وقف کو بیچ کر اس کے بدلے دوسرا وقف ...

Egypt's Dar Al-Ifta

وقف کو بیچ کر اس کے بدلے دوسرا وقف خریدنے کا حکم

Question

 وقف کو بیچ کر اس کے بدلے دوسرا وقف خریدنے کا کیا حکم ہے؟ ہم ایک غیر مسلم ملک میں ایک مسجد کے انتظامات کے ذمہ دار افراد ہیں، موجودہ مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی ہے اور بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے شعائرِ دینیہ مناسب طریقے سے ادا نہیں ہو پا رہے، نیز انتظامی، قانونی اور مالی وجوہات کی بنا پر اسی جگہ اس کی توسیع بھی ممکن نہیں۔ اس لیے ہماری شدید ضرورت ہے کہ کوئی زیادہ وسیع اور موزوں جگہ حاصل کی جائے جہاں نماز اور دیگر دینی سرگرمیاں بہتر طور پر انجام دی جا سکیں۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے موجودہ عمارت کو فروخت کر کے اس کے بدلے نئی عمارت خریدنے یا زمین لے کر نئی مسجد تعمیر کرنے کے امکان پر غور کیا ہے، تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اصل یہ ہے کہ مسجد اصل میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک خالص شرعی وقف ہوتی ہے، اس لیے جب تک اس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو اسے بیچنا یا اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوتا۔ البتہ اگر اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ رہے، اس طرح کہ وہ اس مقصد کو پورا نہ کر سکے جس کے لیے اسے وقف کیا گیا تھا، یا یہ واضح ہو جائے کہ اس کے بدلے کسی اور چیز سے حقیقی اور غالب مصلحت حاصل ہوگی—محض خیالی نہ ہو—اور یہ مصلحت موقوف علیہم (جن کیلئے کیلے وقف کی گئی ہو) کے لیے فائدہ مند بھی ہو، تو ایسی صورت میں اسے بیچنا اور اس کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہو جاتا ہے، بشرطیکہ یہ تبدیلی وقف کے لیے زیادہ نفع بخش ہو اور واقف کے مقصد اور موقوف علیہم کی مصلحت کو بہتر طور پر پورا کر سکتی ہو۔

تفصیل:

وقف میں تصرف کا حکم

مسجد ایک خالص شرعی وقف ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کی جاتی ہے، اور اس کا مقصد مسلمان معاشرے کی خدمت کرنا ہے، جیسے نماز قائم کرنا، تعلیم دینا، اور دینی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا۔ اور وقف وہ عمل ہے جس میں کسی مال کو اس طرح محفوظ کر دیا جاتا ہے کہ اس کا اصل باقی رہے اور اس سے فائدہ حاصل کیا جا سکے، جبکہ اس کی ملکیت میں تصرف ختم کر دیا جاتا ہے، اور اسے کسی جائز اور موجود مصرف کے لیے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے مخصوص کر دیا جاتا ہے۔جیسا کہ "مغنی المحتاج" میں مذکور ہے۔

شرعاً یہ بات طے شدہ ہے کہ وقف کے مال میں ایسا کوئی تصرف کرنا حرام ہے جو اس کے مقاصد کو نقصان پہنچائے یا اس کی اس عمومی منفعت کو معطل کرے جو واقف نے مقرر کی ہے، کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ "واقف کی شرط شارع کے نص کی طرح ہوتی ہے"، یعنی جس طرح شریعت کے نصوص پر عمل کرنا لازم ہے اسی طرح واقف کی شرط کی پابندی بھی واجب ہے، لہٰذا جہاں تک ممکن ہو اسے ملحوظ رکھا جائے، کیونکہ حقیقت میں وقف ایک اختیاری عبادت ہے جسے اس کا مالک نفع اور عبادت کے مقام پر مقرر کرتا ہے۔([1])

وقف میں مصلحت کے تقاضے کے تحت تصرف کرنے کا حکم

اگرچہ شریعتِ اسلامی نے وقف میں تصرف کو اصلًا ممنوع قرار دیا ہے، لیکن اس ممانعت سے یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ ایسا تصرف کیا جائے جو دائمی مصلحت کو حاصل کرے اور اس مقصد کو زندہ کرے جس کے لیے اسے وقف کیا گیا تھا۔ اس کی اصل دلیل وہ واقعہ ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، جب وہ کوفہ آئے اور بیت المال کے ذمہ دار بنے تو وہاں چوری ہو گئی، اور جب چور پکڑا گیا تو انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو آپ نے جواب دیا: "اس کا ہاتھ نہ کاٹو، اور مسجد کو منتقل کر دو، اور بیت المال کو قبلہ کی جانب کر دو، کیونکہ مسجد میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نماز پڑھنے والا موجود رہتا ہے"۔امام الطبراني نے اسے اپنی کتاب "المعجم الكبير" میں روایت کیا ہے۔

