شبِ نصفِ شعبان کے فضائل اور گناہ گا...

Egypt's Dar Al-Ifta

شبِ نصفِ شعبان کے فضائل اور گناہ گاروں کیلئے ان کا حصول

Question

شبِ نصفِ شعبان کے کیا فضائل ہیں؟ اور کیا یہ فضائل گناہ گاروں کو بھی حاصل ہوتے ہیں؟ کیونکہ سوشل میڈیا پر شبِ نصفِ شعبان کے قریب آنے کے ساتھ اس کے فضائل کے بارے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے؛ آرا دو ہیں: کچھ لوگ اس کی فضیلت کے منکر ہیں اور اسے دوسری عام راتوں جیسی سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اس رات کو عبادت، توبہ اور نیکی میں گزارنے کو سنت قرار دیتے ہیں۔ تو اس رات کے فضائل اور اسے عبادت سے زندہ رکھنے کی مشروعیت کے بارے میں صحیح اور فیصلہ کن بات کیا ہے؟ اور کیا اگر کوئی بندہ کسی خاص گناہ کا عادی ہو تو وہ اس رات کی برکتوں اور مغفرت سے محروم ہو جاتا ہے؟ کیونکہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی طرف میں توبہ کے بعد بار بار لوٹ جاتا ہوں، اور ایسی تحریریں پڑھ کر مجھے خوف اور مایوسی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں ٰہمیں فتوی ارشاد فرمائیں، جزاکم اللہ خیرا۔

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اللہ تعالیٰ نے شبِ نصفِ شعبان کو متعدد فضائل سے مخصوص فرمایا ہے، جیسے اس میں اعمال کا اللہ کی بارگاہ میں بلند ہونا، دعاوں کا قبول ہونا، عام مغفرت اور رحمتوں کا نزول۔ یہ وہ رات ہے جس میں رزق مقرر کیا جاتا ہے، عمریں طے ہوتی ہیں، اور پورے سال کے لیے خوش نصیب اور بدقسمت لکھے جاتے ہیں۔

 

شریعتِ مطہرہ نے اس رات میں عبادت کرنے اور اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے، تاکہ اس کی فضیلت حاصل ہو اور اس میں نازل ہونے والی خیرات و برکات سے مستفید ہوا جا سکے۔

اور کوئی بھی شخص اس رات کی برکت اور مغفرت سے محروم نہیں رہتا، چاہے وہ کسی خاص گناہ کا عادی کیوں نہ ہو، بشرطیکہ وہ توبہ میں جلدی کرے اور نیک اعمال کرے۔

 

تفصیلات…

شہر شعبان کی فضیلت اور مقام کا بیان

 شعبان کا مہینہ ان بابرکت اوقات میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایک بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے، کیونکہ اسی مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھتا جتنے شعبان میں رکھتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان غفلت برتتے ہیں، حالانکہ اسی مہینے میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، اس لیے مجھے پسند ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں۔ اسے امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

شبِ نصفِ شعبان کے فضائل، اس میں گناہوں کی مغفرت اور دعاوں کی قبولیت

شبِ نصفِ شعبان متعدد عظیم فضائل سے مزین ہے؛ جن میں سب سے نمایاں عام مغفرت اور رحمتوں کا نزول ہے، اور اس بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔ امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے پاس نہ پایا، تو میں آپ کو تلاش کرنے کے لیے نکلی، دیکھا کہ آپ ﷺ جنت البقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں یہ خوف تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم سے زیادتی کریں گے؟ میں نے عرض کیا: ایسی بات نہیں، بلکہ میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل شبِ نصفِ شعبان آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، پھر قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
امام ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقاة المفاتیح میں فرمایا ہے کہ حدیث میں وارد لفظ “غنمِ کلب” سے مراد قبیلہ بنی کلب ہے، اور ان کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عرب قبائل میں ان کے پاس بکریاں سب سے زیادہ تھیں۔ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ شبِ نصفِ شعبان میں اپنی مخلوق پر نظرِ رحمت فرماتا ہے، پھر تمام مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔ یہ حدیث ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کی ہے۔
یہ تمام احادیث مجموعی طور پر اس بات کی مضبوط دلیل ہیں کہ شبِ نصفِ شعبان کی فضیلت ثابت ہے۔ شیخ تقی الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اقتضاء الصراط المستقیم میں فرمایا ہے کہ شبِ نصفِ شعبان کی فضیلت کے بارے میں نبی ﷺ سے مرفوع احادیث اور سلف کے آثار منقول ہیں جو اس کی فضیلت کا تقاضا کرتی ہیں، اور سلف میں سے بعض حضرات اس رات کو خاص طور پر نماز کے ذریعے عبادت میں گزارتے تھے۔ اسی طرح شعبان کے مہینے کے روزوں کے بارے میں بھی صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اگرچہ سلف میں سے بعض علماء، خصوصاً اہلِ مدینہ اور بعد کے بعض علماء نے اس رات کی فضیلت کا انکار کیا اور اس بارے میں وارد احادیث پر کلام کیا، جیسے یہ حدیث کہ اللہ تعالیٰ اس رات قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے، اور انہوں نے کہا کہ اس رات اور دوسری راتوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت بلکہ اکثر علماء، ہمارے ائمہ اور دیگر حضرات کے نزدیک اس رات کی فضیلت ثابت ہے، اور امام احمد رحمہ اللہ کا قول بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں اور سلف کے آثار بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض روایات میں غیر ثابت باتیں بھی شامل کر دی گئی ہیں، تاہم اصل فضیلت کا ثبوت مسانید اور سنن کی روایات سے ملتا ہے۔


ثانیاً: شبِ نصفِ شعبان فضیلت والی راتوں میں سے ایک عظیم رات ہے؛ یہی وہ رات ہے جس میں رزق کا فیصلہ کیا جاتا ہے، عمریں متعین کی جاتی ہیں اور پورے ایک سال کے لیے سعادت مند اور بدبخت لکھے جاتے ہیں، اس اعتبار سے کہ بعض اہلِ علم کے نزدیک یہی وہ رات مراد ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴾ ترجمہ: اسی میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ (الدخان: 4)، جیسا کہ ایک قول میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اس قول کی بنیاد شاید وہ روایت ہے جسے امام ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں مرسلًا عثمان بن محمد بن المغیرہ بن الاخنس سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شعبان سے شعبان تک عمریں طے کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ آدمی نکاح بھی کرتا ہے اور اس کے ہاں اولاد بھی پیدا ہوتی ہے، حالانکہ اس کا نام مرنے والوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ یہ روایت امام طبری نے اپنی تفسیر میں ذکر کی ہے۔

علامہ ابن الحاج مالکی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب المدخل میں فرمایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بابرکت رات ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا عظیم مقام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴾ (الدخان: 4)۔ علماء رحمہم اللہ کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا اس آیت میں مراد یہی رات ہے یا شبِ قدر؛ اس بارے میں دو قول ہیں، جن میں مشہور قول یہ ہے کہ اس سے مراد شبِ قدر ہے۔ لیکن یہ رات، اگرچہ شبِ قدر نہیں ہے، تب بھی اس کی بڑی فضیلت اور عظیم خیر ہے، اور سلف صالحین رضی اللہ عنہم اس رات کو بہت عظمت دیتے تھے اور اس کے آنے سے پہلے ہی اس کے لیے پوری تیاری کرتے تھے، چنانچہ یہ رات ان پر اس حال میں آتی تھی کہ وہ اس کے استقبال اور اس کی حرمت کو قائم کرنے کے لیے آمادہ ہوتے تھے، جیسا کہ شعائرِ دین کے احترام میں ان کا معروف طرزِ عمل تھا۔ یہی اس رات کی شرعی تعظیم ہے۔


ثالثاً: دعاؤں کی قبولیت؛ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شبِ نصفِ شعبان، اور عیدین کی راتیں۔ اس روایت کو امام عبدالرزاق نے مصنف میں، اور بیہقی نے شعب الایمان اور فضائل الاوقات میں نقل کیا ہے۔ اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے الام میں فرمایا ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ پانچ راتوں میں دعا قبول ہوتی ہے: جمعہ کی رات، عیدالاضحیٰ کی رات، عیدالفطر کی رات، رجب کی پہلی رات، اور نصفِ شعبان کی رات۔


رابعاً: ان بابرکت اوقات میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نزول، دعا کی قبولیت کے اسباب کی کی فراہمی، اور اس رزق و برکتوں کے فیصلوں کے ذریعے خیر کے دروازے کھولے جاتے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، کیونکہ یہ وہ راتیں ہیں جنہیں خاص طور پر فضل کے دروازے کھولنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ چار راتوں میں خیر کو کھول دیتا ہے: عید الاضحیٰ کی رات، عید الفطر کی رات، شبِ نصفِ شعبان—جس میں عمریں اور رزق نقل کیے جاتے ہیں اور حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں—اور عرفہ کی رات اذان تک۔ اس روایت کو امام دارقطنی نے "غرائب مالک" میں، خطیب نے الروایۃ عن مالک میں، ابن جوزی نے مثیر العزم میں اور دیلمی نے الفردوس میں نقل کیا ہے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بصرہ کے گورنر عدی بن أرطأہ کو خط لکھا: "تم پر سال کی چار راتوں کا اہتمام لازم ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان میں اپنی رحمت کو بھرپور انداز میں نازل فرماتا ہے: رجب کی پہلی رات، نصفِ شعبان کی رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحیٰ کی رات۔" اس قول کو علامہ قوام السنة نے الترغیب والترھیب میں ذکر کیا ہے اور حافظ ابن جوزی نے التبصرة میں نقل کیا ہے۔

