جائے نماز (چھوٹی مسجد) جس کی لوگوں ...

Egypt's Dar Al-Ifta

جائے نماز (چھوٹی مسجد) جس کی لوگوں کو ضرورت نہ رہی ہو اسے استعمال میں لانا

Question

 ہمارے گاؤں میں ایک قدیمی جاۓ نماز(چھوٹی مسجد) ہے جس میں اب نماز ادا نہیں کی جاتی کیونکہ اس کے قریب ہی نئی مسجد بن چکی ہے، اب اس قدیم مسجد کے ایک حصہ کو تحفیظِ قرآنِ مجید کے مدرسہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور باقی حصہ کو بھی گاؤں والے چھوٹے بچوں کے لئے نرسری بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی جگہ موجود نہیں ہے، تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ وعلى آله وصحبه و من والاه۔ وبعد: شرعاً یہ بات مسلم ہے کہ جب مسجد ویران ہو جاۓ، اور اسے آباد بھی نہ کیا جاسکتا ہو اور نئی مسجد بن جانے کی وجہ سے لوگ بھی اس سے مستغنی ہو چکے ہوں، یا ویران تو نہ ہوئی ہو مگر دوسری مجسد بن جانے کی وجہ سے اس کے اردگر سے لوگ بکھر گئے ہوں تو اس قدیم مسجد کو کسی ان کاموں کیلئے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جن سے مسلمانوں کو نفع حاصل ہو سکتا ہو۔
اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اس قدیمی جاۓ نماز (چھوٹی مسجد) جس کے ایک حصہ کو تحفیظِ قرآنِ مجید کے مدرسہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اورایک حصہ ہے باقی ہے اور اب لوگوں کو اس کی بطورِ مسجد ضرورت بھی نہیں رہی، تو اس باقی حصہ کو چھوٹے بچوں کے لئے نرسری کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas