حج اور عمرہ کی ادائیگی سے پہلے بیٹے...

Egypt's Dar Al-Ifta

حج اور عمرہ کی ادائیگی سے پہلے بیٹے کی شادی کرنے کا حکم

Question

بیٹے کی شادی کو حج اور عمرہ کی ادائیگی سے پہلے کرنے کا کیا حکم ہے؟ میں ایک ملازم ہوں اور کچھ رقم جمع کر رہا ہوں، اور میرا ارادہ ہے کہ حج اور عمرہ ادا کرنے جاؤں، لیکن میرا بیٹا شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ خود اس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا، اور مجھے اس پر شفقت بھی آتی ہے، تو میں کیا کروں؟ کیا حج اور عمرہ زیادہ اہم ہیں یا بیٹے کی شادی؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اصل یہ ہے کہ اگر یہ پہلی مرتبہ حج ادا کرنا ہو، یعنی حجِ اسلام ہو، تو حج کو بیٹے کی شادی پر مقدم کیا جائے گا، کیونکہ شرعاً اس کی ادائیگی زیادہ ضروری ہے۔ لیکن اگر بیٹا انتظار کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کے بارے میں گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر شادی کو حج پر مقدم کیا جائے گا، اس شرط کے ساتھ کہ بعد میں جب بھی استطاعت ہو حج ادا کرنے کا پختہ ارادہ رکھا جائے۔

رہی عمرہ کی بات، تو وہ سنت ہے، اس لیے آپ کو اختیار ہے کہ حالات کے مطابق بیٹے کی شادی اور عمرہ میں سے جس کو زیادہ اہم سمجھیں اسے مقدم کریں۔

 

شریعتِ مطہرہ نے نکاح کی ترغیب دی ہے

شرعاً یہ بات مقرر ہے کہ نکاح ایک سنتِ نبوی ہے، چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آپ کی عبادت کے متعلق پوچھنے آئے، جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتایا گیا تو جیسے انہوں نے اسے کم سمجھا اور کہا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مقابلہ! آپ کی تو تمام اگلے پچھلے گناہ (یعنی خلافِ اولی کام) معاف کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ آج سے میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے سے رہوں گا اور کبھی ناغہ نہیں ہونے دوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے جدائی اختیار کر لوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان سے پوچھا کیا تم نے ہی یہ باتیں کہی ہیں؟ سن لو! اللہ تعالیٰ کی قسم! اللہ رب العالمین سے میں تم سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔ میں تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں لیکن میں اگر روزے رکھتا ہوں تو افطار بھی کرتا ہوں۔ نماز پڑھتا ہوں (رات میں) اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں۔ «فمن رغب عن سنتي فليس مني» میرے طریقے سے جس نے بے رغبتی کی وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔

نکاح کے ذریعے مسلمان کو دنیا اور دین دونوں کی بھلائی حاصل ہوتی ہے، اسی کے ذریعے محبت اور رحمت پیدا ہوتی ہے، اس سے شہوت کو سکون ملتا ہے اور جسم درست رہتا ہے، نگاہیں نیچی رہتی ہیں، شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے، نسل بڑھتی ہے، عزتیں محفوظ رہتی ہیں، پردے اور نسب کی حفاظت ہوتی ہے، اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل بھی ہے، اور اسی کے ذریعے زمین کی آبادکاری ہوتی ہے، نیز بہت سے بنیادی امور ہیں جو نکاح کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دیتا ہے ۔

والدین کا اولاد کی دیکھ بھال کا حکم

شرعاً یہ بات معلوم ہے کہ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی نگہداشت کریں اور بچپن ہی سے ان کی بہترین اسلامی تربیت کریں، انہیں فرائض سکھائیں، دین کی صحیح تعلیم دیں، اور انہیں اعلیٰ اخلاق، حسنِ سلوک، سخاوت، فیاضی، دوسروں کی مدد کرنے، فقراء و مساکین پر شفقت کرنے، پڑوسی کے حقوق کا احترام کرنے، اور ایک ہی معاشرے کے تمام افراد کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تربیت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ﴾ [التحريم: 6].ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔

اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا، حاکم جو لوگوں پر مقرر ہے وہ نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

امام نووی رحمہ اللہ اپنی کتاب شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں کہ علماء نے کہا ہے: نگہبان وہ ہوتا ہے جو محافظ، امانت دار اور ذمہ دار ہو، جو اس چیز کی اصلاح کا پابند ہو جو اس کے سپرد کی گئی ہو اور جو اس کی نگرانی میں ہو، اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر وہ شخص جس کے زیرِ نگرانی کوئی چیز ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اس میں عدل کرے اور اس کے دینی و دنیاوی مصالح اور متعلقہ امور کی درست دیکھ بھال کرے۔

اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہونا

اولاد کی دیکھ بھال جو والدین پر لازم ہے، اس کی تکمیل یہ ہے کہ ان کا نفقہ بھی باپ برداشت کرے، اور یہ نفقہ عرف اور حالات کے مطابق ہوگا، یعنی جتنا ان جیسے لوگوں پر خرچ کیا جاتا ہے اسی کے مطابق خرچ کیا جائے۔ اسی لیے علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ چھوٹے بچوں کا، جن کے پاس اپنا مال نہ ہو، نفقہ باپ پر واجب ہے، کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا حصہ ہوتا ہے، لہٰذا اس کا خرچ بھی اسی طرح لازم ہے جیسے انسان اپنے نفس پر خرچ کرتا ہے۔ اس اجماع کو امام ابن القطان نے اپنی کتاب "الإقناع في مسائل الإجماع" میں نقل کیا ہے کہ تمام اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسے بچوں کا نفقہ جن کے پاس مال نہ ہو، ان کے باپ پر واجب ہے۔

اسی طرح باپ پر اپنے بڑے بچوں کا نفقہ بھی واجب ہوتا ہے اگر ان میں سے کوئی دائمی بیماری کا شکار ہو جو اسے کمانے سے روک دے، یا وہ ضرورت مند ہو اور اس کے پاس مال نہ ہو۔ اس حکم پر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا گیا ہے: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [البقرة: 233]. ترجمہ: "اور ان (دودھ پلانے والی ماؤں) کا کھانا اور کپڑا معروف طریقے کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔"

اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابو سفیان ایک بخیل آدمی ہیں، وہ مجھے اور میرے بچوں کو اتنا خرچ نہیں دیتے جو ہمیں کافی ہو، مگر میں ان کے علم کے بغیر ان کے مال سے لے لیتی ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اور اپنے بچوں کے لیے معروف کے مطابق جتنا کافی ہو لے لیا کرو۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے، اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

امام شافعی اپنی "تفسیر" (1/385، طبع دار التدمرية) میں فرماتے ہیں: قرآنِ مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ باپ پر اپنے بچوں کو دودھ پلوانا اور ان کا نفقہ دینا لازم ہے جب وہ چھوٹے ہوں، کیونکہ اولاد باپ ہی سے ہوتی ہے، اس لیے اسے اس حالت میں ان کی اصلاح اور پرورش کا پابند کیا گیا ہے جب بچہ خود اپنا خرچ اٹھانے کے قابل نہ ہو۔

اور امام کاسانی نے "بدائع الصنائع" (4/32، طبع دار الكتب العلمية) میں فرمایا: "اللہ عزوجل نے تمام خرچ باپ کے ذمہ رکھا ہے، جیسا کہ اس کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ﴾"

اور امام غزالی رحمہ اللہ الوسیط (6/228، طبع دار السلام)میں نفقہ کے مستحق ہونے کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس کی اصل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ اور ہند کا واقعہ بھی معروف ہے، اور ہمارے نزدیک نفقہ صرف قرابتِ جزئیت کی بنا پر واجب ہوتا ہے، لہٰذا یہ اصول و فروع (والدین اور اولاد) دونوں کے لیے واجب ہوتا ہے، خواہ دین مختلف ہو یا ایک ہی ہو۔

 

کیا اولاد کی شادی کا خرچ بھی باپ پر واجب ہوتا ہے؟

فقہاء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ کیا اولاد کی شادی کا خرچ بھی اس نفقہ میں شامل ہے جس کا ذکر پہلے کیا گیا ہے یا نہیں۔ چنانچہ جمہور فقہاء یعنی احناف، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کی ایک روایت کے مطابق اولاد کی شادی کا خرچ باپ پر واجب نہیں ہے۔([1])

جبکہ حنابلہ کے صحیح مذہب کے مطابقاس بات کے قائل ہیں کہ اگر بیٹا نکاح کا ضرورت مند ہو تو اس کی عفت (یعنی نکاح کے ذریعے اسے حرام سے بچانا) باپ پر واجب ہے، بشرطیکہ وہ ان لوگوں میں سے ہو جن کا نفقہ باپ پر لازم ہوتا ہے، اور وہ خود ان اخراجات کو برداشت کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، یا قدرت تو رکھتا ہو لیکن اس کی آمدنی اس کی ضرورت کے لیے کافی نہ ہو۔([2])

اور فتویٰ اسی قول پر ہے کہ اگر بیٹا نکاح کا محتاج ہو اور وہ ان افراد میں سے ہو جن کا نفقہ باپ پر لازم ہے، تو باپ پر اس کی شادی کے اخراجات برداشت کرنا واجب ہوگا، جیسا کہ حنابلہ کے راجح مذہب میں بیان کیا گیا ہے۔

اولاد کی شادی کے خرچ اور حج کے خرچ کا تعارض

جب اولاد کی شادی کا خرچ باپ پر واجب ہو، اور یہ خرچ حج کے خرچ سے ٹکرا جائے، اس طرح کہ باپ دونوں (شادی اور حج) کے اخراجات ایک ساتھ برداشت نہ کر سکے، تو یہ مسئلہ اس بحث کی طرف لوٹتا ہے کہ حج فوراً ادا کرنا واجب ہے یا اس میں تاخیر کی گنجائش ہے۔

حج کے وجوب کے لیے استطاعت شرط ہے

فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کیا ہے، اور اس کی فرضیت کو استطاعت کے ساتھ مشروط کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97]. ترجمہ:اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔

اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے، اور الفاظ امام مسلم کے ہیں

تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ حج کے وجوب کے لیے استطاعت شرط ہے۔ امام محیی الدین نووی رحمہ اللہ “المجموع” میں فرماتے ہیں: استطاعت حج کے وجوب کی شرط ہے اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔

اسی طرح شریعتِ مطہرہ نے عمرہ کی ادائیگی کو ان بہترین عبادات میں سے شمار کیا ہے جن کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے، کیونکہ یہ گناہوں کی مغفرت اور دعاؤں کی قبولیت کا سبب بنتا ہے۔ یہ ایک سنتِ مؤکدہ ہے جو استطاعت رکھنے والے مسلمان پر عمر میں ایک مرتبہ ادا کرنا مستحب ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے، اور حجِ مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔" یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ اپنی کتاب شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں: یہ حدیث عمرہ کی فضیلت پر واضح دلیل ہے، اور اس بات پر کہ ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

یہی قول احناف کے صحیح مذہب کے مطابق ہے، مالکیہ کے ہاں مشہور قول ہے، شافعیہ کا بھی ایک قول ہے، اور حنابلہ کی ایک روایت بھی اسی کے مطابق ہے، اور فتویٰ کے لیے بھی یہی قول اختیار کیا گیا ہے۔([3])

حج کی ادائیگی فوراً واجب ہے یا تاخیر سے؟ فقہاء کے اقوال:

اگرچہ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ حج استطاعت رکھنے والے پر فرض ہے، لیکن اس بات میں اختلاف ہے کہ جب انسان صاحبِ استطتاعت بن جائے تو آیا حج فوراً ادا کرنا واجب ہے یا اسے مؤخر کرنا بھی جائز ہے، اور اس مسئلے میں تفصیل پائی جاتی ہے:

چنانچہ احناف (امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے دو اقوال میں سے صحیح قول کے مطابق)، مالکیہ (کے راجح قول کے مطابق)، اور حنابلہ اس بات کے قائل ہیں کہ جب مسلمان میں استطاعت کی شرائط پوری ہو جائیں تو حج فوراً ادا کرنا واجب ہے۔ انہوں نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ تاخیر کی صورت میں ممکن ہے کہ انسان کو ایسی رکاوٹ پیش آ جائے جو اسے حج سے ہمیشہ کے لیے روک دے، جیسے موت۔ اس بنا پر اگر کوئی شخص مالی اور جسمانی طور پر حج کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی بغیر عذر کے حج نہ کرے تو وہ گناہگار ہوگا۔([4])

جبکہ شافعیہ کا مذہب یہ ہے کہ حج فوراً واجب نہیں ہوتا بلکہ اسے مؤخر کرنا بھی جائز ہے، اور استطاعت رکھنے والا شخص اگر حج کو مؤخر کرے تو وہ گناہگار نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ آئندہ ادا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہو اور اس پر کوئی ایسی تنگی نہ ہو جو نذر یا قضا کی وجہ سے فوراً ادا کرنا لازم کر دے، ورنہ پھر فوراً ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔([5])

 

حج اور عمرہ کی ادائیگی سے پہلے بیٹے کی شادی کرنے کا حکم

اصل حکم یہ ہے کہ جب مکلف شخص کے پاس استطاعت ہو تو اس پر حج کے لیے نکلنا واجب ہے اور اسے بیٹے کی شادی پر مقدم کیا جائے گا، کیونکہ یہ اسلام کے پانچ بڑے ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے۔ مثلاً اگر باپ کے بارے میں غالب گمان ہو کہ اگر وہ اپنا مال بیٹے کی شادی پر خرچ کر دے گا تو پھر آئندہ حج کی استطاعت باقی نہیں رہے گی، تو اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا مال حج میں خرچ کرے، اور ایسے امور میں خرچ کرنا حرام ہوگا جو نہ ضروریات میں سے ہوں اور نہ ایسی حاجات میں سے جو ضرورت کے درجے تک پہنچتی ہوں۔

البتہ اگر بیٹے کی شادی کی ضرورت اس وجہ سے پیش آ جائے کہ حرام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور وہ خود اس کے اخراجات برداشت کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو، تو اس صورت میں شادی کو مقدم کرنا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ بعد میں جب یہ ضرورت ختم ہو جائے تو حج ادا کرنے کا پختہ ارادہ ہو۔ اس کی دلیل وہ شرعی قواعد ہیں جو فقہاء نے ذکر کیے ہیں، مثلاً: مفاسد کو دور کرنا مصالح کے حصول پر مقدم ہے، اور ضرر کو دور کیا جائے گا، اور زیادہ بڑے ضرر کو چھوٹے ضرر کے ذریعے دور کیا جاتا ہے، اور جب دو خرابیوں کا ٹکراؤ ہو تو کم نقصان والی خرابی اختیار کی جاتی ہے، جیسا کہ امام قرافی، زرکشی اور سیوطی رحمہم اللہ نے بیان کیا ہے۔([6]) خاص طور پر اس لیے بھی کہ فقہاء کے نصوص میں عام طور پر اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ نکاح کو حج پر مقدم کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ امام قرافی نے “الذخیرہ” میں نقل کیا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کے مطابق حج کو نکاح پر مقدم کیا جائے گا، لیکن اگر کسی کو گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو نکاح مقدم ہوگا، کیونکہ زنا کے مفاسد زیادہ شدید ہیں۔([7])

 

خلاصہ

اس بنا پر اور سوال کی صورتِ حال کے مطابق یہ ہے کہ اصل حکم یہ ہے کہ اگر یہ پہلی مرتبہ حج ادا کرنا ہو، یعنی حجِ اسلام ہو، تو بیٹے کی شادی پر حج کو مقدم کیا جائے گا، کیونکہ شرعاً حج کی ادائیگی زیادہ اولیٰ اور اہم ہے۔

البتہ اگر بیٹا انتظار کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اس پر حرام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، تو اس صورت میں حج پر نکاح کو مقدم کیا جائے گا، بشرطیکہ بعد میں جب بھی استطاعت اور آسانی ہو تو حج ادا کرنے کا پختہ ارادہ موجود ہو۔

رہی عمرہ کی بات تو یہ ایک سنتِ مؤکدہ ہے، اس لیے اس میں اور بیٹے کی شادی میں سے حالات کے مطابق جس کو زیادہ مناسب اور اولیٰ سمجھا جائے اسے اختیار کیا جا سکتا ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


[1] "التجريد" قاضی القدوری (9/4498، طبع دار السلام)

"المختصر الفقهي" علامہ ابن عرفة (5/71، طبع مؤسسة خلف أحمد الحبتور)

"نهاية المطلب" امام الجوینی (12/207، طبع دار المنهاج)

"الإنصاف" علامہ علاء الدین المرداوی (9/404، طبع دار إحياء التراث العربي)

[2] "الشرح الكبير" امام شمس الدین ابن قدامہ المعروف بابن أبي عمر (9/290، طبع دار الكتاب)
"الإنصاف" علامہ علاء الدین المرداوی (9/404)

[3] "البناية" بدر الدین العینی الحنفی (4/461، طبع دار الكتب العلمية)
"شرح مختصر خليل" علامہ أبو عبد الله الخرشي المالكي (2/281، طبع دار الفكر)
"روضة الطالبين" امام محیی الدین النووی الشافعي (3/17، طبع المكتب الإسلامي)
"الإنصاف" علامہ علاء الدین المرداوي الحنبلي (3/387)

[4] امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ، "البناية شرح الهداية" (4/141)؛ شیخ خلیل مالکی رحمہ اللہ، "التوضيح" (2/486، مطبوعہ: مرکز نجيبويه للمخطوطات)؛ امام حطاب مالکی رحمہ اللہ، "مواهب الجليل" (2/473، مطبوعہ: دار الفكر)؛ امام موفق ابن قدامہ رحمہ اللہ، "المغني" (3/232، مطبوعہ: مكتبة القاهرة)۔

[5] امام محیی الدین نووی رحمہ اللہ "المجموع" (7/102) میں فرماتے ہیں؛ علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ "مغني المحتاج" (2/207، مطبوعہ: دار الكتب العلمية) میں۔

[6] امام قرافی رحمہ اللہ، "الفروق" (4/237، مطبوعہ: عالم الكتب)؛ امام زرکشی رحمہ اللہ، "المنثور في القواعد" (2/317-320، مطبوعہ: أوقاف الكويت)؛ اور امام سیوطی رحمہ اللہ، "الأشباه والنظائر" (ص: 84-87، مطبوعہ: دار الكتب العلمية)۔

[7] امام قرافی رحمہ اللہ، "الذخيرة" (3/177، مطبوعہ: دار الغرب الإسلامي)؛ امام شیرازی رحمہ اللہ، "المهذب" (1/362، مطبوعہ: دار الكتب العلمية)؛ امام رافعی رحمہ اللہ، "الشرح الكبير" (3/286، مطبوعہ: دار الكتب العلمية)؛ امام موفق ابن قدامہ رحمہ اللہ، "المغني" (3/217)۔

Share this:

Related Fatwas