میلادِ نبوی شریف کے موقع پر باہمی مبارک باد دینے کا حکم
Question
میلادِ نبوی شریف کے موقع پر الیکٹرانک وسائل کے ذریعے ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کا کیا حکم ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ میلاد النبی شریف کی خوشی منانا بہترین اور عظیم ترین اعمال میں سے ہے؛ کیونکہ اس میں ہمارے آقا و مولا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری پر خوشی کا اظہار ہوتا ہے، جو تمام مخلوق کے لیے عظیم ترین رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾ ترجمہ: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ [الأنبياء: 107]
امام قشیری نے لطائف الإشارات (2/526، طبع: الهيئة المصرية العامة للكتاب) میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’رہے وہ لوگ جو ایمان لائے، تو آپ کے ذریعے نجات پائیں گے، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، تو جب تک آپ ان میں موجود ہیں ہم انہیں عذاب نہیں دیں گے؛ پس آپ ہماری جانب سے تمام مخلوق کے لیے رحمت ہیں۔‘‘
مبارک باد سے مراد ایسا پیغام یا کلمات ہیں جن میں مخاطَب کے لیے یہ دعا اور خواہش ہو کہ اسے پیش آنے والا نیا امر اس کے لیے خوشی اور مسرت کا باعث ہو، جیسا کہ المعجم الوسيط (2/996، مادہ: هـ ن أ، طبع: دار الدعوة) میں بیان کیا گیا ہے۔
اور نعمتوں کے حاصل ہونے، خوشیوں کے مواقع اور خیر و برکت کے ایام میں مبارک باد دینا مطلقاً جائز و مشروع ہے؛ کیونکہ یہ نیکی کی ایک صفت ہے اور لوگوں کے درمیان باہمی محبت، الفت اور رحمت و شفقت کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت عظیم ترین خوشیوں اور سب سے بڑی نعمتوں میں سے ہے، اس لیے اس مبارک موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا بدرجۂ اولیٰ مشروع اور زیادہ مستحق ہے۔
علامہ خطیب شربینی نے ’’الإقناع‘‘ (1/188، طبع: دار الفكر) میں فرمایا: ’’عام طور پر مبارک باد دینے کے جواز کے لیے اس بات سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ کسی نعمت کے حاصل ہونے یا کسی مصیبت کے دور ہونے پر شکر کا سجدہ اور تعزیت مشروع ہے، نیز صحیحین میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعۂ توبہ کے ضمن میں مروی ہے کہ جب انہیں غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ جانے کے بعد اپنی توبہ قبول ہونے کی خوش خبری ملی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گئے تو حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں مبارک باد پیش کی۔‘‘
علامہ حجاوی نے ’’الإقناع‘‘ (1/203، طبع: دار المعرفة) میں فرمایا: ’’لوگوں کا آپس میں ان دعاؤں کے ذریعے ایک دوسرے کو مبارک باد دینا، جو ان کے درمیان معروف اور رائج ہوں، جائز ہے۔‘‘
فقہاء نے مبارک باد دینے کے لیے کسی خاص طریقے کی شرط نہیں لگائی؛ لہٰذا ہر ایسے قول یا فعل کے ذریعے مبارک باد دینا جائز ہے جو شرعاً جائز ہو اور اس موقع کے اظہار کے لیے موزوں ہو۔ خواہ مصافحہ اور خوش روئی کے ذریعے ہو، اچھے کلمات کہہ کر ہو یا خیر کی دعا کے ذریعے ہو؛ خواہ بالمشافہ ہو یا تحریری صورت میں، یا اشارے کے ذریعے ہو؛ اور چاہے حقیقی طور پر ملاقات کر کے دی جائے یا الیکٹرانک وسائل کے ذریعے سے دی جائے۔
لہٰذا مذکورہ سوال کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ عمومی طور پر خوشی کے مواقع پر مبارک باد دینا شرعاً جائز ہے، جبکہ خصوصاً میلادِ نبوی شریف کے موقع پر مبارک باد دینا مستحب ہے؛ کیونکہ میلادِ نبوی شریف کی عظمت اور اس موقع کی خوشی منانے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ اس لیے خواہ مبارک باد براہِ راست دی جائے یا الیکٹرانک ذرائع سے پیغام، اسٹیکر یا کسی اور طریقے کے ذریعے پہنچائی جائے، سب جائز اور مشروع ہیں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
