہے اور ابن قشیری کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ (تقدیم و تاکید) جائز ہے۔ پس جس واجب کے ترک پر ملامت زیادہ ہو وہ زیادہ مؤکد ہوتا ہے جیسے اللہ تعالی پر ایمان رکھنا وضو سے زیادہ مؤکد واجب ہے([4])

 وجوبِ نماز کی  دلیل یہ ہے کہ نماز اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا: " اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے " لا اله الا الله محمد رسول الله " کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا "([5]) اور وقتِ نماز کی اہمیت کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد گرامی ہے: " بے شک نماز مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے اپنے اپنے مقررہ وقت پر "([6]) اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جب نماز کھڑی ہو جائے تو فرضی نماز کے علاوہ کوئی نماز جائز نہیں "([7]) اس سے ثابت ہوا کہ فرض نماز طواف سے زیادہ اہم اور اوجب ہے۔

جب نماز کیلئے طواف کو توڑنے کا جواز ثابت ہو گیا تو اس میں مندرجہ ذیل احتمالات ہو سکتے ہیں:

1:نماز سے پہلے جتنا طواف کیا تھا اس پر بنا نہیں کرے گا بلکہ نئے سرے سے طواف شروع کرے گا۔

2: جتنا پہلے کر چکا تھا اس پر بنا کرے گا۔

اس دوسری صورت پھر دو احتمال پیدا ہوتے ہیں:

1: جس چکر کے دوران طوف کو توڑا تھا اسے شمار نہیں کرے گا بلکہ وہ چکر دوبارہ مکمل ادا کرے گا۔

2: جس جگہ سے طواف کےلئے نکلا تھا دوبارہ وہیں سے ابتدا کرے گا۔

یہ احتمالات اس بات پر مبنی ہیں آیا کہ تمام کا تمام طواف ایک ہی عبادت ہے جس کے اجزاء نہیں ہو سکتے اور یہ ہر جہت سے نماز ہی کی طرح ہے سوائے اس بات کے اس میں کلام کرنا جائز ہے جیسا کہ رسول اللہنے فرمایا ہے۔

یا یہ کہ طواف عبادت ہے اس کے اجزاء بھی ہیں اور اس کے اجزاء سات چکر ہیں۔ ترتیب یا موالاۃ اس عبادت میں شرط ہوتی ہے جس کے ارکان آپس میں مختلف ہوں لیکن یہ سات اجزاء آپس میں مختلف نہیں ہیں۔ جیسے طہارت اور نماز کے ارکان میں اختلاف ہے ۔ مثلا طہارت کے اعضاء ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور نماز کے ارکان بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن طواف کے سات چکروں کے درمیان آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے تو ان میں کوئی ترتیب بھی شرط نہیں ہو گی اور یہی راجح قول ہے اور امام شیرازی نے " المھذب " میں اسی کی تصدیق کیلئے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں نقل کیا ہے: آپ رضی اللہ تعالی طواف کیا کرتے تھے جب نماز کھڑی ہوتی تو امام کے ساتھ نماز ادا کرتے پھر اپنے سابقہ طواف پر " بنا " کرتے "

مالکیہ نے کہا ہے کہ اس کیلئے مستحب یہ ہے اگر موجودہ چکر کو مکمل کر سکتاہے تو مکمل کرے پھر نماز کی طرف جائے۔

امام نووی فرماتے ہیں: قال المصنف و الاصحاب: دوران طواف اگر نماز کھڑی ہو گئی یا ضروری حاجت درپیش ہو گئی تو طواف کو توڑ دے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسی طواف پر بنا کرے اگر اس نے تھوڑا وقفہ کیا ہو اور اگر وقفہ زیادہ کیا ہو پھر بھی اسی پر بنا کرے گا۔ اور بغوی اور دوسرے علماء نے کہا ہے کہ اگر فرض طواف کر رہا ہے تو نماز جنازہ، "ضحی"  کی سنت اور "نماز وتر"  کیلئے توڑنا مکروہ ہے کیونکہ طواف فرض عین ہے اسے فرض کفایہ یا نفل کیلئے نہیں توڑا جائے گا اور صفا مروہ کی سعی کا بھی یہی حکم ہے۔ اس سارے مسئلے پر امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے" الأم " میں نص قائم کی ہے اور قاضی ابو طیب نے بھی " الأم " پر تعلیق لگاتے ہوئے اسے نقل کیا ہے کہ امام شافعی نے "الأم" میں فرمایا: اگر کوئی "طوافِ افاضہ "میں ہو اور نماز کھڑی ہو جائے تو مجھے یہ پسند ہے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرے پھر طواف کی طرف لوٹ آئے اور اپنے سابقہ طواف پر بنا کرے اور اگر اسے یہ خوف ہو  اگر طواف کرتا رہا تو نمازِ وتر یا سنتِ ضحی فوت ہوجائے گی یا جنازہ آگیا تو ان اشیاء کی خاطر طواف ترک کرنا مجھے پسند نہیں ہے کیونکہ وہ اس صورت میں نفل یا فرض کفایہ کی خاطر فرض عین کو توڑے گا۔ واللہ تعالی اعلم۔([8])

