میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر چھٹے مہینے...

Egypt's Dar Al-Ifta

میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر چھٹے مہینے میں اسقاط حمل

Question

میں چھ ماہ سے حاملہ ہوں، اور ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ حمل جاری رکھنا میری زندگی کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ اس صورت میں اسقاط حمل کا کیا حکم ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ فقہاءِ کرام اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ماں کے پیٹ میں بچے کی عمر ایک سو بیس دن تک پہنچ جائے -اور اسی مدت میں بچے میں روح پھونکی جاتی ہے - تو اسقاطِ حمل جائز نہیں ہے بلکہ اس حالت میں اسقاط حمل قطعا حرام ہے۔ کیونکہ یہ اس جان کا قتل سمجھا جائے گا جسے ناحق قتل کرنا اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے ؛ اللہ رب العزت نے فرمایا :﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ﴾ یعنی: (اور تنگدستی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور انہیں بھی)۔ [الأنعام: 151]، اور ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ ]الإسراء: 33[۔ یعنی: (اور ناحق کسی جان کو قتل نہ کرو جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے)۔
اور اگر ماں کے پیٹ میں موجود بچہ ایک سو بیس دن کی عمر تک نہ پہنچا ہو تو اس صورت میں اسقاط حمل کے حکم میں فقہاءِ کرام کا اختلاف ہے:
کچھ علماء کرام نے اسے حرام کہا ہے اور یہ مالکیہ اور ظاہریہ کا معتمد علیہ مذہب ہے۔
کچھ علماء کرام نے کہا ہے کہ یہ مطلقا مکروہ ہے ، اور یہ بعض مالکیہ کی رائے ہے۔
اور بعض فقہاءِ اسلام نے کہا کہ جب کوئی عذر پایا جا رہا ہو تو یہ جائز ہے ، اور یہ بعض احناف اور شافعیہ کی رائے ہے۔
اس فتوی میں راجح اور مختار رائے یہ ہے کہ اسقاط حمل حرام ہے چاہے روح پھونکے جانے سے پہلے ہو یا بعد میں ہو، سوائے اس صورت کہ جب کوئی شرعی ضرورت پائی جا رہی ہو؛ اور عادل اور ثقہ معالج نے یہ کہا ہو کہ اگر بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں رہا تو ماں کی زندگی کو یا صحت کو خطرہ ہے تو ایسی صورت میں اس کا اسقاط حمل جائز ہے؛ یہ اس لئے کہ ماں کی مستحکم زندگی اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے بچے کی غیر مستحکم زندگی پر ترجیح دی جائے گی۔
مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمِ اسلامی کی اسلامی فقہی کونسل نے قرار دیا ہے: اگر حمل ایک سو بیس دن تک پہنچ گیا ہو ، تو اس کواسقاط کرنا جائز نہیں ہے ، اگرچہ طبی تشخیص بتاتی ہوکہ اس کی خلقت صحیح نہیں ہے۔ ہاں اگر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی میڈیکل کمیٹی کی رپورٹ سے ثابت ہو جائے کہ حمل کا جاری رکھنا ماں کیلئے ایک یقینی خطرے کا باعث ہے تو اس صورت دو نقصانوں میں سے بڑے نقصان سے بچنے کیلئے اسقاط جائز ہو گا]۔
اس کی بنیاد پر مذکورہ سوال کے جواب میں ہم کہیں گے: اگر ڈاکٹر کی رپورٹ میں کہا گیا ہو کہ حمل کو جاری رکھنا حاملہ ماں کی صحت کے لیے خطرہ ہے اور یہ اسے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے ، تو ایسی صورت میں اسقاط حمل جائز ہو گا ، اور شریعتِ اسلام میں اس سے کوئی ممانعت نہیں ہو گی۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
 

Share this:

Related Fatwas