حائضہ عورت کا موبائل یا ڈیجیٹل مصحف سے قرآن پڑھنے کا حکم
Question
حائضہ عورت کے لیے موبائل فون یا ڈیجیٹل مصحف سے قرآنِ کریم پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ حائضہ عورت کے لیے قرآن پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ صرف آنکھ سے دیکھے، چاہے اصل مصحف ہو یا موبائل یا ڈیجیٹل مصحف کی سکرین ہو، اور الفاظ کو بغیر زبان سے ادا کیے صرف دل میں پڑھے، اور مصحف کو بھی نہ چھوئے۔ جہاں تک چھونے یا زبان سے پڑھنے کا تعلق ہے، تو زیادہ مستحب یہی ہے کہ جمہور فقہاء کے قول کے مطابق عمل کیا جائے، جو یہ ہے کہ حیض والی عورت کے لیے قرآن پڑھنا اور مصحف چھونا حرام ہے، تاکہ اختلاف سے بچا جا سکے؛ کیونکہ اختلاف سے بچنا مستحب ہے۔
اور جس عورت کو اس معاملے میں مشقت اور تنگی لاحق ہو، اور اسے قرآن پڑھنے یا مصحف چھونے کی ضرورت ہو، مثلاً حفظ، تعلیم یا تدریس وغیرہ کے لیے، تو اس صورت میں مالکیہ کی تقلید میں ضرورت کے حد تک قرآن پڑھنا اور مصحف چھونا جائز ہے، اور اس میں کوئی گناہ یا حرج نہیں۔
تفصیلات۔۔۔
حیض کا خون عورت کی فطری ساخت کے تقاضوں میں سے ہے
اللہ تعالیٰ کی تخلیقی سنت یہ ہے کہ اس نے عورت کو اس کے جسمانی ڈھانچے اور اُن خصوصیات کی بنیاد پر ایک خاص فطرت اور ہیئت عطا فرمائی ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا، اور اسی کے مطابق اس کے لیے مناسب ذمہ داریاں مقرر کیں، نیز اس کی عبادات اور معاملات سے متعلق شرعی احکام بھی اسی فطری ساخت کے مطابق مقرر فرمائے۔ عورت کی فطرت کے تقاضوں میں سے یہ ہے کہ اسے ماہواری یا حیض کی خصوصیت دی گئی ہے، اور حیض وہ خون ہے جو عورت کے بالغ ہونے کے بعد مخصوص اوقات میں اس کے رحم سے خارج ہوتا ہے۔
حائضہ کا زبان سے ادا کیے بغیر صرف آنکھ سے دیکھ کر قرآن پڑھنے کا حکم
فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حائضہ عورت کے لیے مصحف یا کسی اور ذریعے سے صرف آنکھ سے دیکھ کر قرآن پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ زبان سے نہ پڑھے اور مصحف کو نہ چھوئے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے المجموع شرح المهذب میں فرمایا ہے: جنبی اور حائض کے لیے مصحف میں دیکھنا اور زبان کو حرکت دیے بغیر دل میں قرآن پڑھنا جائز ہے، اور اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔
حائضہ کا زبان سے قرآن پڑھنے کا حکم
رہا مصحفِ شریف سے زبان کے ساتھ تلاوت کرنا اور مصحف کو چھونا، تو جمہور فقہاء کے نزدیک حالتِ حیض میں عورت کے لیے مصحفِ شریف کو چھونا بھی حرام ہے اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا بھی حرام ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی بنا پر: ﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ (الواقعہ: 79)۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر معالم التنزيل میں فرمایا ہے کہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس آیت کا معنی یہ ہے کہ قرآن کو صرف وہی لوگ چھو سکتے ہیں جو حدث اور جنابت سے پاک ہوں، اگرچہ آیت کے الفاظ خبریہ ہیں مگر معنی کے اعتبار سے نہی (ممانعت) پر دلالت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جنبی، حائض اور بے وضو شخص کے لیے مصحف اٹھانا یا اسے چھونا جائز نہیں، اور یہی قول عطا، طاؤس، سالم، قاسم اور اکثر اہلِ علم کا ہے، نیز امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حائضہ عورت اور جنبی شخص قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھیں۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
امام بغوی رحمہ اللہ نے شرح السنۃ میں فرمایا: یہ قول صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے اکثر اہلِ علم کا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے لیے قرآن پڑھنا جائز نہیں۔ یہ امام حسن بصری کا قول ہے، اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن المبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحاق ہیں۔ البتہ ابن المسیب اور عکرمہ نے جنبی کے لیے قرآن پڑھنے کی اجازت دی ہے، اور یہی قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے حائضہ کے لیے قرآن پڑھنے کی اجازت دی ہے، اس وجہ سے کہ اس کا زمانۂ حیض طویل ہو سکتا ہے اور اندیشہ ہے کہ وہ قرآن بھول جائے، اور انہوں نے جنبی کے لیے بھی آیت کا کچھ حصہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے التمہید میں فرمایا: مدینہ، عراق اور شام کے فقہائے امصار کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ قرآنِ مجید کو صرف وہی شخص چھو سکتا ہے جو وضو کے ساتھ پاک ہو۔ یہی قول امام مالک، امام شافعی، امام ابو حنیفہ، سفیان ثوری، اوزاعی، امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابو ثور اور ابو عبید رحمہم اللہ کا ہے، اور یہ سب اپنے زمانے میں فقہ اور حدیث کے ائمہ تھے۔ یہی بات حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبد اللہ بن عمر، طاؤس، حسن بصری، شعبی، قاسم بن محمد اور عطا رحمہم اللہ سے بھی منقول ہے۔
امام حصکفی رحمہ اللہ نے الدر المختار میں فرمایا: حائض عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا حلال نہیں، اسی طرح قصد کے ساتھ قرآن پڑھنا اور اسے چھونا بھی ممنوع ہے، اگرچہ وہ فارسی میں لکھا ہوا ہو صحیح قول کے مطابق، البتہ اگر قرآن الگ غلاف میں ہو تو (چھونے کی ممانعت نہیں) جیسا کہ پہلے گزرا۔ اسی طرح قرآن کو اٹھانا بھی منع ہے، جیسے ایسی تختی یا کاغذ جس پر کوئی آیت لکھی ہو۔ البتہ حائض اور جنبی کے لیے دعائیں پڑھنا، انہیں چھونا اور اٹھانا، نیز اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور تسبیح پڑھنا جائز ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے المجموع شرح المهذب میں فرمایا: جنبی، حائض اور نفاس والی عورت کے لیے قرآن کا کچھ بھی پڑھنا حرام ہے، چاہے وہ مقدار میں بہت ہی کم ہو، حتیٰ کہ آیت کا کوئی حصہ ہی کیوں نہ ہو۔