امام بہوتی حنبلی فرماتے ہیں اگر تھوڑے سے وقفے کے ساتھ طواف کو توڑا تو "حجر اسود" سے بنا کرے گا کیونکہ اس سے موالاۃ فوت نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر نماز فرض کھڑی ہو گئی تو نماز ادا کرے اوراپنے سابقہ طواف پر بنا کرے کیونکہ حدیث پاک ہے: " جب نماز کھڑی ہو جاے تو فرضی نماز کے علاوہ کوئی نماز جائز نہیں " اور طواف بھی نماز ہے جو عموم میں داخل ہے اور بنا حجر اسود سے کرے گا اگرچہ چکر کے درمیان سے طواف توڑا ہو کیونکہ جس چکر کے درمیان سے طواف توڑ دیا جائے اسے شمار نہیں کیا جاے گا اور سعی کا حکم بھی طواف جیسا ہی ہے۔ ([9])

امام خرشی مالکی فرماتے ہیں:طواف فرض ہو، واجب ہو یا نفل ہو اسے فرض نماز کیلئے توڑ دیا جائے گا اور نماز کے بعد اسی پر بنا کرے گا لیکن مستحب یہ ہے کہ چکر کو مکمل کرکے حجر اسود کے پاس سے نکلے اور اگر حجر اسود کے پاس نہیں بلکہ کسی بھی جگہ سے نکل گیا ہو تو اس صورت ابن حبیب نے کہا ہے کہ اسی جگہ سے طواف شروع کرے گا جہاں سے نکلا تھا اور اس چکر کو ابتدا سے شروع کرنا ابن حبیب کے نزدیک مستحب ہے اور نفل پڑھنے سے پہلے اپنے سابقہ طواف پر ہی بنا کرے گا۔ اگر اس نے طواف مکمل ہونے سے پہلے ہی نفل ادا کر لیے تو اس صورت میں طواف دوبارہ شروع کرے گا اور کسی عالم کا یہ بھی قول ہے کہ اگر نماز کے بعد ذکر کیلئے یا باتوں میں کافی دیر بیٹھا رہا تو بھی دوبارہ ابتدا سے طواف کرے گا کیونکہ اس نے موالاۃ کو ترک کر دیا۔([10])

مذکورہ دلائل کی بنا پر ہم یہ کہیں گے کہ جب فرضی یا نفلی طواف کے دوران اگر نماز کھڑی ہو گی تو طواف کرنے والے کو چاہیے کہ طواف کو توڑ کر پہلے نماز ادا کرے پھر جتنے چکروں پر طواف توڑا تھا ان پر بنا کرے اور باقی چکروں کو مکمل کرے اور اگر کسی چکر کے درمیان میں طواف سے نکلا تھا تو وہ چکر دوبارہ ادا کرے جسے درمیان میں چھوڑ دیا تھا اور اپنے سابقہ چکروں پر بنا کرے۔

 
والله تعالی اعلم بالصواب۔
 

 


[1] سورۃ البقرۃ 158
 
[2] مسلم
[3] النسائی

[4] البحر المحیط 1/244 ط۔ دارالکتبی

[5] بخاری و مسلم
[6] سورۃ النساء 103
[7] بخاری و مسلم

[8] المجموع شرح المھذب 8/68 ط۔ المنیریۃ

[9] کشاف القناع عن متن الاقناع 2/448ط۔ دارالکتب العلمیۃ

[10] شرح ال خرشی علی مختصر خلیل 2/316 ط۔ دار الفکر

Share this:

Related Fatwas