نبی اکرم ﷺ کا کسی کام کو نہ کرنا اس...

Egypt's Dar Al-Ifta

نبی اکرم ﷺ کا کسی کام کو نہ کرنا اس فعل کے نا جائز ہونے پر کس حد تک دلالت کرتا ہے

Question

 کیا جس کام کو بھی نبی اکرم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے نہیں کیا تو مسلمان کیلئے اس فعل کا کرنا جائز نہیں؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ وبعد؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومِ شامل اور عموم بدل کے کچھ افراد پر عمل کرنا اس عموم کا مخصص بنتا ہے نہ ہی مطلق کو مقید کرتا ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ صحبہ وسلم نے ان کے علاوہ باقی افراد سے منع نہ فرمایا دیا ہو۔ یہ وہی اصول ہے جس کی تعبیر علماءِ اصول ان الفاظ میں کرتے ہیں: "الترك ليس بحجة"؛ "ترک کرنا کوئی حجت نہیں ہے"۔ یعنی: یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی فعل نہ کرنا یعنی چھوڑے رہنا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ فعل ناجائز ہے؛ اس مسئلہ پر متقدمین اور متاخرین فقہاءِ مسلمین کا اتفاق ہے؛ حتیٰ کہ علامہ ابن تیمیہ الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ بدعتِ مذمومہ کے مفہوم کو بہت توسعت دیتے ہیں؛ لیکن انہوں نے بھی مذکورہ قاعدے کے مفہوم کو اسی طرح سمجھا ہے اس لیے آپ سورۃ الفاتحہ کا ورد کیا کرتے تھے جیسا کہ ان کے شاگرد ابو حفص البزار نے اپنی کتاب: "الأعلام العَلِيّة في مناقب ابن تيمية" (ص: 38، المكتب الإسلامي) میں ان سے نقل کیا ہے کہ آپ رحمہ اللہ سورتِ فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور فجر کے بعد سے سورج نکلنے تک اسے دہراتے تھے۔ اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کا اس فعل کو ترک کرنا حجت ہوتا تو علامہ ابن تیمیہ کو اس عمل کی وجہ بدعتی اور سنت کا مخالف شمار کیا جاۓ گا۔ لیکن چونکہ ذکر اور تلاوت کے معاملے میں وسعت ہے اور اس میں اعتبار اسی باتکا ہوتا ہے جہاں مسلمان کا دل ٹھہرتا ہے اس لیے یہ عمل شریعت کی رو سے جائز ہے۔
یہی فہم صحیح اور مستنیر ہے جس نے سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کو سوررۃ فاتحہ کے ساتھ دم کرنے پر ابھارا تھا، ناکہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے دم کی شروعات کی تھی، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم کرنے یا اسے مریضوں پر پڑھنے سے متعلق انہیں کوئی نصیحت فرمائی تھی؛ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اس کام کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے اس فعل کا نہ انکار کیا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو بدعت قرار دیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صحیح اور مستحسن قرار دیا اور ان سے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ یہ دم ہے؟ متفق علیہ، اور "صحیح البخاری" میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "تم نے ٹھیک کیا ہے"۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas