جمعہ کے دن زوالِ آفتاب سے پہلے نمازِ جمعہ ادا کرنے کا حکم مغربی ممالک میں
Question
مغربی ممالک میں زوالِ آفتاب سے پہلے نمازِ جمعہ ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ یورپ کے ایک علاقے میں رہنے والی بعض مسلم اقلیتوں کے مرد ایسے اداروں میں ملازمت کرتے ہیں جہاں جمعہ کے دن سرکاری طور پر کام کرنا لازمی ہوتا ہے، اور انہیں اپنے کام سے صرف دوپہر کے کھانے یا معمول کے آرام کے وقت ہی چھٹی ملتی ہے، جو نمازِ جمعہ کے وقت سے ایک گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ پہلے ہوتا ہے۔ تو کیا ان کے لیے جائز ہے کہ وہ نمازِ جمعہ کو ترک کرکے ظہر پڑھنے کے بجائے اسی وقت نمازِ جمعہ ادا کر لیں؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ مذکورہ یورپی ملک کے وہ مسلمان مرد جنہیں جمعہ کے دن اپنے کام سے صرف ایسے مقررہ وقفوں میں رخصت ملتی ہے جو زوال کے وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہوتے ہیں، ان کے لیے شرعاً یہ رخصت موجود ہے کہ وہ زوال سے کچھ پہلے اسی وقت نمازِ جمعہ ادا کر لیں۔ ایسا کرنے میں ان پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ کوئی حرج، اگرچہ ان کی تعداد صرف تین مرد ہی ہو، کیونکہ امام سمیت کم از کم جماعت تین افراد سے قائم ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نمازِ جمعہ کو قائم کرنا اسے ترک کرنے اور معطل کر دینے سے بہتر ہے، اور جس شخص کو کسی عذر یا مشقت کا سامنا ہو وہ اس مسئلے میں اس قول کی تقلید کر سکتا ہے جس کے مطابق یہ جائز ہے۔ البتہ جب یہ عذر اور رخصت کا سبب ختم ہو جائے تو پھر انہیں اصل حکم کی طرف لوٹ آنا چاہیے، یعنی نمازِ جمعہ کو اس کے معمول کے وقت، زوالِ آفتاب کے بعد، ادا کرنا چاہیے۔
تفصیل...۔
نمازِ جمعہ کا حکم اور کن لوگوں پر فرض ہے
نمازِ جمعہ ہر ایسے مسلمان، آزاد، بالغ، عاقل، مقیم اور تندرست شخص پر فرض ہے جسے کوئی ایسا عذر یا بیماری لاحق نہ ہو جو اس کی ادائیگی میں مانع ہو۔ چنانچہ امّ المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ کے لیے جانا ہر بالغ شخص پر واجب ہے۔‘‘ (امام نسائی)
اور حضرت طارق بن شہاب، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب حق ہے، سوائے چار افراد کے: غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔‘‘ اسے امام ابو داود اور امام حاکم نے "المستدرک" میں روایت کیا ہے، اور امام حاکم نے فرمایا: ’’یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔‘‘ حافظ ذہبی نے بھی "التلخیص" میں اس کی موافقت کی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ "منہاج الطالبین" میں فرماتے ہیں: ’’نمازِ جمعہ صرف اس شخص پر فرض ہوتی ہے جو مکلف، آزاد، مرد، مقیم ہو اور بیماری یا اس جیسا کوئی عذر نہ رکھتا ہو۔‘‘ انتهى۔
نمازِ جمعہ کا وقت
اصل حکم یہ ہے کہ نمازِ جمعہ سورج کے عین سر پر سے ڈھل جانے (زوالِ آفتاب) کے بعد ادا کی جاتی ہے، اور یہی نمازِ ظہر کا وقت بھی ہے۔ جمہور فقہاء کا یہی موقف ہے، بلکہ متعدد اہلِ علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، جیسے امام ابن المنذر، امام ابن عبد البر اور امام ابن قدامہ رحمہم اللہ۔([1])
زوال سے پہلے نمازِ جمعہ کا حکم
اگرچہ اس بات پر اتفاق ہے کہ زوالِ آفتاب کے بعد کا وقت نمازِ جمعہ کے لیے یقینی اور درست وقت ہے، اور جس نے اس وقت میں نمازِ جمعہ ادا کی اس کی نماز درست اور اس سے فرض ساقط ہو جاتا ہے، لیکن زوال سے پہلے جمعہ کی ادائیگی کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ اختلاف اس بنیاد پر ہے کہ اصل نماز کون سی ہے: کیا جمعہ اصل ہے اور ظہر اس کا بدل ہے، یا ظہر اصل ہے اور جمعہ اس کا بدل؟
قاضی ابن العربی رحمہ اللہ "القبس" میں وقتِ جمعہ کے بیان میں فرماتے ہیں: ’’اس مسئلے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ جمعہ دن کے ابتدائی حصے یعنی چاشت کے وقت میں ادا کی جائے گی، کیونکہ یہ بھی عید کی نماز ہے۔ اور بعض نے کہا کہ اس کا وقت وہی ہے جو ظہر کا وقت ہے۔ یہاں ایک اہم مسئلہ پیدا ہوتا ہے جس کا اس اختلاف سے تعلق ہے، اور وہ یہ ہے کہ کیا جمعہ اصل عبادت ہے اور ظہر اس کا بدل، یا ظہر اصل ہے اور جمعہ اس کا بدل؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔‘‘
اور یہ بھی منقول ہے کہ بعض احادیثِ مبارکہ سے، جنہیں فقہاءِ حنابلہ اور ان کے ہم خیال اہلِ علم نے دلیل بنایا ہے، یہ مفہوم نکلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جمعہ کی نماز زوال سے پہلے بھی ادا فرمائی ہے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز کب ادا فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ’’آپ ﷺ نماز ادا فرماتے، پھر ہم اپنی اونٹنیوں کے پاس جاتے اور انہیں آرام دیتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم)
حافظ ابن الجوزی الحنبلی رحمہ اللہ "کشف المشکل من حدیث الصحیحین" میں فرماتے ہیں: ’’یہ اس شخص کے لیے دلیل ہے جو جمعہ کی نماز کے زوال سے پہلے ادا کرنے کے جواز کا قائل ہے۔‘‘
اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرتے، پھر جب ہم واپس لوٹتے تو دیواروں کے سائے سے استفادہ کرنے کے قابل بھی سایہ موجود نہ ہوتا تھا۔‘‘ (بخاری و مسلم)
ان روایات سے بعض فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ جمعہ کی نماز زوال سے پہلے ادا کرنا بھی جائز ہے، اگرچہ جمہور فقہاء کا موقف اس کے خلاف ہے اور وہ اسے زوال کے بعد ہی مشروع قرار دیتے ہیں۔
علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ "سبل السلام" میں فرماتے ہیں: ’’نبی کریم ﷺ کا جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی قراءت فرمانا اور خطبہ دینا، اگر یہ سب زوال کے بعد ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ سے واپس نہ لوٹتے مگر اس حال میں کہ دیواروں کا اتنا سایہ ضرور موجود ہوتا جس میں پناہ لی جا سکے۔‘‘
ان احادیث اور ان کے ہم معنی آثار کی بنیاد پر فقہاءِ حنابلہ اس بات کے قائل ہوئے ہیں کہ زوالِ آفتاب (ظہر کے وقت کے داخل ہونے) سے پہلے بھی جمعہ کی نماز ادا کرنا بطور رخصت جائز ہے، اگرچہ جمہور فقہاء اس کے خلاف ہیں۔ یہی رائے بعض صحابہ کرام مثلاً حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اور بعض تابعین مثلاً عطاء، اسحاق اور مجاہد رحمہم اللہ سے بھی منقول ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ "السنن" میں فرماتے ہیں: ’’اکثر اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ نمازِ جمعہ کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد وہی ہے جو نمازِ ظہر کا ہوتا ہے، اور یہی امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے۔ اور بعض اہلِ علم نے یہ رائے بھی اختیار کی ہے کہ اگر نمازِ جمعہ زوال سے پہلے ادا کر لی جائے تو بھی جائز ہے۔ اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے جمعہ زوال سے پہلے ادا کر لیا، اس پر دوبارہ ادا کرنا لازم نہیں۔‘‘
اور امام ابن بطال رحمہ اللہ "شرح صحیح البخاری" میں فرماتے ہیں: ’’فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نمازِ جمعہ کا وقت زوالِ آفتاب کے بعد ہوتا ہے، سوائے اس کے جو مجاہد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ جمعہ کی نماز عید کی نماز کے وقت میں بھی ادا کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ بھی عید کی نماز ہے۔ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جمعہ زوال سے پہلے بھی ادا کرنا جائز ہے۔‘‘
امام نووی رحمہ اللہ "المجموع" میں امام عبدری کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ’’تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نمازِ جمعہ زوال سے پہلے جائز نہیں، سوائے امام احمد کے۔ اور امام ماوردی نے "الحاوی" میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی امام احمد کے قول کے مطابق روایت نقل کی ہے، اور امام ابن المنذر نے عطاء اور اسحاق رحمہما اللہ سے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔‘‘
اور امام بُہوتی حنبلی رحمہ اللہ "کشاف القناع" میں جمعہ کے وقت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’جمعہ کی نماز زوال سے پہلے جواز یا رخصت کے طور پر ادا کی جا سکتی ہے، اور زوال کے بعد اس کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔ اور بعض فقہاء نے کہا ہے کہ یہی مذہب ہے۔ اور زوال کے بعد ادا کرنا افضل ہے۔‘‘
بعض اہلِ علم نے اس رخصت کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ نمازِ جمعہ بھی نمازِ عید کی طرح ہے، اور اس کا ایک سبب اور ایک شرط ہے۔ اس کا سبب جمعہ کے دن کا داخل ہونا ہے، اسی لیے اسے اسی دن کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے، جبکہ شرط زوالِ آفتاب ہے۔ لہٰذا سبب کے پائے جانے کے بعد اور شرط کے مکمل ہونے سے پہلے، یعنی زوال سے پہلے، جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز قرار دیا گیا ہے، اس قیاس پر کہ بعض نمازوں کو جمع کرکے وقت سے پہلے ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اور زکوٰۃ کو بھی اس کے واجب ہونے کے وقت سے پہلے پیشگی ادا کرنا جائز ہے۔([2])
لہٰذا جب کسی شخص میں نمازِ جمعہ کی فرضیت، انعقاد اور صحت کی شرائط موجود ہوں، لیکن وہ زوال کے بعد اپنے مقررہ وقت میں نمازِ جمعہ قائم کرنے پر قادر نہ ہو—جیسا کہ ہماری زیرِ بحث صورت ہے—تو ایسی مجبوری کی حالت میں اس کے لیے شرعاً یہ گنجائش ہے کہ وہ ان معتبر فقہاء کی رائے پر عمل کرے جنہوں نے رخصت دی ہے اور جمعہ کو زوال سے پہلے ادا کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔
امام قرافی رحمہ اللہ "شرح تنقیح الفصول" میں فرماتے ہیں: ’’ایک قاعدہ یہ ہے کہ اس بات پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ جو شخص اسلام قبول کرے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ جس عالم کی چاہے تقلید کرے، اس پر کوئی پابندی نہیں۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جس نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے فتویٰ لیا یا ان کی تقلید کی، اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی فتویٰ لے اور ان کے قول پر عمل کرے، اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا۔ پس جو شخص ان دو اجماعوں کے ختم ہونے کا دعویٰ کرے، اس پر دلیل پیش کرنا لازم ہے۔‘‘
قاضی ابو یعلی رحمہ اللہ "العدة" میں فرماتے ہیں: ’’عامی شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ جس مجتہد کی چاہے تقلید کرے۔ اور جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس کے لیے تقلید جائز ہے، تو اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ مجتہدین میں سے کسی خاص مجتہد کے انتخاب کے لیے اجتہاد کرے، بلکہ وہ جس کی چاہے تقلید کر لے، کیونکہ جب اس پر اصل مسئلہ کے حکم میں اجتہاد لازم نہیں تو تقلید میں بھی لازم نہیں۔‘‘
نمازِ جمعہ کے انعقاد کی کم از کم تعداد
فقہاء کی ایک جماعت نے یہ تصریح کی ہے کہ نمازِ جمعہ کم از کم دو افراد (امام کے علاوہ) سے منعقد ہو جاتی ہے جن پر جمعہ واجب ہو، جیسے امام ابو یوسف (احناف)، امام احمد کی ایک روایت، اور امام اوزاعی، امام ثوری، حسن بن حی وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ اس کی دلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ جمع کے کم از کم معنی تین افراد سے پورے ہوتے ہیں، جن میں امام شامل ہوتا ہے، لہٰذا دو مقتدیوں کے ساتھ امام ملا کر جمعہ قائم ہو جاتا ہے۔([3])
خلاصہ
اس بنا پر اور سوال کی صورتِ حال کے مطابق: مذکورہ یورپی ملک کے وہ مسلمان مرد جنہیں جمعہ کے دن اپنے کام سے صرف ایسے مقررہ وقفوں میں رخصت ملتی ہے جو زوال کے وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہوتے ہیں، ان کے لیے شرعاً یہ رخصت موجود ہے کہ وہ زوال سے کچھ پہلے اسی وقت نمازِ جمعہ ادا کر لیں۔ ایسا کرنے میں ان پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ کوئی حرج، اگرچہ ان کی تعداد صرف تین مرد ہی ہو، کیونکہ امام سمیت کم از کم جماعت تین افراد سے قائم ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمعہ کو قائم کرنا اسے ترک کرنے اور معطل کر دینے سے بہتر ہے، اور جس شخص کو کسی عذر یا مشقت کا سامنا ہو وہ اس مسئلے میں اس قول کی تقلید کر سکتا ہے جس کے مطابق یہ جائز ہے۔ البتہ جب یہ عذر اور رخصت کا سبب ختم ہو جائے تو پھر انہیں اصل حکم کی طرف لوٹ آنا چاہیے، یعنی نمازِ جمعہ کو اس کے معمول کے وقت، زوالِ آفتاب کے بعد، ادا کرنا چاہیے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
[1] "الأوسط" الإمام ابن المنذر (2/ 354، ط. دار طيبة):
"التمهيد" الإمام ابن عبد البر (8/ 73، ط. أوقاف المغرب)
"المغني" الإمام ابن قُدَامة (2/ 219، ط. مكتبة القاهرة)
[2] "المفردات" الإمام ابن الزَّاغوني الحنبلي (ص: 391، ط. دار الحضارة)
"فتح الباري" الحافظ ابن رجب الحنبلي (8/ 178، ط. مكتبة الغرباء الأثرية)
[3] "مختصر اختلاف العلماء" الإمام الطَّحَاوي (1/ 330، ط. دار البشائر)
"المغني" الإمام ابن قُدَامة (2/ 243- 244)
"المجموع" الإمام النووي (4/ 504)
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