شبِ نصفِ شعبان کو عبادت کے ساتھ گزارنے کا حکم
شبِ نصفِ شعبان کو زندہ رکھنا (یعنی عبادت میں گزارنا) اہلِ شام کے تابعین کی ایک جماعت کا معروف عمل تھا، جیسے خالد بن معدان، مکحول، لقمان بن عامر وغیرہ، جو اس رات کو بڑی تعظیم سے دیکھتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ وہ اس رات اپنا بہترین لباس پہنتے، خوشبو لگاتے، سرمہ لگاتے اور پوری رات قیام کرتے تھے۔ اس بات کا ذکر امام ابن رجب حنبلی نے اپنی کتاب لطائف المعارف میں کیا ہے۔


شبِ نصفِ شعبان کو زندہ رکھنا (یعنی عبادت میں گزارنا) عام طور پر مشروع عمل ہے، جیسا کہ متعدد فقہاء مذاہب نے بیان کیا ہے۔ علامہ زین الدین بن نُجیم الحنفی نے اپنی کتاب البحر الرائق میں فرمایا رمضان کی دس راتوں، عیدین کی راتوں، ذی الحج کی دس راتوں اور نصفِ شعبان کی رات کو زندہ رکھنا مستحب اعمال میں شامل ہے، اور زندہ رکھنے سے مراد اسے عبادت کے ساتھ گزارنا ہے۔

اسی طرح علامہ قلیوبی شافعی نے امام نووی کی شرح الجلال المحلي على منهاج الطالبین پر اپنی حاشیہ میں فرمایا: عیدین کی راتیں ذکر یا نماز کے ساتھ گزارنا مستحب ہے، سب سے افضل عبادت نمازِ تسبیح ہے، اور ان میں سب سے کم کفایت مند عمل یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نمازِ عشاء پڑھی جائے اور صبح کی نماز کے لیے عزم کیا جائے۔ اسی طرح شبِ نصفِ شعبان، رجب کی پہلی رات اور جمعہ کی رات بھی زندہ رکھنا بھی مستحب ہے، کیونکہ یہ وہ اوقات ہیں جن میں دعا کی قبولیت کا زیادہ امکان ہے۔

علامہ البہوتی حنبلی نے اپنی کتاب کشاف القناع میں فرمایا: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول "أحیى الليل" سے مراد ہے کہ آپ ﷺ نے رات کا اکثر حصہ یا زیادہ تر حصہ عبادت میں گزارتے تھے۔ اس قول کے ظاہر میں یہ احتمال اور  عید کی رات اس حکم سے خارج ہے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا پہلا قول (لیالی عشرۃ) دس راتوں کے علاوہ پر محمول ہوگا ، یا پھر یہ کہ آپ ﷺ رات میں اس سے زیادہ قیام نہیں کرتے تھے۔ ہمارے شیخ نے اسے مستحب قرار دیا اور کہا کہ کچھ راتیں ایسی ہیں جن میں پوری رات قیام کرنا سنت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوائے عید کی رات کے پوری رات قیام نہیں کیا)، حدیث میں آیا ہے: "جس نے عید کی رات (عبادت کے ساتھ) زندہ رکھی، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو زندہ رکھے گا اس دن جب دل مردہ ہو جائیں گے" (دارقطنی، عللہ)۔ اور اسی مفہوم میں شبِ نصفِ شعبان بھی آتی ہے، جیسا کہ ابن رجب نے لطائف المعارف میں ذکر کیا ہے۔

شبِ نصفِ شعبان کو جماعت کے ساتھ یا فرداً، جیسا کہ عام طور پر لوگ کرتے ہیں یا کسی دوسری صورت میں عبادت میں گزارنا، ایک مشروع عمل ہے، اس میں کوئی بدعت یا کراہت نہیں ہے۔ جو شخص اس رات کو زندہ رکھتا ہے، اس کے لیے اس کا اجر لکھا جاتا ہے اور اس کی مغفرت کی امید رکھی جاتی ہے۔ اس میں کسی خاص گناہ کا عادی ہونا رکاوٹ نہیں ہے، بشرطیکہ وہ توبہ میں جلدی کرے اور اس کی شرائط پوری کرے: گناہ چھوڑ دے، جو کچھ کیا اس پر ندامت محسوس کرے، اور پختہ ارادہ کرے کہ کبھی دوبارہ ایسا نہیں کرے گا، اور لوگوں کو ان کے حقوق واپس کرے۔ یہ تمام اصول امام نووی نے اپنی کتاب المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج میں بیان کیے ہیں۔

