ایامِ تشریق میں جلدی نکلنا اور نصف شب کے بعد رمیِ جمرات کا حکم
Question
ہم نے اللہ کے فضل سے گزشتہ سال حج ادا کیا، اور کمپنی کے پروگرام کے مطابق مناسک اس طرح ادا کیے: مزدلفہ کے بعد طوافِ افاضہ کیا، پھر رمیِ جمرات کی، پھر حلق کیا۔ دوسری رمی پہلے یومِ تشریق میں زوال کے بعد کی گئی۔ تیسری رمی دوسرے یومِ تشریق کی رات آدھی گزرنے کے بعد کی گئی، جبکہ کمپنی نے اس کے صحیح ہونے کی تاکید کی، اگرچہ یہ سعودی ادارۂ رہنمائی کے موقف کے مطابق نہ تھا۔ پھر ہم فجر سے پہلے طوافِ وداع کے لیے گئے اور صبح جدہ روانہ ہو کر وہاں سے قاہرہ آ گئے۔ کیا یہ اعمال درست ہیں؟ اور کیا واقعی نصف شب کے بعد رمی کے صحیح ہونے کی کوئی گنجائش ہے؟ مختصر یہ کہ کیا ہمارا حج صحیح ہے یا ہم پر کچھ لازم ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ حج صحیح ہے، اور جو کچھ کیا گیا وہ درست ہے، ہم اللہ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
