بارش کے پانی سے وضو کا حکم اور اس کی فضیلت
Question
ایک سائل کہتا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اسی پانی سے وضو کر لوں، تو کیا اس پانی سے وضو کرنا جائز ہے؟ اور کیا اس پانی کی کوئی فضیلت ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ بارش کا پانی مطلق پانی ہے اور اس سے وضو کرنا جائز ہے، جب تک اس میں کوئی ایسی چیز نہ مل جائے جو اس کے اوصاف کو اس حد تک بدل دے کہ اب اسے مطلق پانی نہ کہا جا سکے۔ کتاب و سنت کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے پانی کو بڑی فضیلت حاصل ہے؛ قرآن میں اسے رحمت، برکت اور پاکیزگی والا پانی کہا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے شروع میں اس کی برکت کی امید رکھتے ہوئے اپنے بدن کو بارش سے تر کرتے تھے، اور مستحب صورت یہی ہے کہ بارش کے قطرے اس کے نزول کے وقت براہِ راست بدن پر پڑیں۔
تفصیلات:
بارش کے پانی سے وضو کا حکم
شریعت میں یہ بات مسلم ہے کہ طہارت صرف اسی پانی سے حاصل ہوتی ہے جو مطلق اور پاکیزہ ہو، یعنی اپنی اصل خلقت پر قائم ہو۔ مطلق پانی خود بھی پاک ہوتا ہے اور دوسروں کو پاک کرنے والا بھی، اور وہی پانی مطلق کہلاتا ہے جس پر بغیر کسی قید یا اضافے کے صرف "پانی" کا نام بولا جا سکے۔ مطلق پانی کی اقسام میں سمندروں، دریاؤں، چشموں، کنوؤں اور بارش کا پانی شامل ہے، جیسا کہ خطیب شربینی شافعی نے "مغنی المحتاج" میں بیان کیا ہے۔
علماء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ بارش کا پانی مطلق پانی میں شامل ہے، اور اسی لیے اس سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے، جب تک اس میں کوئی ایسی چیز نہ مل جائے جو اس کے اوصاف کو اس قدر بدل دے کہ اس پر مطلق پانی کا نام باقی نہ رہے؛ جیسے اگر وہ گلاب کے عرق یا مشک وغیرہ کے ساتھ اس حد تک مل جائے کہ اس کی اصل کیفیت بدل جائے۔ بارش کے پانی سے وضو کے جواز کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ﴾"اور وہ تم پر آسمان سے پانی نازل کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے" (الأنفال: 11)، اور اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾ "اور ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا" (الفرقان: 48)۔
امام قرطبی نے اپنی تفسیر "الجامع لأحكام القرآن" میں لکھا ہے کہ آسمان سے نازل ہونے والا اور زمین میں محفوظ کیا گیا پانی، اپنی مختلف رنگتوں، ذائقوں اور خوشبوؤں کے باوجود پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے، یہاں تک کہ کوئی اور چیز اس میں اس طرح نہ مل جائے کہ اس کی اصل کیفیت کو بدل دے۔
اور امام بغوی نے اپنی تفسیر میں آیتِ کریمہ ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾ میں فرمایا اس میں "ماء طهورا" سے مراد وہ پانی ہے جو خود بھی پاک ہو اور دوسروں کو پاک کرنے والا بھی ہو۔
امام کاسانی الحنفی نے اپنی کتاب "بدائع الصنائع" میں لکھا ہے: مطلق پانی سے وضو طہارتِ حقیقی اور طہارتِ حکمی سب حاصل ہوتی ہیں، اور اس میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو پاک قرار دیا اور فرمایا: کریمہ ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾ "اور ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا" (الفرقان: 48)، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "پانی پاک ہے اور اسے کچھ بھی نجس نہیں کرتا، سوائے اس کے جو اس کا رنگ، ذائقہ یا خوشبو بدل دے"۔ اور طَہُور سے مراد وہ پانی ہے جو خود بھی پاک ہو اور دوسروں کو بھی پاک کرے۔
امام ابن رشد الجد مالکی نے اپنی کتاب "المقدمات الممهدات" میں لکھا ہے کہ تمام پانیوں کا اصل حکم یہ ہے کہ وہ پاک ہوتا ہے اور پاک کرنے والا ہوتا ہے، چاہے وہ آسمان کا پانی ہو، سمندر کا پانی، دریاؤں کا پانی، چشموں یا کنوؤں کا پانی، اور چاہے وہ میٹھا ہو یا کھارا۔
امام رملی نے “نهاية المحتاج” میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾ یعنی پاک کرنے والا پانی، اور اسی کو مطلق پانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ﴾ کو اختیار کرنے کے بجائے اگرچہ وہ زیادہ صریح ہے، اس لیے اختیار نہیں کیا گیا تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ “طہور” صرف “طاہر” (پاک) نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہے، کیونکہ آیت ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً﴾ میں یہ بھی دلالت ہے کہ پانی پاک ہے، اور چونکہ یہ آیت احسان اور نعمت بیان کرنے کے موقع پر وارد ہوئی ہے، اور اللہ تعالیٰ نجس چیز کے ذریعے احسان نہیں فرماتا، اس لیے اس سے پانی کا پاک ہونا ثابت ہوتا ہے۔