امام ابن قدامة نے "المغنی" (6/29، مطبوعہ مکتبۃ القاہرہ) میں اس اثر پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ معاملہ صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوا اور اس پر کسی کا اختلاف ظاہر نہیں ہوا، لہٰذا یہ اجماع ہو گیا ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اثر اور اس واقعہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے وقف کے باب میں ایک اہم شرعی اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جب مصلحت کا تقاضا ہو تو وقف کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا یا اس میں تبدیلی کرنا جائز ہے، تاکہ اس مقصد کو حاصل کیا جا سکے جس کے لیے وقف قائم کیا گیا تھا اور اسے معطل ہونے سے بچایا جا سکے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کو منتقل کرنے اور بیت المال کو قبلہ کی جانب رکھنے کا حکم دیا، اس کی علت یہ بیان کی کہ مسجد کبھی نمازیوں سے خالی نہیں ہوتی، یعنی مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ حفاظت اور نظم و ضبط کے لیے یہ تبدیلی کی جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وقف میں اصل اعتبار اس کے بقا کا ہے، خواہ اس کے لیے اس کی صورت میں تبدیلی ہی کیوں نہ کرنی پڑے، لہٰذا جب اپنی موجودہ حالت میں اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ رہے تو اسے منتقل کرنا یا اس کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہو جاتا ہے، بشرطیکہ وہی مقصد حاصل ہو۔

اور شیخ بہاء الدین مقدسی نے "العدة شرح العمدة" (صفحہ 313، دار الحديث کی طباعت) میں اس اثر سے استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس کی جگہ سے منتقل کرنے کا حکم دیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وقف کو اس کی جگہ سے منتقل کرنا اور کسی دوسری جگہ سے بدل دینا جائز ہے، اور یہی بیع کا مفہوم ہے، یز اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جب وقف کو اپنی اصل صورت میں باقی رکھنا ممکن نہ ہو تو اس کے معنی (مقصد) کو باقی رکھا جائے۔

وقف کو بیچ کر اس کے بدلے دوسرا وقف لینے کا حکم

جہاں تک سوال کا تعلق ہے تو اصل یہ ہے کہ مسجد اپنی حالت پر باقی رہے جب تک وہ واقف کے مقصد کو پورا کر رہی ہو اور اس غرض کی ادائیگی جاری رہے جس کے لیے مسجد قائم کی گئی تھی، لیکن اگر اس سے فائدہ اٹھانا مشکل یا متعذر ہو جائے، اس طرح کہ وہ اپنے مقصود کو پورا نہ کر سکے، تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق ایسی حالت میں اس میں ایسا تصرف کرنا جائز ہے جو راجح شرعی مصلحت کو پورا کرے، جیسے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے دوسری مسجد تعمیر کرنا یا اسے کسی ایسے کام میں لگانا جو اللہ کے گھروں کے لیے نفع بخش ہو۔ اس میں وہ صورتیں بھی شامل ہیں جن کا عمومی مصلحت تقاضا کرتی ہو، مثلاً مسجد ایسی جگہ واقع ہو جہاں وہ اپنے مقصد کو پورا نہیں کر رہی، یا اس کو بیچنے سے زیادہ وسیع یا بہتر مسجد قائم کی جا سکتی ہو، تو ان تمام صورتوں میں یہ تصرف بطورِ استثناء جائز ہوگا، تاکہ غالب مصلحت حاصل ہو، وقف کے مقصد کو باقی رکھا جا سکے اور اس کا نفع دین اور معاشرے کی خدمت میں جاری رہے۔ بلکہ حنابلہ کے نزدیک صرف مسجد کا اپنے نمازیوں کے لیے تنگ ہو جانا بھی ان منافع کے تعطل میں شمار ہوتا ہے جس کی بنا پر مسجد کو بیچ کر اس کے بدلے دوسری مسجد لینا جائز ہو جاتا ہے۔([2])

خلاصہ

مذکورہ تفصیل اور سوال کی صورتِ حال کے پیش نظر ہم کہیں گے کہ اصل یہ ہے کہ مسجد اصل میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک خالص شرعی وقف ہوتی ہے، اس لیے جب تک اس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو اسے بیچنا یا اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہوتا۔ البتہ اگر اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ رہے، اس طرح کہ وہ اس مقصد کو پورا نہ کر سکے جس کے لیے اسے وقف کیا گیا تھا، یا یہ واضح ہو جائے کہ اس کے بدلے کسی اور چیز سے حقیقی اور غالب مصلحت حاصل ہوگی—محض خیالی نہ ہو—اور یہ مصلحت موقوف علیہم (جن کیلئے کیلے وقف کی گئی ہو) کے لیے فائدہ مند بھی ہو، تو ایسی صورت میں اسے بیچنا اور اس کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہو جاتا ہے، بشرطیکہ یہ تبدیلی وقف کے لیے زیادہ نفع بخش ہو اور واقف کے مقصد اور موقوف علیہم کی مصلحت کو بہتر طور پر پورا کر سکتی ہو۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


[1] "رد المحتار" علامہ ابن عابدین (جلد 4، صفحہ 433، دار الفكر)، "الشرح الصغير" علامہ دردیر مع "حاشیہ صاوی" (جلد 4، صفحہ 120، دار المعارف)، "الإقناع" خطیب شربینی (جلد 2، صفحہ 363، دار الفكر)، اور "كشاف القناع" امام بہوتی (جلد 4، صفحہ 323، دار الكتب العلمية)۔

[2]   "العقود الدرية" العلامة ابن عابدين في(1/ 115، ط. دار المعرفة)، "المغني" امام ابن قدامہ (جلد 6، صفحہ 28)، "شرح منتهى الإرادات" علامہ بہوتی (جلد 2، صفحہ 425، عالم الكتب)، "المنح الشافيات بشرح مفردات الإمام أحمد" (جلد 2، صفحہ 518، دار كنوز إشبيليا)۔

Share this:

Related Fatwas