شرعی علوم میں ناقص معرفت

Egypt's Dar Al-Ifta

شرعی علوم میں ناقص معرفت

Question

شرعی علوم میں نامکمل معرفت حاصل کرنے کا تکفیری ذہنیت کی تشکیل میں کیا کردار ہے؟

Answer

انتہا پسندی پھیلنے کے لیے جہالت ہی موزوں ماحول ہے، چونکہ انتہا پسندانہ افکار سطحی افکار ہوتی ہیں جن کا انحصار شرعی نصوص کے خاص منتخب استدلال اور ظاہری تشریح پر ہوتا ہے، اور اس لیے بھرتی کے عمل میں ہمیشہ دینی اور شرعی علوم میں کم علم والوں کو ہدف بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ انتہاپسندانہ ڈسکورس کا تجزیہ کرنے اور اس کے تضادات اور کمزوریوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ یہ اکثر ان اعدادوشمار میں ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ انتہا پسند تنظیموں کے جنگجوؤں کی علمی سطح کودیکھا جاتا ہیں۔

لہٰذا انتہا پسندسوچ کے نظریہ دان ایک نیا تصوراتی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انتہا پسندی کے ان نظریات کی خدمت کرے جن کی وہ خدمت کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے انتہا پسندوں کی فکر کو پڑھنے یا ان کی ریکارڈنگ اور اشاعتی میگزینز پڑھنے والے شخص کو سب سے پہلے جس چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ تصورات کا یک مجموعہ ہے جو کہ ان کے مناہج کی فکری ساخت ہے۔اس شخص کو سید قطب وغیرہ کی "دارِ کفر اوردارِ  اسلام " کی تعریف بھی بتائی جاتی ہے،تاکہ اسے اس بات کا یقین ہو جاۓ اس کا معاشرہ جاہلی معاشرہ ہے اور یہ کہ جس ملک میں وہ رہتا ہے وہ دارِ  اسلام نہیں بلکہ دارِ کفر ہے۔اور وہ "حاکمیت" کے بارے میں بھی جان لیتا ہے کہ اسلام میں حکمرانی کیسی ہونی چاہیے، اور مان لیتا ہے کہ موجودہ حکومتیں کافر حکومتیں ہیں، اور جو ان کی مدد کرتا ہے اس کا بھی یہی حکم ہے، پھراسے  جہاد اور اسے انجام دینے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے، تاکہ اسے عام شہریوں، مسلمانوں اور دیگر تمام مذاہب کے لوگوں کو قتل کرنے پر آمادہ ہوجاۓ، اور اس طرح یہ نیا تصوراتی ڈھانچہ اس شخص کو انتہا پسندی کی سمت دھکیلنے میں اپنا کام کرتا ہے۔

Share this:

Related Fatwas