امام شمس الدین زركشی حنبلی نے اپنی شرح "مختصر الخرقي" میں لکھا ہے: ہر قسم کی طہارت — چاہے وہ طہارتِ حدث ہو یا طہارتِ خبث — ہر ایسے ہر پانی سے حاصل ہو جاتی ہے جس میں یہ صفت پائی جائے، خواہ وہ آسمان سے نازل ہوا ہو یا زمین سے نکلا ہو، اور جس حالت پر بھی پیدا کیا گیا ہو، چاہے اس کا رنگ سفید ہو، زرد ہو یا سیاہ، اور وہ گرم ہو یا ٹھنڈا، وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾ یعنی ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا۔ (الفرقان: 48)۔
بارش کے پانی کی فضیلت
جہاں تک اس پانی کی فضیلت کا تعلق ہے تو وہ اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر پانی کو مختلف اوصاف کے ساتھ بیان فرمایا ہے؛کبھی اسے رحمت قرار دیا گیا، کبھی طَہُور یعنی پاک کرنے والا کہا گیا، اور کبھی برکت والا قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا﴾ "اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا" (ق: 9)، اور فرمایا: ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا﴾ " ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی نازل کیا۔" (الفرقان: 48)، اور ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ﴾ "وہی ہے جو ان لوگوں پر بارش نازل کرتا ہے جو مایوس ہو گئے تھے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے، اور وہ مددگار اور قابلِ تعریف ہے" (الشورى: 28)۔ اور اس آیت میں “رحمت” سے مراد بارش کے وہ برکات اور فوائد ہیں جو اس کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، جیسا کہ امام نسفی نے اپنی تفسیر “مدارك التنزيل وحقائق التأويل” میں فرمایا: “اور وہ اپنی رحمت پھیلاتا ہے” یعنی بارش کی برکتیں، اس کے فوائد اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والی زرخیزی۔
اسی وجہ سے سنت میں یہ ہے کہ انسان بارش سے خود کو تر کرے۔ روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بدنِ مبارک کو بارش سے تر کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: " اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے "۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنْ الْمَطَرِ. فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى»۔ ترجمہ: "جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، بارش ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کپڑا اوپر کیا تاکہ بارش کا پانی ان پر پڑے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: " اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے"۔ (مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے وقت خود کو بارش سے تر کرنا مستحب ہے۔ امام نووی نے اپنی کتاب "شرح مسلم" میں لکھا ہے کہ اس حدیثِ مبارکہ میں"حسر" کا مطلب ہے کچھ حصہ بدن کا ظاہر کرنا، اور "حدیث عهد بربه" کا مطلب ہے کہ اس کی تخلیق اس کے رب کی طرف سے حال ہی میں ہوئی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ بارش رحمت ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہونے کے اعتبار سے نئی ہے، لہٰذا اس سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔ اس حدیث میں ہمارے اصحاب (فقہاء شافعیہ) کے قول کی دلیل ہے کہ بارش کے شروع میں مستحب ہے کہ انسان اپنی ستر کے علاوہ جسم کے حصے کو کھول دے تاکہ بارش اس تک پہنچے۔
اسی روش پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی عمل کرتے تھے اور بارش سے خود کو تر کرتے تھے تاکہ اس کی برکت حاصل کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بارش آتی تھی تو وہ اپنے کپڑے اتارتے اور بیٹھ جاتے، اور فرماتے: " یہ ابھی ابھی عرش کے پاس سے آ رہی ہے۔" (ابن ابی شیبہ)
خلاصہ
اس بناء پر: بارش کا پانی مطلق پانی ہے اور اس سے وضو کرنا جائز ہے، جب تک اس میں کوئی ایسی چیز نہ مل جائے جو اس کے اوصاف کو اس حد تک بدل دے کہ اب اسے مطلق پانی نہ کہا جا سکے۔ کتاب و سنت کے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے پانی کو بڑی فضیلت حاصل ہے؛ قرآن میں اسے رحمت، برکت اور پاکیزگی والا پانی کہا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کے شروع میں اس کی برکت کی امید رکھتے ہوئے اپنے بدن کو بارش سے تر کرتے تھے، اور مستحب صورت یہی ہے کہ بارش کے قطرے اس کے نزول کے وقت براہِ راست بدن پر پڑیں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