اور امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے المغنی میں فرمایا: شریعت نے حیض کے ساتھ کئی احکام کو وابستہ کیا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حیض قرآن پڑھنے سے مانع ہے، نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ’’حائض اور جنبی قرآن میں سے کچھ بھی نہیں پڑھ سکتے۔‘‘
مالکیہ کے نزدیک حیض والی عورت کے لیے قرآن پڑھنے کا حکم
مالکیہ کا مذہب یہ ہے کہ جو عورت قرآن سیکھ رہی ہو یا قرآن پڑھا رہی ہو، اس کے لیے حالتِ حیض میں مصحف کو چھونا جائز ہے، خواہ پورا قرآن ہو، اس کا کوئی حصہ ہو، یا وہ تختی ہو جس پر قرآن لکھا ہو، یہ اجازت سیکھنے اور سکھانے کی حالت میں ہے۔ اسی طرح حالتِ حیض میں جب تک خون جاری رہے، عورت کے لیے مطلقًا قرآن پڑھنا جائز ہے، چاہے اسے بھول جانے کا اندیشہ ہو یا نہ ہو۔ البتہ جب خون بند ہو جائے تو غسل سے پہلے قرآن پڑھنا جائز نہیں، الا یہ کہ اسے قرآن بھول جانے کا خوف ہو۔
علامہ الدردیر نے "الشرح الكبير، ومعه حاشية الدسوقي" میں فرمایا: حدث درہم یا دینار جس میں قرآن لکھا ہو چھونے یا اٹھانے سے مانع نہیں ہے، لہٰذا محدث کے لیے اسے چھونا اور اٹھانا جائز ہے، چاہے حدث بڑا بھی ہو۔ اور تفسیر کو اٹھانا بھی جائز ہے، حتیٰ کہ جنبی کے لیے بھی۔ اور معلم یا متعلم کے لیے تختی کے چھونے یا اٹھانے میں بھی کوئی منع نہیں ہے، خاص طور پر تعلیم و تعلم کے دوران، اور اسی طرح کی وہ امور جن کرنا مجبوری ہو جیسے اسے گھر لے جانا وغیرہ، تو سب مشقت کے سبب جائز ہے۔ اور اگرچہ معلم اور متعلم دونوں حیض والی ہوں تو بھی جائز ہے مگر جنبی نہ ہوں کیونکہ وہ مانع کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن حیض والی عورت مانع کو دور نہیں کر سکتی۔ اور معلم کیلئے قرآن کے کسی جزو یا مکمل قرآن حمید کو چھونا یا اٹھانا ممنوع نہیں، اور نہ متعلم کے لیے ممنوع ہے اگرچہ وہ بالغ ہو، یا حائضہ ہو نہ کہ جنبی ہو۔
اور علامہ دَسوقیؒ نے اس پر حاشیہ لکھتے ہوئے فرمایا: حیض کے ختم ہونے کے بعد بھی قراءت سے منع نہیں کیا جائے گا۔ مگر یہ کہ وہ حیض سے پہلے جنابت کی حالت میں ہو، تو قراءت جائز نہیں۔ ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر عورت کا حیض ختم ہو جائے تو وہ قرآن کی قراءت کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ حیض سے پہلے جنابت کی حالت میں نہ ہو، اور اگر وہ حیض سے پہلے جنبی تھی تو اس کے لیے قراءت جائز نہیں ہوگی۔ شارح نے اس مسئلے میں عبق یعنی عبدالباقی زرقانی کی پیروی کی ہے اور اسے مذہب قرار دیا ہے، حالانکہ یہ قول ضعیف ہے۔ اور معتمد قول وہ ہے جو عبد الحقؒ نے فرمایا ہے، اور وہ یہ کہ حائضہ عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو غسل کرنے تک قرآن کی قراءت نہ کرے، خواہ وہ پہلے جنابت کی حالت میں تھی یا نہ تھی، البتہ اگر قرآن کو بھول جانے کا اندیشہ ہو تو قراءت کی اجازت ہے۔ اسی طرح معتمد یہ بھی ہے کہ حیض کے جاری رہنے کی صورت میں عورت کے لیے قرآن کی قراءت جائز ہے، چاہے وہ جنابت کی حالت میں ہو یا نہ ہو، اور چاہے نسیان کا خوف ہو یا نہ ہو۔ اسی قول کو ابنِ رشدؒ نے المقدمات میں ابتداءً ذکر کیا، اسے درست قرار دیا، اور التوضيح میں اسی پر اکتفا کیا، نیز ابن فرحونؒ اور متعدد دیگر علماء نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔ محمد حطابؒ کہتے ہیں کہ یہی ظاہر قول ہے۔ اس مسئلے میں ابن عرفةؒ سے بھی یہی منقول ہے۔ امام باجیؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے اصحاب کا قول یہ ہے کہ حائضہ عورت حیض ختم ہونے کے بعد غسل کرنے سے پہلے بھی قرآنِ مجید کی قراءت کر سکتی ہے، اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ چاہے وہ حیض سے پہلے کسی جنابت میں تھی یا نہ تھی۔
حائضہ عورت کے لیے زبان سے قرآن پڑھنے میں زیادہ مناسب اور بہتر رائے
حائضہ عورت کے لیے زبان سے قرآن پڑھنے کے بارے میں بہتر یہ ہے کہ جمہور فقہاء کے قول پر عمل کیا جائے، تاکہ اختلاف سے بچا جا سکے اور قرآنِ کریم کی تعظیم بھی ملحوظ رہے، لیکن اگر کسی عورت کو اس میں مشقت اور تنگی پیش آئے، اور اسے حفظ، تعلیم یا تدریس کے کام کے لیے قرآن پڑھنے یا مصحف کو چھونے کی ضرورت ہو، تو اس کے لیے فقہائے مالکیہ کے قول کی پیروی کرتے ہوئے قراءت کی اجازت ہے، کیونکہ جس شخص کو کسی اختلافی مسئلے میں مجبوری لاحق ہو وہ اس قول پر عمل کر سکتا ہے جس میں اجازت دی گئی ہو۔
حیض والی عورت کے لیے موبائل یا ڈیجیٹل مصحف سے قرآنِ مجید پڑھنے کا حکم
حیض والی عورت کے لیے قرآن کی آیات کو موبائل یا ڈیجیٹل مصحف پر دیکھنے اور چھونے میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ موبائل یا ڈیجیٹل مصحف حقیقت میں مصحف نہیں ہیں، اس لیے ان کا حکم اس حکم کے تابع نہیں کہ بغیر طہارت (کبیر یا صغیر) کے مصحف کو چھونا حرام ہے۔ لہٰذا جنبی یا حیض والی عورت کے لیے موبائل یا ڈیجیٹل مصحف کی اسکرین پر دکھائی دینے والے قرآن کی الیکٹرانک تحریر کو چھونا جائز ہے۔ اس کے باوجود یہ ضروری ہے کہ اسکرین پر موجود قرآن کی آیات کے ساتھ احترام سے پیش آیا جائے؛ یعنی انہیں ایسے مقامات پر نہیں دکھایا جانا چاہیے جہاں انسانی نجاست یا نامناسب حالت ہو، اور نہ ہی ایسی جگہوں پر جو اللہ کے ذکر اور کلمات کے تقدس کے خلاف ہوں۔ بہتر یہ ہے کہ انہیں مکمل طہارت کے ساتھ چھوا جائے۔
خلاصہ
مندرجہ بالا بیان اور سوال کے تناظر میں: حائضہ عورت کے لیے قرآن پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ صرف آنکھ سے دیکھے، چاہے اصل مصحف ہو یا موبائل یا ڈیجیٹل مصحف کی سکرین ہو، اور الفاظ کو بغیر زبان سے ادا کیے صرف دل میں پڑھے، اور مصحف کو بھی نہ چھوئے۔ جہاں تک چھونے یا زبان سے پڑھنے کا تعلق ہے، تو زیادہ مستحب یہی ہے کہ جمہور فقہاء کے قول کے مطابق عمل کیا جائے، جو یہ ہے کہ حیض والی عورت کے لیے قرآن پڑھنا اور مصحف چھونا حرام ہے، تاکہ اختلاف سے بچا جا سکے؛ کیونکہ اختلاف سے بچنا مستحب ہے۔
اور جس عورت کو اس معاملے میں مشقت اور تنگی لاحق ہو، اور اسے قرآن پڑھنے یا مصحف چھونے کی ضرورت ہو، مثلاً حفظ، تعلیم یا تدریس وغیرہ کے لیے، تو اس صورت میں مالکیہ کی تقلید میں ضرورت کے حد تک قرآن پڑھنا اور مصحف چھونا جائز ہے، اور اس میں کوئی گناہ یا حرج نہیں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
