مقروض بیٹے کو زکاۃ دینے کا حکم

Egypt's Dar Al-Ifta

مقروض بیٹے کو زکاۃ دینے کا حکم

Question

مقروض بیٹے کو زکاۃ دینے کا کیا حکم ہے؟ ایک شخص پر اپنے مال کی زکاۃ واجب ہوئی ہے، اور اس کا ایک بیٹا ہے جس کے ذمے اقساط کی صورت میں قرض ہے، جبکہ اس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ ان قرضوں کی ادائیگی اور اپنے گزر بسر کے اخراجات پورے کر سکے۔ کیا باپ اپنے مال کی زکاۃ میں سے اپنے بیٹے کو اس کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے دے سکتا ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛

مستحقینِ زکاۃ کو زکاۃ ادا کرنے کی فرضیت کا بیان

اللہ تعالیٰ نے زکاۃ کو مشروع قرار دیا اور اسے اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن بنایا، نیز ہر اس شخص پر اسے فرض قرار دیا جس میں زکاۃ کے وجوب کی شرائط مکمل ہوں، تاکہ معاشرے کے افراد کے درمیان باہمی تعاون اور کفالت کا نظام قائم ہو اور ان طبقات کی ضروریات پوری کی جا سکیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زکاۃ کا مستحق قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ ترجمہ: "زکاۃ تو صرف فقیروں، مسکینوں، زکاۃ وصول کرنے والے کارکنوں کیلئے، ان لوگوں کے لیے ہے جن کی دل جوئی مقصود ہو، غلاموں کی آزادی کیلئے، مقروضوں کیلئے ، اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے فرض کیا ہوا حکم ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے" [التوبہ: 60]۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے وقت فرمایا: ’’انہیں آگاہ کر دینا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور انہی کے فقیروں کو دی جائے گی۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

مقروض بیٹے کو زکاۃ دینے کا حکم

شرعی طور پر یہ بات مسلم ہے کہ زکاۃ دینے والے کے لیے اپنی زکاۃ اپنی اولاد میں سے کسی ایسے فرد کو دینا جائز نہیں جس کا نفقہ اس کے ذمے واجب ہو؛ کیونکہ اس صورت میں اس پر واجب نفقے کی ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔ گویا اس نے اپنی زکاۃ خود ہی کو دے دی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا فائدہ خود اسی کو مل رہا ہے، کیونکہ اس کی وہ ذمہ داری پوری ہو رہی ہے جو اس پر نفقے کی حیثیت سے واجب تھی نہ کہ زکوٰۃ کی حیثیت سے۔ یوں وہ مال اسی کے پاس لوٹ کر آ جائے گا حالانکہ وہ مالدار ہے، جبکہ اس پر لازم ہے کہ زکاۃ ایسے فقراء کو دے جو اس کے ذمے واجب نفقے یا کسی اور ذمہ داری سے بالکل بے تعلق ہوں([1])۔

دوسری طرف مالکیہ، شافعیہ، امام احمد کے ایک قول، اور حنابلہ میں شیخ ابن تیمیہ کے اختیار کردہ قول کے مطابق اولاد کو سہمِ غارمین (مقروضوں کے حصے) میں سے زکاۃ دینا جائز ہے، خواہ وہ ایسے افراد ہی کیوں نہ ہوں جن کا نفقہ زکاۃ دینے والے پر واجب ہو؛ کیونکہ اس صورت میں ان کا زکاۃ کا مستحق ہونا ان کے ’’مقروض‘‘ ہونے کی حیثیت سے ہے، لہٰذا انہیں زکاۃ دینا واجب نفقے کو ساقط کرنے کے مترادف نہیں ہوگا([2])۔

البتہ اس میں کوئی ممانعت نہیں کہ باپ زکاۃ کے علاوہ اپنے بیٹے کو اس کا قرض ادا کرنے میں مدد دے، مثلاً اپنے مال سے اس کا قرض اس نیت سے ادا کر دے کہ یہ ہبہ ہے، یا اس کی طرف سے قرض کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے، یا اس کے تمام معاملات میں اس کی کفالت کرے، یا صدقہ و تبرع کی نیت سے اسے مال دے؛ کیونکہ یہ احسان اور صلۂ رحمی میں شامل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’مسکین کو دیا جانے والا صدقہ صرف صدقہ ہے، جبکہ رشتہ دار کو دیا جانے والا صدقہ دو چیزیں ہے: صدقہ بھی اور صلۂ رحمی بھی۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد، امام ابن ماجہ اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے، اور الفاظ ترمذی کے ہیں، یہ حدیث حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

خلاصہ

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں اور سوال میں بیان کردہ صورت کے مطابق باپ کے لیے اپنے مقروض بیٹے کو اپنے مال کی زکاۃ دینا جائز نہیں؛ کیونکہ دونوں کے درمیان مالی منافع کا باہمی تعلق پایا جاتا ہے اور اس بات کا شبہ موجود ہے کہ زکاۃ کا فائدہ بالآخر خود زکاۃ دینے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس لیے اپنی اولاد کو زکوٰۃ دینا گویا خود اپنے آپ کو زکوٰۃ دینے کے معنی میں ہوگا۔ یہ طریقہ زکوٰۃ کی یقینی طور پر درست ادائیگی کے اعتبار سے زیادہ محتاط ہے اور اس امر کے بھی زیادہ موافق ہے کہ زکوٰۃ مستحقین تک وسیع پیمانے پر پہنچ سکے۔ تاہم اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باپ اپنے ذاتی مال سے اپنے مقروض بیٹے کی مدد نہ کر سکے؛ بلکہ وہ اپنے مال سے اس کا قرض ادا کر سکتا ہے، کیونکہ یہ نیکی اور صلۂ رحمی میں شامل ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

[1] کاسانی، بدائع الصنائع، جلد 2، ص 49؛ نووی، المجموع، جلد 6، ص 229؛ ابن المنذر، الإجماع، ص 48؛ مرغینانی، الہدایہ، جلد 1، ص 111؛ زیلعی، تبیین الحقائق، جلد 1، ص 301؛ حدادی، الجوہرة النیرہ، جلد 1، ص 129؛ مرداوی، الإنصاف، جلد 7، ص 287؛ بہوتی، کشاف القناع، جلد 2، ص 290۔

[2] دردیر، الشرح الکبیر مع حاشیۃ الدسوقی، جلد 1، ص 499؛ دسوقی، حاشیۃ الدسوقی علی الشرح الکبیر، جلد 1، ص 499؛ نووی، المجموع، جلد 6، ص 229؛ ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، جلد 25، ص 92؛ سیوطی، الأشباه والنظائر، ص 136۔

Share this:

Related Fatwas