شوال کے مہینے میں شادی کرنا

Egypt's Dar Al-Ifta

شوال کے مہینے میں شادی کرنا

Question

 شوال کے مہینے میں شادی کرنے کا کیا حکم ہے؛ کیونکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شوال کے مہینے میں شادی کرنا مکروہ ہے؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! شوال کے مہینے میں شادی کرنا مکروہ نہیں بلکہ شرعا مستحب ہے؛ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا ہے: "تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي" رواه مسلم. یعنی رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ شوال کے مہینے میں شادی کی تھی اور شوال میں ہی مرے ساتھ صحبت کی تھی، پس آپ ﷺ کی بیویوں میں سے آپ ﷺ کے نزدیک کسی عورت کا مقام مجھ سے زیادہ نہیں تھا۔
امام نووی رحمہ اللہ یہ حدیث پاک ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: شوال میں شادی کرنا اور صحبت کرنا مستحب ہے، اور اس کے مستحب ہونے پر ہمارے اصحاب نے نص قائم کی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث پاک سے استدلال کیا ہے، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے اس کلام سے آپ کا مقصد زمانۂ جاہلیت کی رسومات اور آج کے دور میں جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ شوال میں شادی کرنا، کرانا اور صحبت کرنا مکروہ ہے، کا جواب دینا تھا، اور یہ توہمات باطل ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ہے یہ جاہلیت کے آثار ہیں جن کے ساتھ وہ لوگ بدشگونیاں کیا کرتے تھے، کیونکہ شوال کے نام میں اٹھانےاور بلند کرنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔
امام علامة ابن عابدين الحنفي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:دونوں عیدوں کے درمیان نکاح کرنا اور صحبت کرنا جائز ہے، کچھ کے نزدیک رخصتی کرنا مکرہ ہے لیکن مختار قول کے مطابق مکروہ نہیں ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے شوال کے مہینے میں شادی کی تھی اور شوال میں ہی آپ کے ساتھ صحبت بھی کی تھی۔
مذکورہ دلائل کی روشنی میں ہم کہیں گے کہ شوال میں شادی کرنا مستحب ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے۔
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

 

 

Share this:

Related Fatwas