کیا گناہ اور معاصی گناہگار کو شبِ نصفِ شعبان کی فضائل سے محروم کر دیتی ہیں؟

مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر گناہ کے بعد فوراً توبہ کرے؛ کیونکہ توبہ ہی دونوں جہانوں میں نجات کا راستہ ہے۔ بار بار گناہ کرنا اس کے فضائل کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنتا، جب تک کہ وہ گناہ پر مصر نہ ہو اور ہر بار توبہ کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ ترجمہ: اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔ [آل عمران: 135]۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ فضل فرمایا ہے کہ وہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کے برے اعمال کو معاف کر دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ ترجمہ: اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کوبے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔ [النساء: 110]۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ ترجمہ: اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ [الشورى: 25] ۔

حضرت ابوعبیدہ بن عبداللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص گناہ سے توبہ کر لیتا ہے، وہ ایسے ہو جاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں تھا"۔ یہ روایت ابن ماجہ، بیہقی اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں نقل کی ہے۔

توبہ شعبان کے مہینے میں خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اسی مہینے میں اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ اس لیے جو شخص گناہ کرتا ہے اسے فوراً توبہ کرنی چاہیے، اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، شدید ندامت محسوس کرنی چاہیے اور پختہ ارادہ کرنا چاہیے کہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہیں جائے گا۔ مسلمان کے دل میں یہ سوچ پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ بار بار گناہ کرنے کے سبب امید ختم ہو گئی؛ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " ہر مومن کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے وہ اسے نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ دنیا چھوڑ جاتا ہے اور بے شک مومن مفتن یعنی آزمائش میں ڈالا جانے والا، بہت توبہ کرنے والا، بہت بھولنے والا پیدا کیا گیا ہے، جب اسے (توبہ کی) یاد دہانی کرائی جائے تو وہ یاد کر لیتا ہے"۔ یہ روایت طبرانی نے المعجم الکبیر میں نقل کی ہے۔

مناوی نے اپنی کتاب فیض القدیر میں فرمایا ہے کہ اس نے مراد وہ شخص ہے جو آزمائش میں ڈالا گیا ہو، یعنی اللہ تعالیٰ اسے بلا یا گناہوں کے ذریعے آزماتا ہے بار بار۔ مفتن وہ ہے جو بار بار آزمائش میں آتا ہے، اور وہ توبہ کرنے والا اور بھولنے والا ہوتا ہے، یعنی توبہ کرتا ہے، پھر بھول کر دوبارہ گناہ کرتا ہے، پھر یاد آتا ہے تو دوبارہ توبہ کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا: " میرے بندے نے گناہ کیا تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور (چاہے تو) گناہ پر پکڑ لیتا ہے، (میرے بندے! اب تو) جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔ "۔ یہ روایت امام مسلم نے نقل کی ہے۔

امام نووی نے اپنی کتاب المنهاج شرح صحیح مسلم میں فرمایا: یہ احادیث واضح طور پر اس بات کی دلیل ہیں کہ اگر کوئی شخص گناہ سو بار، ہزار بار یا اس سے زیادہ بار کرے اور ہر بار توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوگی اور اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے، اور اگر وہ سب گناہوں کے بعد ایک ساتھ توبہ کرے تو بھی اس کی توبہ درست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس شخص سے بار بار گناہ ہوتا ہے اسے فرمایا: "جو چاہو کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی"—اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم گناہ کے بعد توبہ کرو گے، تمہاری مغفرت جاری رہے گی۔

خلاصہ

مندرجہ بالا بحث اور سوال کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شبِ نصفِ شعبان کو متعدد فضائل سے مخصوص فرمایا ہے، جیسے اعمال کا اللہ کی بارگاہ میں بلند ہونا، تقدیری امور کا انجام پانا، اور بندوں پر رحمتوں کا نزول۔ اللہ تعالی نے اس رات کو عبادت کے ساتھ زندہ رکھنے اور اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے، تاکہ انسان اس کے فضائل حاصل کرے اور ثواب کمائے، اور جو خیرات اور برکتیں اس میں نازل ہوتی ہیں ان سے مستفید ہو۔ اور مسلمان کے بار بار گناہ کرنے سے اس رات کے فضائل حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی، بشرطیکہ وہ توبہ میں جلدی کرے اور نیک اعمال کرے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas