خودکش کرنے والے کی تکفین کرنا، اس...

Egypt's Dar Al-Ifta

خودکش کرنے والے کی تکفین کرنا، اس کی نماز جنازہ ادا کرنا اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا

Question

خودکش کرنے والے کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ کافر ہے؟ کیا اس کی تکفین کی جاےٴ گی؟ اس کی نماز جنازہ ادا کی جاےٴ گی؟ اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کی جاےٴ گا؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔
خود کشی کرنا شرعا حرام ہے؛ اور یہ حکم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم اور اجماعِ امت سے ثابت ہے؛ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ [النساء: 29]، ترجمہ:" اور نہ قتل کرو اپنے آپ کو بیشک اللہ تعالی تم پر بہت رحم کرنے والا ہے"۔ حضرت ثابت نے ضحاک رضی اللہ عنھما سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے فرمایا: «وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» متفق عليه. یعنی: جس نے اپنے آپ کو کسی چیز کے ساتھ قتل کیا تو قیامت کے دن اسے اسی چیز سے عذاب دیا جاےٴ گا۔
خود کشی کرنے والا گناہِ گبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے مگر ایسا کرنے سے وہ ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ مسلمان ہی رہتا ہے۔ لہذا اس کی نماز جنازہ ادا کی جاےٴ گی، اس کی تکفین کی جاےٴ گی اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاےٴ گا؛ شمس الدين رملی رحمہ اللہ "نهاية المحتاج" (2/ 441): میں فرماتے ہیں: اس کی میت کو غسل دینا، اس کی تکفین کرنا اور دفن کرنا بالاجماع فرض کفایہ ہے؛ کیونکہ یہ حکم احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے اور اس حکم میں خود کشی کرنے ولا اور اس کے علاوہ دوسرے لوگ سب برابر ہیں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas