طویل سفر سے واپسی پر دعوت کرنے (نقیعہ) کا حکم
Question
ایک سائل پوچھتا ہے کہ میرے والد جب طویل سفر سے واپس آتے ہیں تو اپنی واپسی پر ایک دعوت کا اہتمام کرتے ہیں، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ طویل سفر سے واپسی پر جو دعوت کی جاتی ہے اسے عربی میں "نقیعہ" کہا جاتا ہے، اور اس کا کرنا شرعاً جائز ہے۔ یہ شریعت میں پسندیدہ طور پر کھانا کھلانے کے ضمن میں داخل ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف اور فضول خرچی نہ ہو، کھانے، پینے یا نشست و برخاست میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو، اور نہ ہی کوئی ناجائز لہو و لعب ہو، نیز اس دعوت میں صرف مالداروں کو خاص نہ کیا جائے بلکہ غریبوں کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ احسان، حسنِ اخلاق اور دلجوئی کے معانی پورے ہوں۔
تفصیل۔۔۔
ولیمہ کے مفہوم کی وضاحت
لفظ "ولیمہ" اصل میں "وَلم" سے مشتق ہے، جس کے معنی اجتماع کے ہیں۔ عام طور پر جب اسے بغیر کسی قید کے استعمال کیا جائے تو اس سے مراد شادی کا ولیمہ ہوتا ہے، اور دوسرے مواقع کے لیے اسے کسی قید کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ درحقیقت ہر وہ کھانا جو کسی نئی خوشی کے موقع پر تیار کیا جائے، خواہ وہ شادی کی خوشی ہو یا کوئی اور خوشی، اس پر لفظ "ولیمہ" بولا جا سکتا ہے۔ ولیمہ جانور ذبح کرنے سے بھی حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے بغیر بھی، اور ہر وہ چیز جس پر کھانے کا اطلاق ہو وہ اس میں شامل ہو سکتی ہے، البتہ اگر استطاعت ہو تو گوشت کے ساتھ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (مقام سد الصہباء میں) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی (کا ملیدہ) رکھ دیا"۔ اس روایت کو امام بخاری نے نقل کیا ہے۔
ملا علی القاری اپنی کتاب مرقاة المفاتیح (جلد 5، صفحہ 2105، طبع: دار الفكر) میں لکھتے ہیں کہ اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس ولیمے میں اہلِ عیش و عشرت کا کھانا نہیں تھا بلکہ زہد اور سادگی اختیار کرنے والوں کا کھانا تھا، جیسے کھجور، پنیر اور گھی۔
طویل سفر سے واپسی پر ولیمہ کا حکم
ولیمہ کرنے کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں، ان میں سے ایک ایک طویل سفر سے واپسی پر دعوت کرنا بھی ہے، جسے "نقیعہ" کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ "نقع" سے ماخوذ ہے جس کے معنی غبار کے ہیں؛ کیونکہ مسافر سفر کی گرد و غبار کے ساتھ واپس آتا ہے۔ اس کا اطلاق اس کھانے پر ہوتا ہے جو سفر سے آنے والا خود تیار کرے یا اس کے لیے تیار کیا جائے، جیسا کہ علامہ ابن منظور نے لسان العرب (8/362) میں ذکر کیا ہے۔ لغت میں اس کا ایک اور استعمال بھی ہے، چنانچہ شادی کے موقع پر جو کھانا تیار کیا جائے اسے بھی نقیعہ کہا جاتا ہے، جیسا کہ ابو منصور ازہری نے الزاہر (ص 211) میں بیان کیا ہے۔
فقہاء کی اصطلاح میں یہ لفظ خاص طور پر سفر سے آنے والے کے کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ عمدۃ القاری (15/16) میں فرماتے ہیں: یہ کھانا "نقیعہ" کہلاتا ہے، نون کے فتحہ اور قاف کے کسرہ کے ساتھ، اور یہ "نقع" سے مشتق ہے جس کے معنی غبار کے ہیں؛ کیونکہ مسافر سفر کی گرد و غبار کے ساتھ آتا ہے۔
اور نقیعہ کرنا اور مسافر کے کسی سفر سے واپس آنے پر لوگوں کو اس کی دعوت دینا ایک مستحسن عمل ہے، جو شریعت کے اصولوں کے موافق ہے، اور اس کی اصل سنتِ نبویہ سے ثابت ہے۔ پس حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ایک اونٹ یا گائے ذبح فرمائی۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے اور اس پر باب قائم کیا ہے: "باب الطعام عند القدوم" (سفر سے آتے وقت کھانا کھلانے کا بیان)۔
اس حدیث سے سفر سے واپسی پر مہمان نوازی اور کھانا کھلانے کے استحباب پر دلالت ہوتی ہے۔ اور یہ سلف صالحین کا بھی عمل رہا ہے، جیسا کہ امام ابن بطال نے شرح صحیح بخاری (5/243) میں ذکر کیا ہے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ مرقاة المفاتیح (6/2516) میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سفر سے آنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مہمان نوازی کرے۔ یہ بات طیبی نے ذکر کی ہے۔ اور ابن الملک نے کہا: واپسی کے بعد ضیافت کرنا سنت ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ المجموع شرح المهذب (4/400) میں فرماتے ہیں: نقیعہ مستحب ہے، اور وہ وہ کھانا ہے جو مسافر کی آمد پر تیار کیا جائے، اور اس کا اطلاق اس کھانے پر بھی ہوتا ہے جو آنے والا خود تیار کرے اور اس پر بھی جو اس کے لیے کوئی اور تیار کرے۔
حنابلہ نے اس میں فرق کیا ہے کہ اگر کھانا آنے والا خود تیار کرے تو اسے "تحفہ" کہتے ہیں، اور اگر اس کے لیے تیار کیا جائے تو اسے "نقیعہ" کہتے ہیں، جیسا کہ امام بہوتی نے شرح منتهى الإرادات (3/32) میں ذکر کیا ہے۔
خلاصہ
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں، اور سوال کے واقعہ کے مطابق: طویل سفر سے واپسی پر جو دعوت کی جاتی ہے اسے "نقیعہ" کہا جاتا ہے، اور اس کا کرنا شرعاً جائز ہے۔ یہ اس کھانا کھلانے میں شامل ہے جس کی شریعت میں ترغیب دی گئی ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف اور فضول خرچی نہ ہو، کھانے پینے یا نشست و برخاست میں کوئی حرام امر شامل نہ ہو، اور نہ ہی کوئی ناجائز لہو و لعب ہو، نیز اس دعوت میں صرف مالداروں کو خاص نہ کیا جائے بلکہ غریبوں کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ احسان، حسنِ اخلاق اور دلجوئی کے معانی پورے ہوں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
