اس شخص کی طرف سے حج کرنا جو وسائل ن...

Egypt's Dar Al-Ifta

اس شخص کی طرف سے حج کرنا جو وسائل نقل پر نہیں بیٹھ سکتا

Question

میری والدہ محترمہ نے کئی بار حج کرنے کی کوشش کی مگر نہیں کر سکی، اور میں نے اپنی طرف سے حج کیا پھر ان کے مال سے ان کی طرف سے حج کیا، وہ زندہ ہیں لیکن اڑستھ سال کی عمر کو پہنچ گئی ہیں، پیشاب پر قابو نہیں رکھ سکتیں اور اگر گاڑی پر سوار ہوں تو چکر آتے ہیں، تو کیا ان کی طرف سے میرا کیا ہوا حج صحیح ہے؟ 

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! حضرت سلیمان بن یسار نے فرمایا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے انہیں خبر دی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے اور وہ بہت بوڑھے ہیں، سواری پر مضبوطی سے بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: «نَعَمْ، حُجِّي عَنْ أَبِيكِ» رواه البخاري وأحمد واللفظ له یعنی: ہاں اپنے والد کی طرف سے حج کر لو، یہ حدیث بہت سے راویوں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے۔
یہ شخص جو سواری پر مضبوطی سے نہیں بیٹھ سکتا اسے فقہ اسلامی میں معضوب کہتے ہیں، حج اور عمرہ یا تو میت کی طرف سے کیا جا سکتا ہے یا پھر معضوب کی طرف سے۔ پس اگر صورتِ حال یہی ہے جو سوال میں بیان کی گئی ہے تو آپ کا اپنی والدہ محترمہ کی طرف سے کیا گیا حج صحیح ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas