قبل از دخول مطلقہ پ عدت نہیں ہے

Egypt's Dar Al-Iftaa

قبل از دخول مطلقہ پ عدت نہیں ہے

Question

 کیا جسے دخول سے پہلے ہی طلاق ہو جاۓ اس پر بھی عدت گزارنا واجب ہے؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! یہ بات شرعا مسلم ہے کہ جسعورت کو دخول سے پہلے ہی طلاق ہو جاۓ اس پر عدت واجب نہیں ہوتی؛ کیونکہ الله سبحانه وتعالى قرآن الكريم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴾ [الأحزاب: 49]، یعنی: اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں چھونے سے پہلے انہیں طلاق دے دو پس تمہارے لیے ان پر عدت گزرنا ضروری نہیں ہے جسے تم شمار کرو۔
جب آدمی نے اسے دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو یہ طلاق بائن ہو گی، صرف طلاق واقع ہو جانے سے ہی بغیر کسی عدت گزارے وہ عورت شادی کر سکتی ہے، اور اب اس شخص کے پاس حقِ رجوع بھی نہیں ہے، ہاں اگر پہلی یا دوسری طلاق ہو تو اس عورت کی اجازت اور رضامندی کے ساتھ نئے عقد اور نئے مہر کے ساتھ اسے دوبارہ اپنی عصمت میں لے سکتا ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas