عذر کی بنا پر رمضان کے قضا روزے اگل...

Egypt's Dar Al-Ifta

عذر کی بنا پر رمضان کے قضا روزے اگلے رمضان تک مؤخر کرنے کی صورت میں فدیہ کا لازم ہونا

Question

ایک عورت نے ماہواری کی وجہ سے رمضان کے چند روزے چھوڑ دیے، پھر رمضان ختم ہوتے ہی قضا کی قدرت حاصل ہونے سے پہلے ہی وہ حاملہ ہو گئی، اور اس پر دوسرا رمضان آ گیا جبکہ اس نے اپنے ذمہ باقی روزوں کی قضا نہیں کی تھی، تو کیا اس عورت پر قضا کے ساتھ فدیہ بھی لازم ہوگا؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اگر کسی اگر کسی عورت نے ماہواری کی وجہ سے رمضان کے چند دنوں کے روزے چھوڑ دیے، پھر رمضان کے فوراً بعد قضا کی قدرت حاصل ہونے سے پہلے ہی وہ حاملہ ہو گئی، اور وہ ابھی اپنے ذمہ باقی روزوں کی قضا کرنے سے معذور تھی کہ دوسرا رمضان آ گیا، تو شرعاً اس پر عذر ختم ہونے اور روزہ رکھنے کی قدرت حاصل ہونے کے بعد صرف روزوں کی قضا لازم ہوگی، فدیہ لازم نہیں ہوگا۔

تفاصیل…

رمضان میں عذر والوں کے لیے روزہ چھوڑنے کی اجازت
اسلامی شریعت کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آسانی پیدا کرتی ہے اور مکلفین سے تنگی کو دور کرتی ہے، یہ سب ان پر رحمت اور ان کے حالات کی رعایت کے پیش نظر ہے، اسی لیے شریعتِ مطہرہ کے تمام احکام انسان کی وسعت اور طاقت کے مطابق مقرر کیے گئے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [البقرة: 286]. ترجمہ:" اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں کرتا"۔ آسانی اور تنگی کے ازالے کی ایک صورت یہ ہے کہ عذر رکھنے والوں کے لیے رخصتیں مشروع کی گئی ہیں، تاکہ مشقت کے وقت تخفیف یا بعض احکام ساقط ہو جائیں، انہی رخصتوں میں سے یہ ہے کہ مریض، مسافر، حائضہ، نفاس والی عورت، حاملہ اور دیگر معذور افراد کے لیے رمضان میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے، البتہ بعد میں ان پر قضا لازم ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [البقرة: 184]. ترجمہ: "پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے"۔

عذر کی بنا پر رمضان کے قضا روزے اگلے رمضان تک مؤخر کرنے کی صورت میں فدیہ کا لازم ہونا

اگر عذر رکھنے والوں میں سے کوئی شخص رمضان کے ذمہ باقی روزوں کی قضا میں تاخیر کر دے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے، تو اس پر صرف قضا لازم ہوگی، فدیہ لازم نہیں ہوگا۔ یہی جمہور فقہاء یعنی احناف، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا موقف ہے، اور یہی ظاہریہ کا بھی مذہب ہے؛ اس لیے کہ جس شخص نے عذر کی بنا پر قضا میں تاخیر کی ہو وہ کوتاہی کرنے والا شمار نہیں ہوتا، نیز عذر کی وجہ سے اصل ادائیگی میں تاخیر جائز ہے، تو قضا میں تاخیر بدرجۂ اولیٰ جائز ہوگی۔

امام ابن نجیم حنفی نے البحر الرائق میں فرمایا ہے کہ اگر کسی نے رمضان کی قضا میں تاخیر کی یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ گیا، تو اس پر فدیہ لازم نہیں ہوگا، اس لیے کہ فدیہ روزے کے بدلے اس وقت واجب ہوتا ہے جب روزہ رکھنے سے عاجزی ہو، اور یہاں یہ صورت موجود نہیں، کیونکہ وہ قضا کی قدرت رکھتا ہے۔

اور امام شهاب الدین نفراوی مالکی نے الفواكه الدواني میں فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص نے قضا میں تاخیر کی یہاں تک کہ شعبان میں اتنے ہی دن باقی رہ گئے جتنے اس کے ذمہ تھے، پھر وہ بیمار ہو گیا یا سفر میں چلا گیا یا عورت کو حیض آ گیا، حتیٰ کہ اسی حالت میں رمضان داخل ہو گیا، تو اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔

اور امام خطیب شربینی شافعی نے مغني المحتاج میں فرمایا ہے کہ جس شخص نے رمضان کے قضا روزوں میں، یا ان میں سے بعض میں، باوجود قدرت کے تاخیر کی، یعنی اس کے پاس سفر یا کسی اور عذر کی صورت نہ تھی، یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ گیا، تو اس پر قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مُد (فدیہ) لازم ہوگا، لیکن اگر وہ عذر کے مسلسل رہنے کی وجہ سے قضا پر قادر نہ ہو سکا، مثلاً مسلسل سفر یا بیماری کی حالت میں رہا، یا عورت حاملہ یا دودھ پلانے والی رہی حتیٰ کہ رمضان آ گیا، تو اس تاخیر کی وجہ سے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا، اس لیے کہ ایسے عذر کی بنا پر اصل ادائیگی میں تاخیر جائز ہے، تو قضا میں تاخیر بدرجۂ اولیٰ جائز ہوگی۔

اور امام موفق الدین ابن قدامہ حنبلی نے الكافي میں رمضان کے قضا روزوں میں تاخیر کے حکم پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کسی نے عذر کی وجہ سے قضا میں تاخیر کی تو اس پر کچھ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ رمضان کا روزہ عذر کی بنا پر چھوڑنا جائز ہے، تو اس کے علاوہ میں بدرجۂ اولیٰ اجازت ہوگی، اور خواہ وہ مر جائے یا زندہ رہے، اس پر کوئی چیز لازم نہیں، اس لیے کہ اس نے روزے میں کوتاہی نہیں کی۔

اور امام ابن حزم ظاہری نے المحلى میں فرمایا ہے کہ جس شخص کے ذمہ رمضان کے کچھ روزے ہوں اور وہ ان کی قضا جان بوجھ کر، یا عذر کی وجہ سے، یا بھول کر مؤخر کر دے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے، تو وہ آنے والے رمضان کے روزے اسی طرح رکھے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے۔۔۔، اور اس پر اس تاخیر کی وجہ سے کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا، اسی طرح اگر اس نے کئی سال تک قضا مؤخر کی ہو تب بھی۔

خلاصہ

اگر کسی اگر کسی عورت نے ماہواری کی وجہ سے رمضان کے چند دنوں کے روزے چھوڑ دیے، پھر رمضان کے فوراً بعد قضا کی قدرت حاصل ہونے سے پہلے ہی وہ حاملہ ہو گئی، اور وہ ابھی اپنے ذمہ باقی روزوں کی قضا کرنے سے معذور تھی کہ دوسرا رمضان آ گیا، تو شرعاً اس پر عذر ختم ہونے اور روزہ رکھنے کی قدرت حاصل ہونے کے بعد صرف روزوں کی قضا لازم ہوگی، فدیہ لازم نہیں ہوگا۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas