دعوت و تبلیغ کی صلاحیت کے فروغ كے ل...

Egypt's Dar Al-Ifta

دعوت و تبلیغ کی صلاحیت کے فروغ كے لئے طلبہ پر زکوٰۃ کا استعمال

Question

سال ٢٠٠٦ مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل سوال پر مشتمل ہے:

کیا زکوٰۃ کی کلی یا جزوی رقم کو طلبہ کی ٹریننگ کے لئے کورس منعقد کرنے پر خرچ کرنا جائز ہے؟ تاکہ انہیں درکار مہارتوں سے مسلح کیا جاسکے اور ان کا فریضہ اور تبلیغی کام بحسن وخوبی انجام پاسکے . واضح رہے کہ ان طلبہ کا تعلق دینی علوم سے ہے اور ان کی آمدنی ان کے اخراجات سے کم ہے

Answer

زکوٰۃ فرض ہے اور اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے ، شریعت مطہرہ نے اس کے مصارف کو متعین فرما دیا اور اس طرح اس کے ادا کرنے کی کیفیت کو باضابطہ بنا دیا ، چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ) [التوبۃ: ٦٠] ۔ زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے، محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو ، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اورا للہ علم و حکمت والا ہے۔ .
واضح رہے کہ فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طالب علم کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ، احناف ، شافعی اور حنبلی حضرات نے اس حکم کو واضح طور پر بیان کیا ہے ، اور مالکی مذہب سے بھی ضمنی طور پر اسی رائے کی تائید ہوتی ہے.
چنانچہ علامہ ابن عابدین جامع الفتاوی سے نقل کرتے ہیں ، عبارت یہ ہے: ''اور المبسوط میں آیا ہے: نیز جو شخص مالک نصاب ہو اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے الا یہ کہ طالب علم ہو یا غازی ہو یا حج سے بچھڑاہوا ہو تو جائز ہے''.( ملاحظہ ہو حاشیہ ابن عابدین ، کتاب الزکاۃ ، زکوٰۃ او ر عشر کے مصرف کا باب).
اور امام نووی نے اصحاب شافعی سے نقل کیا ہے: ''اور اگر وہ کوئی مناسب کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہو مگر وہ دینی علوم سیکھنے میں مشغول ہو کہ اگر کمانے کی طرف متوجہ ہو جائے تو علم سیکھنے سے دور ہو جائے گا تو اس کے لئے زکوۃ حلال ہے ، کیونکہ علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے'' . ( ملاحظہ ہو المجموع: کتاب الزکاۃ ، صدقات بانٹنے کا باب ، فقیروں کا حصہ) .
خطیب شربینی اس بارے ميں يوں رقمطراز ہیں: '' اگر کمانے کی طاقت رکھنے والا شخص تحصیل علم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے اور ان دونوں کے درمیان جمع کرنا دشوار ہو تو اس کو زکوۃ دی جائیگی ، لیکن اگر عبادت کے لئے یا بھوکوں کو کھلانے وغیرہ کے لئے وقف ہو تو نہیں دی جائیگی . (ملاحظہ ہو الاِقناع: کتاب الزکاۃ ، اہل زکوۃ اور اس کے متعلقات کا باب ).
نیز امام بہوتی نے لکھا ہے:''اور اگر کمانے پر قادر شخص علم کے لئے وقف ہو جائے- یعنی دینی علم کے لئے ، اگر چہ اس کا حصول اس پر لازم نہ بھی ہو - اور ان دونوں میں جمع کرنا دشوار ہو - یعنی علم اور کمانے میں - اس کو دی جائیگی- یعنی اس کی ضرورت کے واسطے زکوٰۃ کے مال میں سے''. ( کشاف القناع: کتاب الزکاۃ ، زکوۃ کے اہل اور اس کے متعلقات کا باب).
اور امام بہوتی نے يہی نقل کیا ہے کہ ابن تیمیہ سے پوچھا گیا کہ وہ شخص جس کے پاس علم حاصل کرنے کے لئے کتابیں خریدنے کی طاقت نہ ہو تو کیا وہ کام کر سکتا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: "جن کتابوں کی اس کو دینی اور دنیاوی مصلحت کے لئے ضرورت ہو اُن کے حصول کے لئے اُسے زکوۃ میں سے لینا جائز ہے'' ، پھر اس کے بعد امام بہوتی لکھتے ہیں:'' اور شاید یہ زکوۃ کے مستحقین کی قسموں سے خارج نہیں ہے ، بلکہ یہ ان ہی چیزوں میں شامل ہے جن کی ایک طالب علم کو ضرورت پڑتی رہتی ہے ، لہذا یہ اس کے نان و نفقہ کی ہی طرح ہے''.( کشاف القناع: کتاب الزکاۃ ، اہل زکوۃ اور اس کے متعلقات کا باب).
جہاں تک مالکی حضرات کا تعلق ہے تو ان كا فرمانا ہے: ''(اور) اس کا دینا - یعنی زکوۃ کا - تندرست( کمانے پر قدرت رکھنے والا ) کو جائز ہے- اگر چہ وه اختیار سے کمانا چھوڑ دے'' اور یہى مشہور رائے ہے . ( حاشیہ الدسوقی: باب الزکاۃ ، کس پر زکوۃ صرف کی جائے اور اس سے متعلقہ فصل).
اور ائمہ کرام نے طالب علم کو زکوٰۃ دینے کے جواز پر اس سے بھی استدلال کیا ہے کہ طالب علم پر خرچ کرنا زکوۃ کے مصرف '' و فی سبیل اللہ'' یعنی اللہ کے راستے ۔ میں داخل ہے کیونکہ امام ترمذی نے ایک حدیث روایت کی ہے اور اس کو حسن کہا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص علم سیکھنے کے لئے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ تعالی کے راستے میں ہوتا ہے''.
بلکہ احناف حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ طالب علم کے لئے ایک ملک سے دوسرے ملک کو زکوۃ کی منتقلی بھی جائز ہے.( حاشیہ ابن عابدین: کتاب الزکاۃ ، زکوٰۃ اور عشر کے مصرف کا باب).
اس میں کوئی شک نہیں کہ طلبہ کو درکار مہارتوں کے لئے ٹریننگ کورس کرانا ان کے لئے کتابیں خریدنے کے حکم کے مساوی ہے ، اور ان مہارتوں پر مشق کرنا اگر زیادہ ضروری نہ بھی ہو تو کم از کم اس کے برابر تو ضرور ہے کیونکہ یہ مہارت ان کے ہر معاملے میں نفع بخش ثابت ہوتی ہے.
لہذا اگر صورتحال ایسی ہو جیسی سوال میں وارد ہوئی ہے: تو طلبہ کی ٹریننگ کے لئے زکوۃ نکالنا جائز ہے ، خاص کر جب ان کی آمدنی ان کی ضرورتوں کی تکمیل كے لئے كافى نہ ہو.

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas