موسمِ سرما کا مؤمن کے لیے غنیمت ہون...

Egypt's Dar Al-Ifta

موسمِ سرما کا مؤمن کے لیے غنیمت ہونے کے مظاہر

Question

وہ کون سے پہلو ہیں جن کی وجہ سے موسمِ سرما (سردیوں کا موسم) مؤمن کے لیے غنیمت بن جاتا ہے، تاکہ میں اس موسم کو اچھے طریقے سے استعمال کر سکوں؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ موسمِ سرما مؤمن کے لیے ایک غنیمت ہے، اور اسے چاہیے کہ وہ اس موسم کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں استعمال کرے، مثلاً مکمل اور عمدہ طریقے سے وضو کرنا، رات کو قیام کرنا، دن میں روزہ رکھنا اور دیگر نیک اعمال انجام دینا، اور ان تمام اعمال کے ذریعے گناہ، خطائیں اور برائیاں معاف ہوتی ہیں اور جنت میں درجات بلند ہوتے ہیں۔

تفصیل۔۔۔

موسمِ سرما مؤمن کی بہار ہے

 اللہ تبارک وتعالیٰ نے مؤمن کے لیے موسمِ سرما کو عبادتوں اور قربتوں کا باغ بنایا ہے، جس میں وہ عبادات کے نور سے فیض حاصل کرتا ہے، اس موسم میں دن چھوٹا ہوتا ہے تو وہ روزہ رکھ لیتا ہے اور رات لمبی ہوتی ہے تو وہ قیام کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "موسمِ سرما مؤمن کی بہار ہے۔" اس حدیث کو ائمہ کرام: امام احمد، ابو یعلیٰ اور قضاعی نے اپنی مسانید میں، اور امام بیہقی نے "السنن الكبرى" میں روایت کیا ہے۔ اس میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: "اس کا دن چھوٹا ہو جاتا ہے تو وہ روزہ رکھ لیتا ہے، اور اس کی رات لمبی ہو جاتی ہے تو وہ قیام کرتا ہے۔" اور امام ہیثمی نے "مجمع الزوائد" میں اس کو حسن قرار دیا ہے۔

امام مناوی نے "فیض القدیر" (4/172، طبع المكتبة التجارية الكبرى) میں فرمایا:" موسمِ سرما مؤمن کی بہار ہے‘’ اس لیے کہ وہ اس میں طاعات کے باغات سےفیض لینے لگتا ہے، عبادات کے میدانوں میں گھومتا پھرتا ہے، اور اعمال کے باغات میں اپنے دل کو شاداب کرتا ہے۔ پس مؤمن اس موسم میں اپنے رب کی اطاعت کی مختلف اقسام کے ذریعے ایک کشادہ اور خوشگوار زندگی میں ہوتا ہے، نہ روزہ اسے تھکاتا ہے اور نہ ہی رات اس کے لیے تنگ ہوتی ہے کہ وہ نیند اور قیامِ لیل سے عاجز ہو، ایسے ہی جیسے مویشی موسمِ بہار کی سرسبز چراگاہوں میں آزادانہ چرنے لگتے ہیں۔

مؤمن کے لیے موسمِ سرما کو غنیمت بنانے کا طریقہ

مؤمن کے لیے موسمِ سرما کو غنیمت بنانے کے کئی طریقے ہیں، جن میں سے اہم ترین یہ ہے کہ وہ سخت سردی کے باوجود مکمل اور عمدہ طریقے سے وضو کرے، کیونکہ شدید ٹھنڈ میں اچھی طرح وضو کرنا افضل اعمال میں سے ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے اعمال نہ بتاؤں جن کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ، آپ نے فرمایا: ناگواری کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم اٹھانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی اصل رباط ہے (رباط یعنی شیطان سے نفس کی حفاظت کرنا)۔ امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں وضاحت کی ہے کہ اس میں " اسباغِ وضو " کا مطلب ہے وضو کو مکمل اور اچھی طرح ادا کرنا ، اور ناپسندیدگی یا تکلیف دہ حالت سے مراد شدید سردی، جسم کی تکلیف اور اس جیسی دوسری دشواریاں ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مؤمن اپنی رات کو قیام میں گزارے، اور یہ ان عظیم ترین عبادتوں میں سے ہے جنہیں بندہ انجام دیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اہلِ جنت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ [السجدة: 16]، یعنی ان کے پہلو بستر سے الگ رہتے ہیں، اور یہ بھی فرمایا: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ [الذاريات: 17]، یعنی وہ رات کو بہت کم سوتے تھے، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔

اور اگرچہ قیامُ اللیل سال کے تمام موسموں میں مستحب ہے، لیکن موسمِ سرما میں اس کی تاکید زیادہ اور ثواب بھی کہیں بڑھ کر ہوتا ہے، چنانچہ جنابِ قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عامر بن عبد اللہ رحمہ اللہ جب وفات کے قریب پہنچے تو رونے لگے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نہ موت کے خوف سے رو رہا ہوں اور نہ دنیا کی حرص میں، بلکہ میں تو شدید گرمی میں دن کے روزوں سے محرومی اور سردیوں کی راتوں کے قیام سے محرومی پر رو رہا ہوں، اسے ابن سعد نے طبقات میں روایت کیا ہے، اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بھی اپنی وفات کے وقت روئے اور فرمایا: میں گرمی کے دنوں کی پیاس، سردیوں کی راتوں کے قیام اور ذکر کی مجالس میں علما کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھنے سے محرومی پر رو رہا ہوں، اس بات کو حافظ ابن رجب حنبلی نے لطائف المعارف میں ذکر کیا ہے، اور اس سے پہلے یہ بھی بیان کیا کہ سردیوں کی رات کا قیام گرمی کے دن کے روزے کے برابر ہوتا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: سردیوں کو خوش آمدید، اس میں رحمت نازل ہوتی ہے، اس کی رات قیام کرنے والوں کے لیے لمبی ہوتی ہے اور اس کا دن روزہ رکھنے والوں کے لیے چھوٹا ہوتا ہے۔ اسے امام دیلمی نے مسند الفردوس میں روایت کیا ہے۔

 تیسرا طریقہ یہ ہے کہ مؤمن دن میں روزہ رکھے، چنانچہ حضرت عامر بن مسعود جمحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سردیوں میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔ اسے امام ترمذی اور امام احمد نے روایت کیا ہے۔ امام مناوی رحمہ اللہ نے اس کی شرح میں فرمایا کہ سردیوں میں روزہ ٹھنڈی ٹھار غنیمت اس لیے کہا گیا ہے کہ اس زیادہ مشقت نہیں ہوتی، کیونکہ دن چھوٹا ہوتا ہے، موسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کھانے پینے کی زیادہ حاجت بھی محسوس نہیں ہوتی۔

چوتھا طریقہ دعا کرنا ہے، خاص طور پر جب دن بہت زیادہ سرد ہو تو یہ دعا کرے: اے اللہ! مجھے جہنم کی زمہریر (یعنی سخت ٹھنڈ) سے بچا لے، کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بہت گرم دن ہو اور کوئی شخص کہے لا الہ الا اللہ، آج کا دن کتنا سخت گرم ہے، اے اللہ! مجھے جہنم کی گرمی سے بچا لے، تو اللہ تعالیٰ جہنم سے فرماتا ہے کہ میرے بندے نے مجھ سے تیری گرمی سے پناہ مانگی ہے، گواہ رہنا کہ میں نے اسے پناہ دے دی، اور جب سخت سردی کا دن ہو اور بندہ کہے لا الہ الا اللہ، آج کا دن کتنا سخت سرد ہے، اے اللہ! مجھے جہنم کی زمہریر سے بچا لے، تو اللہ تعالیٰ جہنم سے فرماتا ہے کہ میرے بندے نے مجھ سے تیری سخت ٹھنڈ سے پناہ مانگی ہے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے پناہ دے دی، صحابہ نے پوچھا کہ جہنم کی زمہریر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کا ایک ایسا گھر ہے جس میں کافر کو ڈالا جائے گا اور اس کی شدید ٹھنڈ کی وجہ سے اس کے جسم کے حصے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ اسے ابن السنی نے اپنی کتاب "عمل اليوم والليلة" میں اور بیہقی نے "الأسماء والصفات" میں روایت کیا ہے۔

خلاصہ:
مذکورہ تفصیل اور سوال کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موسمِ سرما مؤمن کے لیے ایک غنیمت ہے، اور اسے چاہیے کہ وہ اس موسم کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں استعمال کرے، مثلاً مکمل اور عمدہ طریقے سے وضو کرنا، رات کو قیام کرنا، دن میں روزہ رکھنا اور دیگر نیک اعمال انجام دینا، اور ان تمام اعمال کے ذریعے گناہ، خطائیں اور برائیاں معاف ہوتی ہیں اور جنت میں درجات بلند ہوتے ہیں۔

والله تعالى أعلم بالصواب.

 

Share this:

Related Fatwas