قسطوں پر خرید و فروخت کا حکم اور رب...

Egypt's Dar Al-Ifta

قسطوں پر خرید و فروخت کا حکم اور ربا سے اس کا فرق

Question

قسطوں پر خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟ اور اس کا ربا سے کیا فرق ہے؟ کیونکہ میں ایک ایسی کمپنی میں کام کرتا ہوں جو صارفین کو اشیائے صرف یا تو مکمل قیمت فوری ادا کرنے کی بنیاد پر فروخت کرتی ہے، یا قسطوں پر اس طرح کہ اصل قیمت پر ایک متعین  رقم کا اضافہ کیا جاتا ہے جو ادائیگی کی مدت کے مطابق ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ حرام اور سود ہے، لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں شرعی حکم کی وضاحت فرمائیں۔

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اشیائے صرف کو قسطوں کے نظام کے تحت فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ اصل قیمت پر متعین اضافہ اور مدتِ ادائیگی واضح طور پر طے ہو۔ اسی طرح نقد قیمت کے بدلے مکمل ادائیگی کے ساتھ فروخت بھی جائز ہے، اور جواز کے اعتبار سے دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں۔

مزید یہ کہ قسطوں پر بیع کا معاملہ شرعاً حرام ربا کی حقیقت سے بالکل بعید ہے، کیونکہ اس میں مدت اور اس کے بدلے ہونے والا اضافہ فروخت شدہ چیز سے جدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اسی متعین قیمت کا حصہ ہوتا ہے جس پر عقد واقع ہوا ہے۔ اور چونکہ عقد کے اندر مبیع (سلعہ) کا وجود پایا جاتا ہے، اس لیے یہ معاملہ ربا پر مبنی قرض کی حقیقت سے نکل کر ایک جائز معاوضاتی عقد میں داخل ہو جاتا ہے، اور اسی وجہ سے عقودِ معاوضات میں ربا کا شبہ زائل ہو جاتا ہے۔

تفصیل۔۔۔

بیع کا حکم

خرید و فروخت اُن معاوضاتی عقود میں سے ہے جنہیں اللہ جلّ وعلا نے لوگوں پر آسانی پیدا کرنے، ان کے مصالح کو جاری رکھنے اور دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جائز قرار دیا ہے، کیونکہ لوگوں کے درمیان منافع کا تبادلہ ہوتا ہے، اور خرید و فروخت کے ذریعے ہونے والا یہ معاوضہ ان منافع کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، جس میں نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور نہ دھوکہ، چنانچہ اس سے معاملہ کرنے والے دونوں فریقوں کو رضامندی اور فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

خرید و فروخت کی مشروعیت عام ہے اور ہر قسم کی خرید و فروخت کو شامل ہے، سوائے اس کے جسے کسی دلیل نے حرام قرار دیا ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ﴾، ترجمہ: "اور اللہ تعالی نے بیع کو حلال قرار دیا ہے۔"

امام شہاب الدین قسطلانی نے "إرشاد الساري" میں فرمایا: “یہ لفظ عموم پر دلالت کرتا ہے، اس لیے ہر قسم کی بیع (خرید و فروخت) کو شامل ہے اور سب کے جائز ہونے کا تقاضا کرتا ہے، لیکن شریعت نے بعض بیوع کو منع اور حرام قرار دیا ہے، لہٰذا یہ حکم اباحت کے اعتبار سے عام ہے مگر اُن صورتوں کے ساتھ خاص ہے جن کی حرمت پر دلیل موجود نہ ہو ۔”

ربا کا حکم اور اس کی حقیقت

ربا شریعتِ اسلامی میں حرام ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾،ترجمہ:"اور اس نے ربا کو حرام کیا ہے"۔

اور ربا کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسی زیادتی ہے جس کے مقابلے میں کوئی مالی عوض نہ ہو، بلکہ وہ محض مہلت اور مدت کے بدلے میں ہوتی ہے جو عقد کے وقت مبیع کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی، خواہ وہ ربا الفضل (ہم جنس چیز میں کمی بیشی) کی صورت میں ہو یا ربا النسیئہ (مدت کے بدلے رقم) کی صورت میں۔ اور وہ مدت جو مبیع اور وقتِ عقد سے جدا ہو، بذاتِ خود مال نہیں ہوتی، لہٰذا مشروع معاوضہ (تبادلۂ مال بمقابلہ مال) متحقق نہیں ہوتا، اور یہ زیادتی بلا حق ہوتی ہے، اس لیے یہ لوگوں کے مال کو ناحق کھانے کے زمرے میں آتی ہے۔
امام ابن عربی نے "أحكام القرآن" میں بیع کی حلت اور ربا کی حرمت والی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: “اللہ تعالیٰ نے اس مطلق بیع کو حلال قرار دیا ہے جس میں صحیح قصد اور درست طریقے پر عوض واقع ہو، اور اس میں سے اس صورت کو حرام کیا ہے جو باطل طریقے پر ہو، جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں کیا جاتا تھا، کہ وہ ایسی زیادتی کرتے تھے جس کے مقابلے میں کوئی عوض نہ ہوتا تھا، اور وہ کہتے تھے کہ بیع بھی ربا ہی کی طرح ہے، یعنی جب مدت پوری ہو جاتی ہے تو آخر میں جو اضافہ لیا جاتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے عقد کے آغاز میں اصل قیمت ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو ردّ کر دیا اور جسے وہ اپنے لیے حلال سمجھتے تھے اسے حرام قرار دیا، اور یہ واضح فرما دیا کہ جب مدت پوری ہو جائے اور مقروض کے پاس ادائیگی کی گنجائش نہ ہو تو اسے بطورِ تخفیف معاشی آسانی تک مہلت دی جائے۔”

اور امام قرطبی نے "الجامع لأحكام القرآن" میں ربا کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: “عرب اکثر ربا اس طرح کیا کرتے تھے کہ وہ مقروض سے کہتے: کیا تم قرض ادا کرو گے یا اسے بڑھاؤ گے؟ تو مقروض مال کی مقدار میں اضافہ کر دیتا اور قرض دینے والا اسے مہلت دے دیتا، اور یہ سب باتفاقِ امت حرام ہے۔”

قسطوں پر بیع کا حکم

قسطوں کے نظام کے تحت خرید و فروخت، جس میں اصل قیمت پر ایک متعین  رقم کا اضافہ کیا جاتا ہے اور ادائیگی کی مدت بھی فریقین باہمی رضامندی سے عقد کے وقت طے کر لیتے ہیں، اپنی حقیقت اور حکم کے اعتبار سے حرام سودی معاملات سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ اس میں جو اضافہ ہوتا ہے وہ دراصل سامان کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، اور یہ اضافہ عقد اور خرید کے وقت ہی متعین ہو جاتا ہے، نہ کہ بعد میں کسی تنگی یا ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

اسی طرح نقد متعین  قیمت پر بیع کرنا، یا کسی متعین  قیمت کو ذمہ میں مؤخر کرکے ایک متعین مدت تک کے لیے بیع کرنا—جیسا کہ ہمارے مسئلے میں ہے—ان امور میں سے ہے جن کے جواز پر جمہور فقہاء کا اتفاق ہے۔

امام ابن حزم نے "مراتب الإجماع" میں فرمایا: “اس بات پر اتفاق ہے کہ خرید و فروخت دینار یا درہم کے بدلے نقد ہو، یا ذمہ میں (ادھار) ہو اور ابھی وصول نہ کی گئی ہو، یا ان دونوں صورتوں میں ہو، اور ایک متعین مدت تک ہو، خواہ وہ مدت دنوں، مہینوں، گھنٹوں یا قمری سالوں کے اعتبار سے ہو، تو یہ جائز ہے۔”

قسطوں پر بیع میں نقد بیع کے مقابلے میں قیمت میں اضافے کا حکم

جمہور فقہاء کے نزدیک مؤخر قیمت (ادھار) پر بیع میں یہ بات مسلم ہے کہ مدت (ادائیگی کی مہلت) کا بھی قیمت میں ایک حصہ ہوتا ہے، اسی لیے قسطوں پر ادائیگی کی صورت میں قیمت، نقد ادائیگی کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتی ہے۔

امام کاسانی نے "بدائع الصنائع" میں فرمایا: “مدت کو مبیع کے ساتھ ایک طرح کی مشابہت حاصل ہے، اگرچہ وہ حقیقتاً مبیع نہیں ہوتی، کیونکہ وہ بھی مطلوب و مرغوب چیز ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ کبھی مدت کی وجہ سے قیمت بڑھا دی جاتی ہے، تو گویا اس کو اس بات کا شبہ حاصل ہو گیا کہ اس کے مقابلے میں بھی قیمت کا کچھ حصہ رکھا جائے۔”

امام قرافی نے "الذخیرہ" میں عقودِ معاوضات (جیسے سلم) کے ساتھ متعلق مدت کی شرائط بیان کرتے ہوئے، اس حدیث کے بعد جسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص کسی چیز میں بیع سلم (پیشگی) کرے تو وہ متعین پیمانے، متعین وزن اور متعین مدت تک کرے”، یہ فرمایا کہ مدت کا متعین ہونا ضروری ہے، کیونکہ مذکورہ حدیث اسی پر دلالت کرتی ہے، اور اس لیے بھی کہ مدت قیمت کا ایک حصہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ گویا مبیع کا جزو ہے۔ اور یہی حکم ہر اس جائز معاوضہ میں جاری ہوگا جس میں مدت قیمت کا حصہ بنتی ہو اور اس کے بڑھنے سے قیمت میں اضافہ ہوتا ہو، جیسا کہ ہمارے مسئلے میں قسطوں پر بیع۔

اور امام خطیب شربینی نے "مغني المحتاج" میں بیعِ مؤجل میں مدت کی شرط کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: “مدت کے مقابلے میں قیمت کا ایک حصہ ہوتا ہے۔”

اور امام ابن مفلح نے "المبدع" میں فرمایا: “مدت بھی قیمت کا ایک حصہ لیتی ہے (یعنی: مدت بھی قیمت کے تعین میں مؤثر ہوتی ہے)۔”

قسطوں پر خرید و فروخت اور ربا کے درمیان فرق

قسطوں پر بیع اور ربا اگرچہ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ ادائیگی کے وقت قیمت نقد قیمت سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کو حلال اور دوسری کو حرام قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ نتیجے کے اعتبار سے دونوں میں بظاہر مشابہت محسوس ہوتی ہے، مگر اصل فرق یہ ہے کہ بیع میں سامان (سلعہ) واسطہ بنتا ہے جبکہ ربا میں ایسا نہیں ہوتا۔ جب معاملے میں سلعہ داخل ہو جائے تو وہ ربا نہیں رہتا، چونکہ عقد کے اندر مبیع (سلعہ) کا وجود پایا جاتا ہے، اس لیے یہ معاملہ ربا پر مبنی قرض کی حقیقت سے نکل کر ایک جائز معاوضاتی عقد میں داخل ہو جاتا ہے، اور اسی وجہ سے عقودِ معاوضات میں ربا کا شبہ زائل ہو جاتا ہے۔

خلاصہ

اس بنا پر اور سوال کی صورتِ حال کے مطابق: اشیائے صرف کو قسطوں کے نظام کے تحت فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ اصل قیمت پر متعین اضافہ اور مدتِ ادائیگی واضح طور پر طے ہو۔ اسی طرح نقد قیمت کے بدلے مکمل ادائیگی کے ساتھ فروخت بھی جائز ہے، اور جواز کے اعتبار سے دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں۔ مزید یہ کہ قسطوں پر بیع کا معاملہ شرعاً حرام ربا کی حقیقت سے بالکل بعید ہے، کیونکہ اس میں مدت اور اس کے بدلے ہونے والا اضافہ فروخت شدہ چیز سے جدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اسی متعین قیمت کا حصہ ہوتا ہے جس پر عقد واقع ہوا ہے۔ اور چونکہ عقد کے اندر مبیع (سلعہ) کا وجود پایا جاتا ہے، اس لیے یہ معاملہ ربا پر مبنی قرض کی حقیقت سے نکل کر ایک جائز معاوضاتی عقد میں داخل ہو جاتا ہے، اور اسی وجہ سے عقودِ معاوضات میں ربا کا شبہ زائل ہو جاتا ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas